خورشید ندیم صاحب اور توشہ خانہ

خورشید ندیم صاحب پچیس اکتوبر 2022 کو خان صاحب اور توشہ خانہ میں کیا کچھ لکھتے ہیں کچھ پیرے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں
۔
توشہ خانے سے جڑے قضیئے کا ایک پہلو اس کے قانونی پہلو سے کہیں بڑھ کر اہم اور ہماری توجہ کا سزاوار ہے
۔
آگے لکھتے ہیں” خان صاحب اور توشہ خانہ کے عنوان سے مشہور ہوئی اس کہانی کا یہ پہلو سیاسی ہے نہ قانونی۔ یہ اخلاقی بھی ہے اور نفسیاتی بھی
۔
مزید آگے لکھتے ہیں ” ہمارے آیئڈیلز تو وہ ہیں جن کے طرز زندگی اور طرز حکمرانی کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ ” سلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیں”
۔
آخر میں یہ مرد درویش لکھتے ہیں ” صفحہ تاریخ پر خان صاحب اور توشپہ خانہ کے عنوان سے لکھی اس کہانی کو سیاسی اور قانونی سے زیادہ اخلاقی اور نفسیاتی پہلو سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ مذہب ہو فلسفہ ہو یا سیاست، واقعہ یہ ہے کہ سچ کی نشانیاں انسان کے چاروں طرف بکھری ہوتی ہیں مگر وہ ان کی طرف دھیان نہیں دیتا۔ کوئی تعصب، کسی کی محبت، کسی سے نفرت اس کے سا،منے دیوار بن جاتی ہے ۔ ان دیواروں کو گرانا ہی ہم سب کا اصل امتحان ہے”
۔
کالم ختم ہوا اب میں آپ کے ساتھ ایک سکرین شاٹ شئیر کرتا ہوں جس میں یہ مرد درویش 26 اپریل دو ہزار سترہ کو توشہ خانے سے ایک گھڑی جس کی قیمت کا تعین ایک لاکھ دس ہزار روپے ہوتا ہے بیس ہزار میں خرید لر گھر لیجاتا ہے۔۔۔ یقینا ہم اس کے قانونی پہلو پر تو بات نہیں کرسکتے البتہ اخلاقی اور نفسیاتی پہلوؤں بارے کہ یہ کس قدر خورشید ندیم کے لئے جائز تھا، ہمیں ان کے اگلے کالم کا انتظآر کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
آپ کا خیر اندیش
احمد بزدار