جاوید غامدی کی تکفیری مہم: وحدت الوجود اور دبِستانِ شبلی — نادر عقیل انصاری

اسلامی تاریخ میں یونان و روم کے فکری تصورات کی یورش، منگولوں کے حملے، اور صلیبی جنگوں جیسے مصائب معلوم و معروف ہیں، اور ان میں مضمر خطرات کی سنگینی سے مسلمان بالعموم باخبر ہیں۔ یوروپی استعمار زہرناکی میں ان فتنوں سے بڑھ کر تھا۔ مغربی استعمار کا تہذیبی تسلط اور اس کی اثر انگیزی آج بھی مسلمانوں کو نوکِ شمشیر اور نوکِ قلم پر رکھے ہوئے ہے۔ سب جانتے ہیں کہ استعمار نے قزاقوں کی طرح لوٹ مار بھی کی، اور افواج کے ساتھ علانیہ ہجوم کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے شر کی ایک خصوصیت یہ … Continue reading جاوید غامدی کی تکفیری مہم: وحدت الوجود اور دبِستانِ شبلی — نادر عقیل انصاری

فکر غامدی ، تفردات اور علمی سرقہ

اہل علم کے مابین اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ محترم جاوید احمد غامدی صاحب کی بنیادی فکر دراصل ان کے نادر خیالات اور تفقہ فی الدین کا نتیجہ نہیں، بلکہ ماضی بعید و قریب کے چند علماءو فقہاء کی تحقیقات کا سرقہ ہے۔ راقم کو اس بابت پہلا احساس اس وقت ہوا جب جناب غامدی صاحب کی کتاب “میزان” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کتاب کی بنیادی فکر، استدلال اور یہاں تک کہ مثالیں بھی مولانا عمر احمد عثمانی صاحب کی کتاب “فقہ القرآن” سے ماخوذ ہیں۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ پوری کتاب میں کسی … Continue reading فکر غامدی ، تفردات اور علمی سرقہ

بنو امیہ کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے ان احادیث کو بھی سامنے رکھا جائے

بنو امیہ کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے ان احادیث کو بھی سامنے رکھا جائے ،جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اغیلمہء قریش سے خبردار کیا ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تکوینی طور پر اگرچہ یہ طے ہوچکا تھا کہ بنو امیہ نے آکر رہنا ہے ،لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے قطعاً خوش نہ تھے۔اور کیونکر ہوتے کہ اہل مدینہ کو انہوں نے خوفزدہ کرنا تھا، مکہ اور حرم مکی پر انہوں نے سنگباری کرنی تھی، کبد نبوی اور حفید رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خون میں انہی کے ہاتھ رنگنے … Continue reading بنو امیہ کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے ان احادیث کو بھی سامنے رکھا جائے

‎”ناصبیت تحقیق کے بھیس میں”

‎سید متین شاہ جی کے لئے سراپا سپاس ہوں کہ انہوں نے مولانا عبدالرشید نعمانی کی دوکتب ناصبیت تحقیق کے بھیس میں ‎اور یزید کی شخصیت اہل سنت کی نظر میں ‎ای میل کیں. آج کا دن اول الذکر کتاب کے مطالعہ میں گزرا. آخر میں پہنچ کر افسوس ہوتا ہے کہ کاش مولانا اسے مکمل کر سکتے تو محمود احمد ناصبی کی کتاب کا مکمل اور جامع جواب ہوتا. ‎ہمارے عہد میں اس موضوع پر بہت مستند اور علمی مواد آ چکا ہے ‎خلافت و ملوکیت اور اس کی حمایت ورد میں، نیز سید لعل حسین شاہ بخاری کی … Continue reading ‎”ناصبیت تحقیق کے بھیس میں”

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل 1۔ تعارف جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب “برہان” میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں۔ نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین قائم کیا۔ اپنے مضمون کا آغاز وہ یہاں سے کرتے ہیں: “ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے، اُس کے لیے ہمارے ہاں ’تصوف‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ یہ اُس دین کے اصول و … Continue reading امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار

طٰہ حسین اور الفتنة الکبری

تاریخ اور عقیدت کو خلط ملط کرنے سے تاریخ کی تخریب ہوتی ہے اور عقائد ذاتی خواہشات پر مستحکم ہو جاتے ہیں ۔ اوائل اسلام میں تنازعات کو معروضی انداز میں دیکھنے کے لیے بے لاگ تاریخی تجزیہ بہت ضروری ہے ۔ اس امر میں تحقیق کا حق مصر کے طٰہ حسین نے الفتنة الکبری لکھ کر اور برصغیر کے مولانا عبد الرشید نعمانی نےرسالہ حضرت علی اور قصاص عثمان لکھ کر ادا کیا ۔ یہی کلمہ حق مولانا مودودی اور غلام علی نے بھی بلند کیا۔ طہ حسین کے نقطہ نظر سے احتجاج کرنے والوں یا باغیوں کا موقف … Continue reading طٰہ حسین اور الفتنة الکبری

ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

مولانا عمار خان ناصر جدیدیت میں جاوید غامدی کی فکر سے متاثر ہیں اور اوائل اسلام کے تاریخی واقعات بارے ان کی تعبیر میں تقی عثمانی، محمود عباسی اور جاوید غامدی کے افکار کا رنگ نظر آتا ہے ۔ ان کے مقابل مولانا مفتی محمد زاہد، ملوکیت اور ناصبیت کے خلاف متقدمین اہلسنت کے افکار کے حامل ہیں ۔ ان کا ایک حالیہ مکالمہ درج ذیل ہے —- رد ناصبیت کے جوش میں حضرت عثمان کے قصاص کے مطالبے کو “غیر شرعی” ثابت کرنے کے لیے جو ایک نئی فقہ وجود میں لائی جا رہی ہے، اس کے کچھ نمونے … Continue reading ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

کراچی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی ریٹائرڈ استاد ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ، جن کا ذاتی رجحان تکفیری خارجی گروہوں کی طرف ہے، نے چند روز قبل ایک پوسٹ استفساراً لکھی کہ ” علامہ تمنا عمادی،محمد جعفر شاہ پھلواروی اور غلام احمد پرویز تینوں ہی صوفی گھرانوں میں پیدا ہوئے اور خانقاہی ماحول میں پرورش پائی لیکن اس کے بعد تینوں ہی تصوف کے خلاف ہو گئے ۔ان کی یہ قلب ماھیت کیوں ہوئی؟ اسی “کیوں ” کی تلاش میں ہوں؟” ہم جب ان تین شخصیات کی تحقیقات و نظریات پر غور کرتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ نظامِ … Continue reading جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

صحابہ کے سیاسی اختلافات سے متعلق میرے ذوق کے چند بنیادی نکات

مفتی محمد زاہد (یہ میں نے اپنے ذوق کا خلاصہ عرض کرنے کی کوشش کی ہے، ضروری نہیں ہر کوئی اس کا پابند ہو، اختصار کی پوری کوشش کے باوجود طوالت پر معذرت) 1.- ہر بات کو جلدی سے عقیدے کا عنوان دے دینا مناسب نہیں، عقیدے کی بجاے نظریہ کہا جاے تو بہتر ہے، جس سے مقصود تاریخ میں پیش آنے والے ان واقعات کی اصولی تنقیح اور مختلف حضرات کے مواقف کی تکییف ہوتی ہے۔ 2.- اگرچہ یہ اس طرح کا عقیدے کا مسئلہ نہیں ہے ، لیکن جو کچھ اہل السنۃ والجماعۃ نے لکھا ہے میں خود … Continue reading صحابہ کے سیاسی اختلافات سے متعلق میرے ذوق کے چند بنیادی نکات

کیا “اسلام” زندہ ہے ؟

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نطشے نے کہا ۔۔۔۔ خدا کی موت واقع ہو گئی ۔ بظاہر لغو نظر آنے والے اس بیان کا وہ مطلب نہیں جو اس کے الفاظ بتا رہے ہیں۔ تمام فلسفی کچھ نا کچھ “کھسکے” ہوئے ضرور ہوتے ہیں، بزعم خود کوئی نقطہ ہاتھ لگ جائے تو اس کے اظہار میں ضرورت سے زیادہ دبنگ ہو جاتے ہیں. اس کی رائے میں انسان علمی اور شعوری میدان پر اس درجہ ترقی یافتہ ہو چکا کہ اب اسے اپنے اخلاقی وجود اور روزمرہ زندگی کے لیے خدا جیسے ماورائی تصور کی حاجت نہیں رہی تھی۔ اب … Continue reading کیا “اسلام” زندہ ہے ؟