ایران اور تاریخ اسلام

ہمارے ہاں (بلکہ پوری دنیا میں ہی) ایک مغالطہ یہ بھی ہے کہ ایران چونکہ ایک عظیم الشان سلطنت تھی اور مسلمانوں نے اسے ختم کردیا لہٰذا ایرانیوں میں ایک رنجش اور ملال پیدا ہوگیا جس کا نتیجہ ان کی علیحدہ مسلکی شناخت اور نتیجتہً علیحدہ سیاسی گروپنگ کی صورت نکلا۔ سننے میں تو یہ تھیوری بہت تگڑی لگتی ہے اور بڑے معقول لوگ بھی اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن تاریخ پر تھوڑا غور کریں تو ہے بہت غلط۔

شروع سے شروع کریں تو سیدنا عثمان رضی اللہٰ عنہ کے خلاف جو تحریک چلی، اس کا مرکز بھی کوفہ کے ساتھ ساتھ مصر تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللٰہ کو شہید کرنے والے بھی مصری باغی ہی تھے نہ کہ ایرانی۔ کوفہ کے مضافات میں ایرانی دیہات ضرور تھے لیکن کوفہ خود کوئی ایرانی شہر نہیں تھا بلکہ وہاں سیدنا عمر فاروق رضی اللہٰ عنہ نے عرب فوجیوں کو ہی آباد کیا تھا اور وہ عرب شہر ہی تھا۔ اس کے بعد تشیع کے رجحانات صرف کوفہ میں نہیں بلکہ پوری اسلامی سلطنت میں ہی تھے۔ پہلی شیعہ حکومت مراکش کے علاقے میں ادریسی خلافت تھی جو عباسیوں کے ابتدائی دور میں ہی قائم ہوگئی۔ جزیرہ نمائے عرب پر یمن بھی شیعوں کا بڑا گڑھ تھا (اور ہے)۔ اسی طرح قرون وسطیٰ کی سب سے شاندار شیعہ سلطنت فاطمی سلطنت تھی جو مصر کی تھی۔

ایران اس سارے دور میں تسنن بالخصوص تصوف کا گڑھ تھا۔ اہلسنت کے ائمہ احادیث (بشمول امام بخاری و امام مسلم) تہذیبی، نسلی اور لسانی طور پر ایرانی تھے۔ امام اعظم امام ابوحنیفہ کا خاندان بھی ایرانی تھا۔ امام غزالی، شیخ عبدالقادر جیلانی، معین الدین چشتی، بہاالدین نقشبند بخاری، شہاب الدین سہروردی، عبداللہٰ ہراتی ۔۔۔ غرضیکہ صحابہ و تابعین کے بعد اہلسنت کے اکثر بڑے بڑے بزرگان ایرانی تھے۔ آٹھ سو سال تک مسند خلافت پر براجمان رہنے والی عباسی خلافت ایک سنیّ خلافت تھی جو تہذیبی طور پر ایرانی ہوچکی تھی اور اس کے وزراء، مشیران، حکماء، جرنیل ۔۔۔ اکثر و بیشتر ایرانی تھے۔ اسی طرح ایرانِ عظمیٰ میں جو بے شمار سلطنتیں طاہری، سامانی، سفاری، غزنوی، غوری وغیرہ اٹھیں، ان کی کثیر اکثریت سنّی تھی۔ اگر قرون وسطیٰ کی کلاسیکی فارسی شعراء کی فہرست اٹھائی جائے تو رودکی، سعدی، عطار، رومی، حافظ، جامی، نظامی تک ۔۔۔ کثیر اکثریت سنی ہے (واحد مشہور شیعہ شاعر غالباً فردوسی ہے)۔

یوں ایران تقریباً ایک ہزار سال تک ایک ٹھیٹھ سنیّ ملک بلکہ سنیّ اسلام کا گڑھ اور تہذیبی و فکری و مذہبی پاور ہاؤس تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کی کثیر اکثریت سنّی ہے اور ہم نے یہ تسنن عربوں سے نہیں بلکہ ایرانیوں سے سیکھا ہے کیونکہ برصغیر کے زیادہ تر علاقوں میں اسلام عرب نہیں بلکہ ایرانی لائے ہیں۔

ایران کو شیعہ ہوئے تو ابھی بمشکل پانچ صدیاں ہوئیں ہیں۔ اور اس کے شیعہ ہونے کی وجوہات بھی مؤرخین یہ بتاتے ہیں کہ مغلوں اور عثمانیوں کی ہم عصر صفوی سلطنت نے جبراً لوگوں کو شیعہ بنایا تھا۔ اس دور میں بے شمار سنیّ ایرانی جان بچا کر برصغیر بھی آئے جس سے یہاں کے مسلم کلچر کو بہت فائدہ ہوا۔

شام اور لبنان آج بھی بڑی بڑی شیعہ آبادیاں رکھتے ہیں۔ بلکہ شام کے شیعہ تو نصیریت کی حد تک پہنچے ہوئے ہیں۔ یہ ملک تو ایران کی دشمن رومی سلطنت کا حصہ تھے اور وہاں کے لوگ اسلام سے قبل بھی لوگ ایران کے حوالے سے دشمنی کے جذبات رکھتے تھے اور اسلام کے بعد بھی شام بنو امیہ کا گڑھ تھا اور شامی اموی بادشاہوں سے بے حد وفادار تھے۔ اگر تشیع کا تعلق ایران کی قوم پرستی سے ہی ئے تو پھر ان علاقوں میں تشیع کیسے پھیل گیا ؟

گویا سننے میں یہ تھیوری چاہے کتنی ہی مضبوط لگتی ہو، تاریخ کے آئینے میں یہ تھیوری پھسپھسی ہی ہے۔ ایرانی لوگ ایرانی سلطنت میں بھی اسی طرح پسے ہوئے تھے جس طرح دیگر مفتوحہ علاقوں کے لوگ اور انہوں نے بھی اسی نیک نیتی اور خلوص سے اسلام قبول کیا تھا جس طرح دیگر علاقوں کے لوگوں نے۔ بلکہ انہوں نے تو سنّی اسلام کی دیگر کسی بھی خطے کے لوگوں سے بڑھ کر خدمت کی ہے۔ شیعہ ہونے کے بعد تو ایران کی اہمیت نسبتاً بہت کم ہوگئی ہے۔ اگر ایران قرون وسطیٰ کی طرح سنّی ہی ہوتا تو غالباً آج عالم اسلام کا مسلمہ لیڈر ہوتا۔

– احمد الیاس