ہم نے رسول اللہ صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے

بات یہ ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے اور ہماری وفاداریاں بنیادی طور پر صرف آنحضرت کے ساتھ ہی ہیں۔ مسلک، مکتبِ فکر، روایات، بزرگانِ دین ۔۔۔ ذاتی طور پر میں سب کے احترام کا قائل ہوں اور سب کا احترام کرتا ہوں۔ لیکن جہاں کوئی بات یا کسی شخصیت کا کوئی فعل نبی پاک (ص) سے ٹکرا جائے تو اس بات یا اس شخصیت کے اس فعل کو چھوڑ دینے کے سوا کسی راستے پر جانے کا دل نہیں مانتا، خواہ وہ بات یا شخصیت میرے مسلک کی ضد ہو … Continue reading ہم نے رسول اللہ صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے

ساٹھ کی دہائی تک اکثر مسلمان بڑے امیرِ شام کو ٹھیک سے جانتے بھی نہیں تھے

ساٹھ کی دہائی تک اکثر مسلمان بڑے امیرِ شام کو ٹھیک سے جانتے بھی نہیں تھے۔ کتابوں میں ان کا ذکر کہیں ہوتا بھی تو صحابی یا خلیفہ کے نہیں، بلکہ پہلے مسلمان بادشاہ کے طور پر ہوتا۔ حالات یہ تھے کہ علامہ اقبال اور نسیم حجازی نے طارق بن زیاد اور عبدالرحمان الداخل سے سنجر و سلیم تک، محمود غزنوی سے اورنگزیب عالم گیر تک کوئی قابلِ ذکر مسلمان بادشاہ نہیں چھوڑا جس کی مدح سرائی نا کی ہو لیکن امیرِ شام کو ایسے اگنور مارا جیسے عقلمند لوگ اپنی زندگی میں toxic لوگوں کو اگنور کرتے ہیں۔ اقبال … Continue reading ساٹھ کی دہائی تک اکثر مسلمان بڑے امیرِ شام کو ٹھیک سے جانتے بھی نہیں تھے

حکومت کے جس نظام کو اسلام نے پیش کیا ہے

حکومت کے جس نظام کو اسلام نے پیش کیا ہے اس میں شک نہیں کہ خلفائے راشدین میں سے ہر ایک نے اپنے عملی نمونوں سے اس نظام پر عمل کرکے دکھایا ہے۔ لیکن یہ بات کہ اپنے اس نظام کے قائم کرنے پر اسلام کو اتنا اصرار ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے، مسلمانوں کا خون پانی سے زیادہ ارزاں نظر آنے لگے لیکن ہر قیمت پر اس نظام کے قائم کرنے کی کوشش میں مسلمانوں کو آخر وقت تک منہمک رہنا چاہیے، اسلامی نظامِ سیاست میں اتنی اہمیت صرف حضرت علی کرم اللہ وجہ کے عملی نمونے … Continue reading حکومت کے جس نظام کو اسلام نے پیش کیا ہے

مفتی تقی عثمانی کو انکے والد بزرگوار سے ڈانٹ پڑی تھی

مفتی تقی عثمانی صاحب کو انکے والد بزرگوار حضرت مفتی شفیع عثمانی صاحب رح سے جس کتاب پر ڈانٹ پڑی تھی، اسکا نام “امیر معاویہ اور تاریخ حقائق” تھا۔ یاد رہے کہ کتاب کتابی شکل میں بعد میں فلٹر ہوکر شائع ہوئی تھی۔ پہلے یہ قسط وار ایک رسالے میں چھپی تھی۔ مفتی صاحب نے یہ کام اپنے عہد شباب میں کیا تھا، جب انہیں گنتی کے چند لوگ ہی جانتے تھے۔ ان کا اسلوب انتہائی جارحانہ تھا۔ انہوں نے ایک ایسے عالم دین کو چیلینج کیا تھا، جس نے مفتی صاحب کی پیدائش سے بھی کئی دہائیوں پہلے مبادی … Continue reading مفتی تقی عثمانی کو انکے والد بزرگوار سے ڈانٹ پڑی تھی

انتخابی خلافت ۔ ۔ ۔ حضرت عثمانؓ و علیؓ

” حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انہوں نے کہا ” تمہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں ھے ۔ یہ تو اہلِ شُوریٰ اور اہلِ بدر کے کرنے کا کام ھے ۔ جس کو اہلِ شوریٰ اور اہلِ بدر خلیفہ بنانا چاہیں گے وہی خلیفہ بنے گا ۔ پس ھم جمع ہونگے اور اِس معاملے پر غور کریں گے ۔ ” ( ابن قُتَیبہ ، الامامۃ والسیاسۃ ) طَبری کی روایت میں حضرت علیؓ کے الفاظ یہ ہیں ” میری بیعت خفیہ طریقے سے نہیں ہو سکتی ۔ یہ … Continue reading انتخابی خلافت ۔ ۔ ۔ حضرت عثمانؓ و علیؓ

خلافت و ملوکیت

سوال: میں آپ کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کا بغور مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ آپ کی چند باتیں اہل سنت و الجماعت کے اجماعی عقائد کے بالکل خلاف نظر آرہی ہیں۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا بھی عیب بیان کرنا اہل سنت و الجماعت کے مسلک کے خلاف ہے۔ جو ایسا کرے گا وہ اہل سنت و الجماعت سے خارج ہوجائے گا۔ آپ کی عبارتیں جو اس عقیدے کے خلاف ہیں وہ ذیل میں نقل کرتا ہوں:۔ ’’ایک بزرگ نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے دوسرے بزرگ کے ذاتی مفاد سے اپیل کرکے اس تجویز کو جنم دیا‘‘۔ (خلافت … Continue reading خلافت و ملوکیت

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا اَلبحرُ عَلاَ و الموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم برسن … Continue reading لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر

غامدی صاحب و ملوکیت کی ناگزیریت

غامدی صاحب ودیگر کچھ حضرات ملوکیت کی سیاسی و معروضی جواز وناگزیریت کی جو بحث اٹھاتے ہیں وہ اول وآخر ” مفروضات ” پر مبنی ہے ۔ ان کے مطابق (1) اقتدار بنو امیہ سے باھر جاتا تو ” خانہ جنگی ” کا خطرہ تھا ۔ (2) سلطنت کے پھیلاو نے از خود ملوکیت کی ضرورت پیدا کر دی تھی ۔ (3) خلافت راشدہ کا نظام ممکن نہیں رھا تھا ۔ لیکن خود ملوکیت نے جو نتائج پیدا کیے ان کے سامنے ان “مذکورہ مفروضات” کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے کہ !! (1) خانہ جنگی تو پھر بھی … Continue reading غامدی صاحب و ملوکیت کی ناگزیریت

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد نے یزید بن معاویہ کے پاس شام بھیجا

================================== امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : « وَيُقَالُ إِنَّهُ كَانَ مَعَهُ رُءُوسُ بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ، وَهُوَ الْمَشْهُورُ. وَمَجْمُوعُهَا اثَنَانِ وَسَبْعُونَ رَأْسًا، وَذَلِكَ أَنَّهُ مَا قُتِلَ قَتِيلٌ إِلَّا احْتَزُّوا رَأَسَهُ وَحَمَلُوهُ إِلَى ابْنِ زِيَادٍ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا ابْنُ زِيَادٍ إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ إِلَى الشَّامِ ». ’’ یہی قول مشہور ہے جو مجموعی طور پر 72 سر تھے اس لیے کہ جو شخص بھی قتل ہوا انہوں نے اس کا سر کاٹ لیا اور اسے ابن زیاد کے پاس لے گئے پھر ابن زیاد نے انہیں معاویہ بن یزید کے پاس شام بھجوا دیا ‘‘۔ (البدایة والنھایة لابن کثیر … Continue reading سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد نے یزید بن معاویہ کے پاس شام بھیجا