فرقہ بندی اور مسلکی و فقہی تعصبات

‎ذرا غور کیجئے! کیا یہ حقیقت نہیں کہ منگول حملہ آور جب عباسی خلیفہ کی علامتی روحانی ہیبت کے سبب بغداد میں داخلہ سے گریزاں تھے اس وقت اس سنّی خلافت کا چراغ گل کرنے کے لیے انھیں ایک شیعی عالم نصیر الدین طوسی کی ترغیب حاصل تھی اور اسی طرح قلعۂ الموت میں جب فاطمی شیعہ خلافت کی باقیات کو منگول تباہ کرنا چاہتے تھے تو انھیں ایک سنی عالم علاء الدین عطا ملک جوینی کی معیت اور حمایت حاصل تھی۔ چوتھی صدی ہجری سے، جب ہم مختلف خانوں میں بٹ گئے، اور جب ہمارے ہاں بیک وقت متبادل خلافتیں قائم ہو گئیں ہماری قوتوں کا بڑا حصہ اپنے فرقہ کے استحکام اور دوسرے فرقوں کی بیخ کنی پر صرف ہوتا رہا۔ کیا ہم اس تاریخی حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ عہد فاطمی میں جامعہ ازہر کی دینی درسگاہ کے قیام کے بعد جسے فاطمی شیعہ مسلک کی ترویج و اشاعت کے لیے قائم کیا گیا تھا، ہمارے ہاں شرعی علوم کے نام پر جتنی بھی درسگاہیں قائم کی گئیں وہ ابتداً فاطمیین کا زور توڑنے کے لیے سیاسی مصالح کے تحت قائم ہوئی تھیں۔ اسمٰعیلی یا فاطمی شیعہ اسلام کے مقابلے میں نظامیہ بغداد کے مدرسے وجود میں آئے، خانقاہوں اور تکیوں کو ہوا دی گئی اور اس طرح چوتھی صدی ہجری سے عالم اسلام میں علمِ دین کے نام پر سیاسی اور مسلکی فرقہ بندی کے کارخانے قائم ہوگئے۔ فاطمی اور عباسی خلافتیں تو اپنے زوال کے سبب تاریخ کے صفحات میں غائب ہو گئیں البتہ اس عہد میں ظہور پذیر ہونے والی فرقہ بندی اور مسلکی و فقہی تعصبات سے آج تک ہمارا پیچھا نہ چھوٹ سکا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ گزرے وقتوں کے ساتھ دین کی یہ مختلف تعبیرات فرقہ بندی اور گروہی تعصب کو مسلسل فروغ دیتی رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب اس امت میں ڈھونڈے سے بھی ایسے لوگ نہیں ملتے جو یہ کہنے کی جرأت کرتے ہوں کہ وہ فرقے اور مسلک کی بنیاد پر ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں نفرت یا تحقیر نہیں کرتے ۔شیعہ، سنی، حنفی، جعفری،اسماعیلی، اباضی، علوی، سلفی، دروزی اور ان جیسی دیگر شناختوں کے مقید نہیں ہیں ۔

منقول