جاوید غامدی کے علمی تفردات – زاہد الراشدی

 میں غامدی صاحب کو حضرت مولانا حمید الدین فراہیؒ کے علمی مکتب فکر کا نمائندہ سمجھتا ہوں۔ اور مولانا فراہیؒ کے بارے میں میری رائے وہی ہے جو حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ کی ہے، البتہ امت کے جمہور اہل علم کے علی الرغم ان کے تفردات کو میں قبول نہیں کرتا۔ اور غامدی صاحب سے میں نے یہی عرض کیا ہے کہ علمی تفردات کو اس انداز سے پیش کرنا کہ وہ امت کے اجتماعی علمی دھارے سے الگ کسی نئے مکتب فکر کا عنوان نظر آنے لگیں، امت میں فکری انتشار کا باعث بنتا ہے۔ اور اگر اس پر اصرار کیا جائے تو اسے عالمی فکری استعمار کی ان کوششوں سے الگ کر کے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے جو ملت اسلامیہ کو ذہنی انتشار اور فکری انارکی سے دوچار کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہیں۔

اپنی بات کی مزید وضاحت کے لیے عرض کرنا چاہوں گا کہ کچھ عرصہ قبل ایک صاحب علم دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ علمی تفردات میں مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کے تفردات علماء کے حلقہ میں اس شدت کے ساتھ موضوع بحث نہیں بنے جس شدت کے ساتھ مولانا مودودیؒ کے افکار کو نشانہ بنایا گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا سندھیؒ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے علمی تفردات پر ان کے شاگردوں اور معتقدین نے دفاع اور ہر حال میں انہیں صحیح ثابت کرنے کی وہ روش اختیار نہیں کی جو خود مولانا مودودیؒ اور ان کے رفقاء نے ان کی تحریروں پر علماء کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات پر اپنا لی تھی۔ چنانچہ اس روش کے نتیجہ میں وہ جمہور علماء کے مد مقابل ایک فریق کی حیثیت اختیار کرتے چلے گئے اور بحث و مباحثہ کا بازار گرم ہوگیا۔

اس حوالہ سے قریبی زمانہ میں سب سے بہتر طرز عمل اور اسوہ میرے نزدیک حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ہے جنہیں جب بھی ان کی کسی رائے کے غلط ہونے کے بارے میں دلیل کے ساتھ بتایا گیا تو انہوں نے اس سے رجوع میں کبھی کوئی عار محسوس نہیں کی۔ بلکہ ایک روایت کے مطابق آخر عمر میں انہوں نے علماء کے ایک گروپ کے ذمہ لگا دیا تھا کہ وہ ان کی تصانیف کا مطالعہ کر کے ایسی باتوں کی نشاندہی کریں جو ان کے نزدیک سلف صالحینؒ اور جمہور اہل علم کے موقف سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تاکہ وہ ان پر نظر ثانی کر سکیں۔

یہ بات عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ’’اصول پرستی‘‘ کی کچھ حدود ہیں اور اصول قائم کرتے وقت ان کے عملی اطلاق کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے ورنہ مسائل سلجھنے کی بجائے مزید الجھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اصول کی درجہ بندی بھی ہے۔ وہ اصول جو قرآن و سنت میں قطعیت اور صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں وہ تو قطعی ہیں اور ان کی پابندی سے کوئی بھی شخصیت مستثنیٰ نہیں ہے۔ مگر جو اصول اہل علم نے استنباط اور استدلال کے ذریعہ خود وضع کیے ہیں ان کو قطعیت کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ اس لیے کسی بھی شخصیت یا حلقہ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنے وضع کردہ اصولوں کو پوری امت کے لیے حتمی قرار دے کر امت کے تمام طبقات کو ان پر پرکھنا شروع کر دے۔