امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل 1۔ تعارف جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب “برہان” میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں۔ نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین قائم کیا۔ اپنے مضمون کا آغاز وہ یہاں سے کرتے ہیں: “ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے، اُس کے لیے ہمارے ہاں ’تصوف‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ یہ اُس دین کے اصول و … Continue reading امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار

طٰہ حسین اور الفتنة الکبری

تاریخ اور عقیدت کو خلط ملط کرنے سے تاریخ کی تخریب ہوتی ہے اور عقائد ذاتی خواہشات پر مستحکم ہو جاتے ہیں ۔ اوائل اسلام میں تنازعات کو معروضی انداز میں دیکھنے کے لیے بے لاگ تاریخی تجزیہ بہت ضروری ہے ۔ اس امر میں تحقیق کا حق مصر کے طٰہ حسین نے الفتنة الکبری لکھ کر اور برصغیر کے مولانا عبد الرشید نعمانی نےرسالہ حضرت علی اور قصاص عثمان لکھ کر ادا کیا ۔ یہی کلمہ حق مولانا مودودی اور غلام علی نے بھی بلند کیا۔ طہ حسین کے نقطہ نظر سے احتجاج کرنے والوں یا باغیوں کا موقف … Continue reading طٰہ حسین اور الفتنة الکبری

ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

مولانا عمار خان ناصر جدیدیت میں جاوید غامدی کی فکر سے متاثر ہیں اور اوائل اسلام کے تاریخی واقعات بارے ان کی تعبیر میں تقی عثمانی، محمود عباسی اور جاوید غامدی کے افکار کا رنگ نظر آتا ہے ۔ ان کے مقابل مولانا مفتی محمد زاہد، ملوکیت اور ناصبیت کے خلاف متقدمین اہلسنت کے افکار کے حامل ہیں ۔ ان کا ایک حالیہ مکالمہ درج ذیل ہے —- رد ناصبیت کے جوش میں حضرت عثمان کے قصاص کے مطالبے کو “غیر شرعی” ثابت کرنے کے لیے جو ایک نئی فقہ وجود میں لائی جا رہی ہے، اس کے کچھ نمونے … Continue reading ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

کراچی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی ریٹائرڈ استاد ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ، جن کا ذاتی رجحان تکفیری خارجی گروہوں کی طرف ہے، نے چند روز قبل ایک پوسٹ استفساراً لکھی کہ ” علامہ تمنا عمادی،محمد جعفر شاہ پھلواروی اور غلام احمد پرویز تینوں ہی صوفی گھرانوں میں پیدا ہوئے اور خانقاہی ماحول میں پرورش پائی لیکن اس کے بعد تینوں ہی تصوف کے خلاف ہو گئے ۔ان کی یہ قلب ماھیت کیوں ہوئی؟ اسی “کیوں ” کی تلاش میں ہوں؟” ہم جب ان تین شخصیات کی تحقیقات و نظریات پر غور کرتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ نظامِ … Continue reading جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

صحابہ کے سیاسی اختلافات سے متعلق میرے ذوق کے چند بنیادی نکات

مفتی محمد زاہد (یہ میں نے اپنے ذوق کا خلاصہ عرض کرنے کی کوشش کی ہے، ضروری نہیں ہر کوئی اس کا پابند ہو، اختصار کی پوری کوشش کے باوجود طوالت پر معذرت) 1.- ہر بات کو جلدی سے عقیدے کا عنوان دے دینا مناسب نہیں، عقیدے کی بجاے نظریہ کہا جاے تو بہتر ہے، جس سے مقصود تاریخ میں پیش آنے والے ان واقعات کی اصولی تنقیح اور مختلف حضرات کے مواقف کی تکییف ہوتی ہے۔ 2.- اگرچہ یہ اس طرح کا عقیدے کا مسئلہ نہیں ہے ، لیکن جو کچھ اہل السنۃ والجماعۃ نے لکھا ہے میں خود … Continue reading صحابہ کے سیاسی اختلافات سے متعلق میرے ذوق کے چند بنیادی نکات

کیا “اسلام” زندہ ہے ؟

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نطشے نے کہا ۔۔۔۔ خدا کی موت واقع ہو گئی ۔ بظاہر لغو نظر آنے والے اس بیان کا وہ مطلب نہیں جو اس کے الفاظ بتا رہے ہیں۔ تمام فلسفی کچھ نا کچھ “کھسکے” ہوئے ضرور ہوتے ہیں، بزعم خود کوئی نقطہ ہاتھ لگ جائے تو اس کے اظہار میں ضرورت سے زیادہ دبنگ ہو جاتے ہیں. اس کی رائے میں انسان علمی اور شعوری میدان پر اس درجہ ترقی یافتہ ہو چکا کہ اب اسے اپنے اخلاقی وجود اور روزمرہ زندگی کے لیے خدا جیسے ماورائی تصور کی حاجت نہیں رہی تھی۔ اب … Continue reading کیا “اسلام” زندہ ہے ؟

دنیا کی اداس ترین کہانی

(حاشر ابن ارشاد) 1910 میں امریکہ کے ایک چھوٹے سے مقامی اخبار میں ایک اشتہار شائع ہوا “ہاتھ سے بُنے ہوئے چھوٹے بچے کے کپڑے اور ایک جھولا برائے فروخت۔ دونوں استعمال نہیں ہوئے” شاید اسی اشتہار کو پڑھنے والے کسی نامعلوم شخص نے برسوں بعد وہ کہانی تخلیق کی جو آج بھی دنیا کی اداس ترین کہانی سمجھی جاتی ہے۔ عام طور پر ہیمنگوے سے موسوم اس مختصر کہانی میں صرف چھ لفظ ہیں۔ For Sale: baby shoes , never worn ( برائے فروخت: بچے کے جوتے، جو کبھی پہنے نہیں گئے ) چھ لفظوں میں ماں کی محبت … Continue reading دنیا کی اداس ترین کہانی

کیا انسان مجبور ہے یا مختار؟

کیا انسان مجبور ہے یا مختار؟ مولانا روم مولانا روم نے اپنی مشہور کتاب مثنوی میں جس طرح تقدیر کے پیچیدہ مسئلہ کو اشعار (فارسی) میں بیان فرمایا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی. طرز بیان بہت دل آویز ہے اور طریق استدلال ایسا عجیب وغریب کہ دل میں اثر کرتا چلا جاتا. احباب کی خدمت میں مولاناے روم کے ان اشعار کا ترجمہ بطور ہدیہ پیش ہے. 0. بندہ کا تردد میں ہونا خود اس کے مختار ہونے کی دلیل ہے تردو اختیاری ہی چیز میں ہو سکتا ھے تردو کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کو یہ … Continue reading کیا انسان مجبور ہے یا مختار؟

شیعہ سُنّی اختلاف اور مشاہیرِ اسلام کا رویّہ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان بہت سے اصولی احکام مشترک ہیں اور کچھ بنیادی عقاید و احکام میں شدید اختلاف رائے بھی پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہر دو فریق کے ہاں ایک دوسرے کے با رے میں بہت سی بدگمانیاں بھی موجود ہیں، ایک دوسرے کی تکفیر کے اقوال بھی ملتے ہیں اور تکفیر پر خاموشی اور احتیاط کی روش بھی پائی جاتی ہیں، اگر کوئی تکفیر کا قائل نہ بھی ہو تو ایک دوسرے کو گمراہ ضرور سمجھتا ہے اور کہیں اشارے کنائے میں … Continue reading شیعہ سُنّی اختلاف اور مشاہیرِ اسلام کا رویّہ