اقبال کی طبعیت میں تشیع

اقبال نے اپنی نظم “زہد اور رندی” میں مولوی صاحب کی زبان سے اپنے بارے میں کہلوایا ہے

ہے اس کی طبعیت میں تشیع بھی ذرا سا

تفضیلِ علی میں نے سنی اس کی زبانی

اقبال کی طبعیت میں یہ جو “ذرا سا تشیع” تھا یا لوگوں کو محسوس ہوتا تھا، اس کی کئی وجوہات تھی۔ اقبال کی اپنی ذہنی وسعت، ذہانت اور روشن خیالی تو تھی ہی جو مختلف فکری دھاروں اور عقیدوں کی تطبیق کرلیتی تھی، اس کے ساتھ ساتھ آپ کے والدِ گرامی کا بھی اثر رہا ہوگا جو پرانی طرز کے صوفی انسان تھے اور صوفیاء کے ہاں تاجدارِ ولایت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے عقیدت و محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

اقبال اپنے استاد مولوی میر حسن سے بھی بہت متاثر تھے۔ مولوی میر حسن تصوف سے زیادہ سیدّ احمد خان اور علی گڑھ تحریک سے متاثر تھے، بلکہ سیالکوٹ اور پنجاب میں اس تحریک کی نمائندگی کرتے تھے۔ سرسیدّ کی “وہابیت” کی وجہ سے مولوی میر حسن کو بھی وہابی سمجھا جاتا تھا، لیکن مولوی صاحب خاندانی طور پر سیدّ تھے اور تفضیلِ علی کے قائل سنّی تھے، یعنی چاروں خلفاء کو برحق مانتے تھے اور سب صحابہ سے عقیدت و محبت رکھتے تھے لیکن مولا علی کو سب سے افضل سمجھتے تھے۔

ایک دور میں حکیم نور الدین بھی مولوی میر حسن کے دوستوں میں سے تھے۔ حکیم صاحب فاروقی النسل تھے۔ ایک دن حکیم نور الدین کسی رو میں مولوی میر حسن سے کہنے لگے کہ ہمارے جدِ امجد نے تو کہا تھا کہ “ہمارے لیے قرآن کافی ہے”۔ مولوی میر حسن کی حاضر جوابی مشہور تھی۔ فوراً جواب دیا کہ آپ کے ہی جدِ امجد نے کہا تھا کہ “علی رض نہ ہوتا تو عمر رض ہلاک ہوجاتا”۔ گویا جن کے لیے قرآن کافی ہے انہیں بھی علی کی ضرورت پڑتی ہے۔

اقبال کے بچپن میں سیالکوٹ یوں بھی مذہبی مباحث کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ مسلم مسیحی اور شیعہ سنی مناظرے عام تھے۔ اس جذباتی ماحول میں بعض مسلمان جذباتی ہو کر سیدّنا عیسیٰ مسیح علیہ السلام اور بعض سنّی حد سے بڑھ کر مولا علی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرجاتے تھے اور جب پکڑ ہوتی تو کہتے کہ “ہم تو اُن کے عیسیٰ کی بات کرتے ہیں” یا “ہم تو اُن کے علی کا ذکر کررہے تھے”۔ نوعمر اقبال جہاں اپنے سکول میں مسیحی مبلغین سے بحث کیا کرتے تھے وہیں ایسے مسلمان اور تنگ نظرسنّی مولویوں سے بھی الجھ پڑتے تھے۔ محلے کے نواصب کو چڑانے کے لیے تو انہوں نے اپنے بھتیجوں کے نام تبدیل کرکے اہلبیتِ اطہار پر رکھنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ مولا علی علیہ السلام اور اہلبیت اطہار سے والہانہ عقیدت و محبت البتہ آپ کے مزاج میں ایسی رچ بس گئی تھی کہ آخری عمر تک آپ اپنی شاعری میں اس کا بے مثال اظہار کرتے رہے۔

احمد الیاس