مفتی تقی عثمانی کو انکے والد بزرگوار سے ڈانٹ پڑی تھی

مفتی تقی عثمانی صاحب کو انکے والد بزرگوار حضرت مفتی شفیع عثمانی صاحب رح سے جس کتاب پر ڈانٹ پڑی تھی، اسکا نام “امیر معاویہ اور تاریخ حقائق” تھا۔ یاد رہے کہ کتاب کتابی شکل میں بعد میں فلٹر ہوکر شائع ہوئی تھی۔ پہلے یہ قسط وار ایک رسالے میں چھپی تھی۔

مفتی صاحب نے یہ کام اپنے عہد شباب میں کیا تھا، جب انہیں گنتی کے چند لوگ ہی جانتے تھے۔ ان کا اسلوب انتہائی جارحانہ تھا۔ انہوں نے ایک ایسے عالم دین کو چیلینج کیا تھا، جس نے مفتی صاحب کی پیدائش سے بھی کئی دہائیوں پہلے مبادی اسلام، الجہاد فی السلام اور پردہ ایسی شہرہ آفاق کتابیں لکھ کر پورے عالم اسلام میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا تھا۔ جس کے علمی کارناموں کی شہرت عربوں اور ترکوں تک پہنچ چکی تھی اور وہ پاک و ہند کے پہلے عالم بن گئے تھے، جن کی کتابوں کے عربی، انگریزی، ترک، فرانسیسی، ہسپانوی اور دیگر عالمی زبانوں میں تراجم چھپ رہے تھے۔ مفتی صاحب آج پچاس سال بعد جن عرب علماء کے عقیدت سے ہاتھ چومتے ہیں، جیسے شیخ یوسف القرضاوی اور شیخ سلمان العودہ وغیرہ، یہ مودودی صاحب کو اپنا مرشد و مربی مانتے تھے۔ جس عرب دنیا سے تعلق پر فخر محسوس کرتے ہیں، اسکا سب سے بڑا ایوارڈ اب تک صرف دو پاکستانیوں کو ملا ہے، ایک سید مودودی رح اور دوسرے ان کے شاگرد پروفیسر خورشید احمد۔

صرف یہ نہیں ہوا کہ مفتی صاحب نے اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم کو چیلینج کیا بلکہ اس کتاب میں بہت سی باتیں ایسی تھیں، جنہیں غلط بیانی کہا جاسکتا ہے۔ اس کتاب کا پوسٹ مارٹم کسی اور نے نہیں، ہندوستان کے مشہور و معروف عالم دین اور شبیر احمد عثمانی رح کے بھتیجے فاضل دارالعلوم دیوبند مولانا عامر عثمانی نے اپنی کتاب تجلیات صحابہ میں کیا ہے۔ آپ خلافت و ملوکیت پڑھیں، پھر حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق پڑھیں اور آخر میں تجلیات صحابہ۔ کھلے دل سے پڑھیں گے تو حقیقت واضع ہوجائے گی۔

کاشف نصیر