اصل تاریخ پاکستان جو ہماری نسل سے چھپا لی گئی

پاکستان میں پہلی دھاندلی 1965 کے صدارتی الیکشن میں فوج، بیوروکریٹس، پیروں اور وڈیروں کے گٹھ جوڑ سے ہوئی جس کے بعد حق سچ کا ساتھ دینے والے کتنے ہی لوگ جنہوں نے پاکستان کیلئے سب کچھ قربان کر دیا تھا غدار کہلائے۔ اور کیسے کیسے لوگ معتبر بن بیٹھے۔

صدارتی الیکشن۔ 1965 وہ سیاہ دن تھا جب کتّا کنویں میں گرا تھا جسے آج تک نہیں نکالا جا سکا بس ضرور تاً چند ڈول پانی نکال کر ہر کوئی اپنا راستہ ہموار کر لیتا ہے۔

فساد کی ماں 1965 کے صدارتی الیکشن پر اب کوئی بات بھی نہیں کرتا اور نہ انکے بارے میں کچھ لکھا جاتا ہے کہ نئی نسل کو آگہی ہو کہ کیسے اس الیکشن نے پاکستان کی تباہی کی بنیاد رکھی، کیسے اس نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں جلتی پر تیل کا کردار ادا کیا اور باقی ماندہ پاکستان پر اک ایسی رجیم مسلّط کر دی جس نے یہاں کبھی جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا۔

1965 کے صدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود فیلڈ مارشل ایوب خان نے کی جو پہلے الیکشن بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کروانے کا اعلان کر کے مُکر گئے۔

یہ اعلان 9 اکتوبر 1964 کو ہوا مگر مادر ملت فاطمہ جناح کے امیدوار بننے اور ایوب خان کے خلاف میدان میں اترنے کے بعد یہ اعلان صدرِ پاکستان کا نہیں ایوب خان کا انفرادی ‏اعلان ٹھہرا

اور سازش کےتحت یہ ذمہ داری حبیب اللہ خان پر ڈالی گئی۔ یہ پاکستان کی پہلی پری پول دھاندلی تھی۔

کابینہ اجلاس میں تو وزراء نے خوشامد کی انتہا کر دی حبیب اللّہ خان نے فاطمہ جناح کو ایبڈو کرنےکی تجویز دی، اگر یہ تجویز منظور کر کے مس فاطمہ جناح کو غدّار قرار دے دیا جاتا تو پاکستان کی تاریخ کا بھیانک سانحہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وحید خان نےجو وزیر اطلاعات اور کنویشن لیگ کےجنرل سیکرٹری تھے تجویز دی کہ ایوب

‏کو تاحیات صدر قرار دینےکیلئے ترمیم کی جائے ایوب خان کے منہ بولے بیٹے ذوالفقار بھٹو نے مس جناح کو بڑھیا اور ضدی کے القابات سے نوازا۔

دوسری طرف جماعت اسلامی کے مولاناابوالاعلی مودودی، سندھ سے جی ایم سید اور صوبہ سرحد سے خان عبدالغفار خان نے جبکہ مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب نے کھل کر فاطمہ جناح کی حمایت کی۔

‏پنجاب کے تمام سجادہ نشینوں نے سوائے پیر مکھڈ تحصیل پنڈی گھیب کے صفی الدین کے فاطمہ جناح کے خلاف فتویٰ دیا۔

ایوب خان کی انتظامی مشینری نے دھاندلی کا منصوبہ ترتیب دیا اور الیکشن تین طریقوں سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔

پہلا مذھبی سطح پر

جس کےانچارج پیر آف دیول شریف تھے جنہوں نےمس جناح کے خلاف فتوے نکلوائے۔

دوسرا انتظامی سطح پر

چونکہ 62 کےآئین کے تحت ایوب خان کو یہ سہولت میسر تھی کہ وہ تب تک صدر رہ سکتے تھے جب تک انکا جانشین نہ منتخب ہو جائے۔ لہذا اک حاضر سروس طاقتور صدر کے حق میں پوری سرکاری مشینری استعمال کی گئی۔ جسکا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی الیکشن سرکاری ملازمین کے دباؤ سے جیتے جاتے ہیں۔

*تیسری سطح پر*

مس جناح کے حامیوں پر جھوٹے مقدمات درج کئے گئے۔ عدالتوں سے ‏انکے خلاف فیصلے لئے گئے

اور یہی عدلیہ کے تابوت میں پہلی اور آخری کیل ثابت ہوئی جو آج تک ٹھکی ھوئی ہے۔

سندھ کےتمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کے ساتھ ھو گئے تھے۔

بھٹو فیملی، جتوئی فیملی، محمدخان جونیجو فیملی، ٹھٹھہ کے شیرازی، خان گڑھ کےمہر

نواب شاہ کےسادات، بھر چونڈی۔۔ رانی پور

‏ہالا کے اکثر پیران کرام، ایوب خان کے ساتھ تھے

سوائے کراچی میں گہری جڑیں رکھنے والی جماعت اسلامی، اندرون سندھ سے جی ایم سید، حیدر آباد کے تالپور برادران، بدین کے فاضل راہو اور رسول بخش پلیجو مس جناح کے حامی تھے۔ تاریخ کا جبر دیکھیں یہی لوگ بعد میں پاکستان کے غدار بھی ٹھہراےُ گئے۔

پنجاب کے تمام گدّی نشین اور صاحبزادگان و سجادہ نشین سوائے پیر مکھڈ شریف تحصیل پنڈی گھیب ضلع اٹک کے صفی الدین کے،

باقی سب ایوب خان کے ساتھ ھو گئے تھے.

سیال شریف کے پیروں نے تو فاطمہ جناح کے خلاف فتوی بھی دیا تھا۔

پیر آف دیول نے داتا دربار پر مراقبہ کیا اور فرمایا کہ داتا صاحب نےحکم دیا ہے ایوب خان کو کامیاب کیا جائے ‏ورنہ خدا پاکستان سے خفا ہو جائے گا۔

آلو مہار شریف کے صاحبزادہ فیض الحسن نے عورت کے حاکم ہونے کے خلاف فتوی جاری کیا

مولانا عبدالحامد بدایونی صدر جمعیت علماء پاکستان نےفاطمہ جناح کی نامزدگی کو شریعت سے مذاق اور ناجائز قرار دیا

مولانا حامد سعید کاظمی کے والد علامہ احمد سعید کاظمی نے ‏ایوب خان کو ملت اسلامیہ کی آبرو قرار دیا.

یہ وہ لوگ تھے جو دین کےخادم ہیں.

لاھور کے میاں معراج الدین نے فاطمہ جناح کے خلاف جلسہ منعقد کیا جس سے مرکزی خطاب عبدالغفار پاشا اور وزیر بنیادی جمہوریت نے کیا.

معراج الدین نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کا الزام لگایا. موصوف ‏وزیر صحت یاسمین راشد کے سسر تھے۔

گجرانوالہ کےغلام دستگیر نے مس جناح کی تصویریں کتیا کے گلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں جلوس نکالے.

میانوالی کی ضلع کونسل نے فاطمہ جناح کے خلاف قرار داد منظور کی۔

مولانا غلام غوث ہزاروی سابق ناظم اعلی مجلس احرار اور مرکزی رہنماء جمعیت علمائےاسلام ‏نے کھل کر ایوب خان کی حمایت کا اعلان کیا اور دعا بھی کی۔

پیر آف زکوڑی نے فاطمہ جناح کی نامزدگی کو اسلام سے مذاق قرار دیکر عوامی لیگ سے استعفی دیا۔ اور ایوب کی حمایت کا اعلان کیا.

دوسری طرف جماعت اسلامی

کے امیر مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا ایک جملہ زبان زد عام ہو گیا

ایوب خان میں ‏اسکے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہیں اور فاطمہ جناح میں اسکے سوا کوئی کمی نہیں کہ وہ عورت ہیں۔

بلوچستان میں مری سرداروں اور جعفر جمالی ظفر اللہ جمالی کے والد صاحب کو چھوڑ کر

سب فاطمہ جناح کے خلاف تھے.

قاضی محمد عیسی جسٹس فائز عیسی کےوالد مسلم لیگ کا بڑا نام ‏بھی فاطمہ جناح کے مخالف اور ایوب خان کے حامی تھے

انہوں نے کوئٹہ میں ایوب خان کی مہم چلائی

حسن محمود نے پنجاب اور سندھ کے روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پر راضی کیا

پورا مشرقی پاکستان غدار ٹہرا کہ وہ سب مس جناح کے ساتھ تھے.

خطۂ پوٹھوہار کے تمام بڑے گھرانے اور سیاسی لوگ ایوب خان کے ساتھ تھے.

‏برئگیڈئر سلطان والد چودھری نثار، ملک اکرم دادا امین اسلم، ملکان کھنڈا۔ کوٹ فتح خان۔

پنڈی گھیب۔ ایوب کے ساتھ تھے اسکی وجہ یہاں کے سب لوگ فوج سے وابستہ تھے سوائے چودھری امیر اور ملک نواب خان کے جن کو الیکشن کے دو دن بعد قتل کر دیا گیا۔

شیخ مسعود صادق نےایوب خان کی لئے وکلاء

‏کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئی لوگوں نےانکی حمایت کی، پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے.

اسکے علاوہ میاں اشرف گلزار بھی فاطمہ جناح کےمخالفین میں شامل تھے

صدارتی الیکشن۔ 1965 کے دوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سے پریشان تھے

ان میں سرفہرست سید ابوالاعلی مودودی،

‏شوکت حیات، خواجہ صفدر والد خواجہ آصف

چودھری احسن والد اعتزازاحسن، خواجہ رفیق والد سعد رفیق، کرنل عابد امام والد عابدہ حسین اور علی احمد تالپور شامل تھے یہ لوگ آخری وقت تک فاطمہ جناح کےساتھ رہے

صدارتی الکشن کے دوران فاصمہ جناح پر پاکسان توڑنے کا الزام بھی لگا

یہ الزام ZA- سلہری نے ‏اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جسمیں مس جناح کی بھارتی سفیر سے ملاقات کا حوالہ ديا گیا تھا

یہ بیان کہ قائداعظم تقسیم کےخلاف تھے یہ وہی تقسیم تھی جسکا پھل کھانے کیلئے آج سب اکٹھے ہوئے تھے.

یہ اخبار ہر جلسے میں لہرایا گیا۔ ایوب اسکو لہرا لہرا کر مس جناح کو غدار کہتے رہے.

پاکستان کا مطلب کیا

‏لا الہ الا اللّہ

جیسی نظم لکھنے والے اصغر سودائی ایوب خان کے قصیدے اور ترانے لکھتے تھے.

اوکاڑہ کےایک شاعر ظفر اقبال نے چاپلوسی کے ریکارڈ توڑ ڈالے یہ وہی ظفراقبال ہیں جو بعد میں اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتے رہے۔

سرور انبالوی و دیگر کئی شعراء اسی کام میں مصروف تھے

دوسری طرف حبیب جالب، ‏ابراھیم جلیس میاں بشیر فاطمہ جناح کے جلسوں کے شاعر تھے۔ جالب نے ان جلسوں سے اپنے کلام میں شہرت حاصل کی.

میانوالی جلسے کے دوران جب گورنر امیر خان کے غنڈوں نے فائرنگ کی تو فاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہو گئیں.

اسی حملےکی یادگار

*بچوں پہ چلی گولی۔*

*ماں دیکھ کے یہ بولی* نظم ہے

فیض صاحب خاموش حمائتی تھے

‏چاغی۔ لورالائی، سبی، ژوب، مالاکنڈ، باجوڑ، دیر، سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی، دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبزباغ، سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔

سارا اردو اسپیکنگ طبقہ جو جماعت اسلامی کی طاقت تھا فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہا.

انکو کراچی سے 1046 ایوب خان کو 837 ووٹ ملے

‏مشرقی پاکستان مس جناح کےساتھ تھا

فاطمہ جناح کو ڈھاکہ سے 353 اور ایوب خان کو 199 ووٹ ملے

جسکی سزا اسٹیبلشمنٹ نے یہ دی کہ انہیں دو نمبر شہری اور پاکستان سےالگ ہونے پر مجبور کر دیا گیا

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب خان اور مس فاطمہ کے ووٹ برابر تھے

مس جناح کےایجنٹ ایم حمزہ تھے اور اے- سی جاوید قریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے

‏مس جناح کو کم ووٹوں سے شکست اکیلی عورت

فوج، بیوروکریٹ، پیروں، وڈیروں، جاگیر داروں سےمقابلہ کر رہی تھی

جہلم سے ایوب کے82 اور مس جناح کے67 ووٹ تھے

اس الیکشن میں جہلم کےچودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کے دھمکانے کے بعد پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ جہلم کےنتیجے پر دستخط کیلئے

‏مس جناح کے پولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے

اسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہی

اس الیکشن میں مس فاطمہ جناح نہیں ہاری بلکہ جمہوریت ہار گئی. پاکستان ہار گیا۔۔۔۔ جو محبِ وطن اور جان نثار تھے غدّار ٹہرے اور اسمبلیوں اور ایوانوں سے ان کا خاتمہ ہو گیا۔ ابن الوقت اور چاپلوسی کرنے والے معتبر ٹہرے اور آج بھی اسمبلیوں میں انہی ‏کی اولادیں موجود ہیں

اس کے بعد پاکستان کی عوام نےکوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا

*حوالے کیلئے دیکھئے*

ڈکٹیٹرکون۔۔ ایس-ایم-ظفر

میرا سیاسی سفر۔۔ حسن محمود

فاطمہ جناح۔۔ ابراھیم جلیس

مادرملت۔۔ ظفرانصاری۔

فاطمہ جناح۔۔ حیات وخدمات۔۔ وکیل انجم

اور کئی پرانے اخبارات

منقول