ثار اللہ

ثار اللہ کا مطلب ہے خدا کا خون، یہ امام حسین علیہ السلام کے لقاب میں سے ایک ہے۔ عاشورہ کی زیارت میں انہیں اس لقب سے پکارا گیا۔

زیارت عاشورا میں ارشاد ہوا:

السَّلاَمُ عَلَیكَ یا ثَارَ اللهِ وَ ابْنَ ثَارِهِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ

آپ پر سلام ہو اے خون خدا اور خون خدا کے فرزنداور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے

میرزا ابو الفضل طہرانی نے زیارت عاشورا کی شرح کتاب شِفاء الصُدور میں ثار اللہ کے لئے پانچ احتمال ذکر کیا ہے:

ثار اللہ اصل میں «اہل ثاراللہ» ہے۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اس قابل ہے کہ خداوند متعال خود اس کے خون کے انتقام کے لئے اقدام کرے۔

وہ مقتول جس کا منتقم خود خداوند متعال ہے۔

ثار اللہ اصل میں “الثائر للہ” ہے اس صورت میں ثار اللہ اس فرد کے معنی میں ہے جس نے خدا کی راہ میں اور خدا کے لئے، خونخواہی کی ہے۔

ثار اللہ بعض دوسرے الفاظ جیسے عین اللہ (اللہ کی آنکھ) اور ید اللہ (اللہ کا ہاتھ) کی طرح مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اللہ کا خون۔

“ثار” سے مراد “طلب شدہ خون” ہے، اس صورت میں اس لفظ کا اللہ کی طرف اضافہ، اس لحاظ سے ہے کہ “اللہ اس خون کا حقیقی ولی و وارث ہے

آیت اللہ سيّد علي حسيني خامنہ اي لکھتے ہیں:

تمام آثار اسلامي ميں دو ذِوات مقدسہ ہيں جن کو ’’ثاراللہ‘‘سے تعبير کيا گيا ہے البتہ فارسي زبان ميں ہمارے پاس اس عربي لغت کے لفظ ’’ثار‘‘ کا متبادل نہيں پايا جاتا جس کو ہم پيش کر سکيں عربي میں اس وقت لفظ’’ ثار‘‘ استعمال ہوتا ہے جب کسي خاندان کا کوئي فرد ظلم و ستم کي وجہ سے قتل کر ديا جاتا ہے تو اس وقت مقتول کا خاندان صاحب خون ہوتا ہے اسي کو ’’ ثار‘‘کہتے ہيں کہ يہ خاندان خونخواہي کا حق رکھتے ہيں،اگر خون خداکا معنيٰ کہيں سنائي بھي ديتا ہے تو يہ ’’ثار‘‘ کي ناقص اور بہت نارسا تعبير ہے ،پوري طرح مفہوم اس سے نہيں پہنچتا ،تاريخ اسلام ميں دو لوگوں کا نام آيا ہے کہ جن کے خون خواہي کا حق خدا کو ہے،اس ميں ايک امام حسين عليہ السلام کي ذات گرامي ہے اور دوسري شخصيت اميرالمومنين علي عليہ السلام جو کہ حضرت سيد الشہدا کے والد ہيں’’ياثار اللہ و ابن ثارہ ‘‘ يعني آپ کے پدر بزرگوار کي خون خواہي کا حق بھي خداوند کريم کو ہے۔

(شخصیت امیرالمومنین حضرت امام علي عليہ السلام)

مرید عباس