ذہن کی بَک بَک کیسے ختم کریں؟

حافظ محمد شارق

جدید دور کا انسان نفسیاتی اعتبار سے طرح طرح کے مسائل کا شکار ہے اور ان مسائل کی وجہ سے ہمارے ذہن میں بپا ایک طوفان اور انتشار ہے۔ ہمارا ذہن ہر وقت کچھ نہ کچھ بولتا ہی رہتا ہے، چلتے پھرتے، سوتے، جاگتے، جب بھی ہمیں دو لمحے میسر آجائیں یہ ذہن اپنی گفتگو شروع کردیتا ہے۔ آپ نے کبھی سڑک پر کسی پاگل کو دیکھا ہوگا جو راہ چلتے خود سے ہی چیخ چیخ کر باتیں کر رہا ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم اور اُس پاگل شخص میں صرف اتنا سا فرق ہے کہ وہ اپنے آپ سے چیخ کر آواز سے باتیں کرتا ہے اور ہم اندر ہی اندر خاموشی سے خود کلامی کرتے رہتے ہیں۔ یہ باتیں زیادہ تر ماضی اور مستقبل سے تعلق رکھتی ہیں اور حال جس میں ہم جی رہے ہوتے ہیں اسے ہم غیرارادی طور پر ہی ٹھکرا دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے علم نہ ہونے کے سبب ہم میں سے اکثر تو اسے کوئی ’’مسئلہ‘‘ ہی نہیں سمجھتے، حالانکہ ذہن کی بے جا خود کلامی انسان کو ڈپریشن اور Anxiety (بے جا فکرمندی) میں مبتلا کردیتی ہے۔ ہمارا حافظہ کمزور کرنے، ہماری تخلیقی صلاحیتوں گھٹانے، ہمارا کام کی رفتار اور Productivity کو کم کرنے میں اس عمومی مسئلے کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے ذہن پر قابو پاکر اسے خاموش کرلیں، اس کی بے جا بَک بَک کو بند کردیں تو ہمارا ذہن ایک پرمسرت سکون کی کیفیت حاصل کرلیتا ہے اور پھر نہ صرف ہمارا ذہن بہتر کام کرنے لگتا ہے م بلکہ وقت کی Productivity اور کئی حیرت انگیز نتائج بھی شخصیت پر مرتب ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ محض آپ اپنے ذہن کی بَک بَک کو ختم کردیں تو آپ کی زندگی ایک نئے رخ پر گامزن ہوسکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ذہن کی سوچیں (Overthinking) کس طرح ختم کی جاسکتی ہے؟

تو اس کے لیے باقاعدہ کچھ Therapies ہوتی ہیں جن کی مدد سے یہ انتشار ختم کیا جاتا ہے۔ یہ لگ بھگ ڈیرھ دو ماہ کی ٹریننگ ہوتی ہے جس میں ہم مختلف مشقیں کرکے اپنے ذہن کو اپنے قابو میں کرنا سیکھتے ہیں اور Overthinking کے مسئلے سے نجات پاتے ہیں۔ تاہم کچھ تین بنیادی تدابیر ایسی ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے آپ بڑی حد تک اپنے ذہن کو خاموش کرسکتے ہیں۔

۱۔ مثبت حال پر توجہ دیں

ماضی کے پچھتاوے، سنہری یادیں یا پھر مستقبل کے اندیشوں کے بجائے حال میں جینا سیکھیں۔ آپ ڈرائیونگ کر رہے ہوں، لکھ رہے ہوں، ، منہ دھو رہے ہوں یا کسی چیز کو چھو رہے ہوں، اسی کام کی طرف مکمل توجہ رکھنے کی کوشش کریں اور اسی لمحے کو محسوس کریں۔

۲۔ذکر سے خیالات کی تطہیر کریں

ایک لمحہ رک کر سوچیں کہ وہ کون سے خیالات ہیں جو آپ کے لیے صحت مند اور مضر ہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اکثر خیالات بالکل غیر ضروری، بے نتیجہ اور مضر ہیں۔ ایسے خیالات جب بھی آئیں خود کو کہیں RELAX !!!!…۔ ۔۔ خیالات جھٹک دیں اور کوئی ذکر مثلاً سبحان اللہ، ماشاءاللہ، الحمدللہ وغیرہ پڑھ کر حال پر توجہ لے آئیں۔

۳۔ کائنات سے جڑیں

نیچر کا کردار ہمارے ذہن کو پرسکون کرنے میں بہت ہی اہم ہے۔ یقینا یہ آپ سب نے ہی مشاہدہ کیا ہوگا، اگر آپ کہیں حسین قدرتی مناظر سے مسرور ہوں ذہن بالکل سکون کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ ذہن کی گفتگو، فکرمندی اور دباؤ کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ روزانہ آسمان ضرور دیکھیں اور روزانہ یا کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ کسی گھنے درختوں والی جگہ، یا ساحل سمندر پر جائیں جہاں بالکل سکون ہو۔ یاد رہے کہ شور شرابے سے بھرپور پارک میں جانے کا کچھ فائدہ نہیں۔ جس قدر آپ کائنات سے جڑیں گے آپ کا ذہن پرسکون ہوگا۔ کائنات سے جڑیں رہیں اور خدا کی حمد و ثنا کریں۔

یہ تین تدابیر ایسی ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے آپ بہت حد تک اس مسئلے پر قابو پاسکتے ہیں۔

(حافظ محمد شارق)