‎جے کر دین علم وِچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو

‎جے کر دین علم وِچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو ‎اٹھارہ ہزار جو عالم آہا اَگے حسین دے مردے ھُو ‎جے کجھ ملاحظہ نبی سرور دا کردے تاں تمبو خیمے کیوں سڑدے ھُو ‎جے کر مندے بیعت رسولی پانی کیوں بند کردے ھُو ‎پر صادق دین تنہا دا باھُو جو سر قربانی کردے ھُو ‎عاشق سوئ حقیقی جیہڑا قتل معشوق دے منے ھُو ‎عشق نہ چھوڑے منہ نہ موڑے تورے سے تلواراں کھنّے ھُو ‎جت ول ویکھے راز ماہی دے لگے اسے بنّے ھُو ‎سچا عشق حسین ابن علی دا باھُو سر دتا راز نہ بھنّے ھُو ‎~حضرت … Continue reading ‎جے کر دین علم وِچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو

‎ہتھیار اُدھر لگا چکے آقائے خاص و عام

‎ہتھیار اُدھر لگا چکے آقائے خاص و عام ‎تیار اِدھر ہوا علمِ سیدِ انامؑ ‎کھولے سروں کو گِرد تھی سیدانیاں تمام ‎روتی تھی تھامے چوبِ علم خواہرِ امامؑ ‎تیغیں کمر میں دوش پہ شملے پڑے ہوئے ‎زینبؑ کے لعل زیرِ علم آ کھڑے ہوئے ‎گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار ‎مرفق تک آستینوں کو اُلٹے بصد و قار ‎جعفرؑ کا رعب دبدبۂِ شیرِ کردگار ‎بوٹے سے ان کے قد پہ نمودار و نامدار ‎آنکھیں ملیں علم کے پھریرے کو چوم کے ‎اور اس کے گرد پھرنے لگے جھوم جھوم کے ‎گہ ماں کو دیکھتے تھے کبھی جانبِ علم … Continue reading ‎ہتھیار اُدھر لگا چکے آقائے خاص و عام

حُر میں اچانک تبدیلی

‎” حُر میں جو اچانک تبدیلی پیدا ہوئی وہ جہت یا سمت کی تبدیلی تھی ۔ یہ بات مسلّم ہے کہ حُر عاشور کی صبح اور تاسوعہ کے دن بھی نماز پڑھتا رہا ہے ۔ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں اس نے امام حُسینؑ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے ۔ وہ نماز پڑھنے والا ، روزہ رکھنے والا تھا ، وہ پیغمبرؐ پر ایمان رکھتا تھا اور خاتمیت پر بھی ایمان رکھتا تھا ، قرآن پر ایمان رکھتا تھا اور توحید پر بھی ایمان رکھتا تھا ۔ امام حسینؑ نے اسے کوئی نئی چیز نہیں دی ۔ عاشور … Continue reading حُر میں اچانک تبدیلی

‎بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسین نے

‎نوحے، قصیدے، منقبتیں، مرثیے، سلام ‎بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسین نے ‎واقعہ کربلا اور امام عالی مقام کی لازوال قربانی نے اردو ادب پر بھی گہرے اثرات ثبت کیئے ہیں ۔ میدان کربلا میں حضرت امام حسین نے تاریخِ انسانی کی ایسی قربانی پیش کی کہ آج لگ بھگ چودہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی ان کی یاد اور غم کی چادر چہار سو پھیلی دیکھی جا سکتی ہے۔۔اسے کئی حوالوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک تو وثائی ادب ہے جس میں مرثیہ، نوحہ ، سلام، سوز اورمنقبت وغیرہ شامل ہیں جن میں خالصتاً کربلا اورامام حسینؑ … Continue reading ‎بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسین نے

وہ 8 صحابہ جو لشکر یزید میں تھے

اور امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شریک ھوئے ۔ 1 .كثير بن شهاب الحارثي.. اس کے صحابی ھونے کے بارے میں قال أبو نعيم الأصبهاني المتوفی : 430 – كثير بن شهاب البجلي رأى النبي (ص) کثیر بن شھاب نے نبیّ (ص) کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ تاريخ أصبهان جلد 2 صفحہ 136 دار النشر : دار الكتب العلمية ۔ بيروت 1410 هـ 1990م الطبعة : الأولى تحقيق : سيد كسروي حسن قال ابن حجر : يقال ان له صحبة … قلت ومما يقوي ان له صحبة ما تقدم انهم ما كانوا يؤمرون الا الصحابة وكتاب عمر اليه بهذا … Continue reading وہ 8 صحابہ جو لشکر یزید میں تھے

ابو مخنف

مقتل الحسین کے مورخ ابو مخنف کو بعض حلقوں میں بُرا بھلا کہا جاتا ہے کہ کذاب ہے حالانکہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس کو کذاب صرف متأخرین نے کہا ہے۔یہ حدیث میں ضعیف ہے کیونکہ کثرت سے مجاہیل سے روایت کرتا ہے جو کہ ضعف کی ایک وجہ ہوتی ہے اور ایسے شخص کی احادیث میں شبہ ہر وقت رہتا ہے، مگر تاریخ میں ثقہ ہے۔ دلائل پیش ہیں: ۱۔ ابن فقیہ الہمذانی رحمہ اللہ نے اس کو “الثقة المؤتمن” قرار دیا ہے۔ [كتاب البلدان لابن الفقيه، صفحہ نمبر ۲۵۵] یہ ایک توثیق ہے۔اور ابنِ فقیہ الہمدانیؒ … Continue reading ابو مخنف

رسول الله ﷺ کا شہادت امام حسین ؑ کی خبر سن کر دھاڑيں مار کَر رونا

ام المومنین ام سلمہ ؓ سے روايت ہے، کہ “پيغمبر ﷺ گھر ميں آرام فرما رہے تھے؛ اتنے ميں امام حسین ؑ آ گئے ۔ “ميں بھی دروازے پر بيٹھ گئی اور انہيں اس خوف سے روک ليا کہ مبادا وہ اندر جا کر رسالت مآب ﷺ کو بيدار نہ کر ديں ۔ پھر فرماتی ہيں: ” ” ميرا دھيان کسی اور طرف گيا ہی تھا کہ امام حسين ؑ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے حجرہ مبارک کے اندر داخل ہو گئے اور آپ ﷺ کے شکمِ مبارک پر بيٹھ گئے ۔ ميں نے رسول الله ﷺ کے بلند گريے … Continue reading رسول الله ﷺ کا شہادت امام حسین ؑ کی خبر سن کر دھاڑيں مار کَر رونا

امام حسینؑ سے منسوب تین شرائط کی روایت کی حقیقت

١ مجھے وہیں لوٹ جانے دو جہاں سے آیا ہو… ٢ مجھے خود اپنا معاملہ یزید سے طے کر لینے دو ٣ مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر بیجھ دو وہاں کے لوگوں پر جو گزرتی ہے وہی مجھ پر گزری گی. اس روایت کو سب سے پہلے ابو جعفر بن جریر الطبری نے اپنے تاریخ میں بیان کیا اور اسی روایت کو امام عماد الدین ابن کثیر بغیر جرح کے کتاب البدایہ و النہایہ پر نقل کر دیا ابو جعفر بن جریر الطبري… حدثني زكرياء بن يحيى الضرير قال حدثنا أحمد بن جناب المصيصي ويكنى أبا الوليد قال حدثنا … Continue reading امام حسینؑ سے منسوب تین شرائط کی روایت کی حقیقت

یزید کے وکیل

آج کل یزید کے وکیل سب سے بڑا جھوٹ بول رہے ہیں کہ (معاذالله) حضرت امام حسین یزید کی بیعت کرنے پر راضی تھے اور اس کو امیرالمومنین کہتے تھے ۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے یزید کے وکیل انساب الاشراف اور تاریخ طبری کی ایک روایت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ امام عالی مقام یزید کو اچھا اور صحیح سمجھتے تھے ۔ آیئے انساب الاشراف اور تاریخ طبری کی روایت کو دیکھتے ہیں کہ اس یزید کے وکیلوں نے یزید خبیث کی محبت میں اس روایت کی سند کی کیسے تصحیح … Continue reading یزید کے وکیل

کیا امام حسینؑ یزید کی بیعت کرنا چاھتے تھے

کیا امام حسینؑ یزید لعين کی بیعت کرنا چاھتے تھے ؟ ممبئ کے نا ص بی کفایت اللہ سنابلی نے اپنی کتاب میں یزید کا دفاع کرتے ہوئے ایک روایت پیش کی جو اس انساب الاشرف میں اس طرح ہے : حدثنا سعدويه، حدثنا عباد بْن العوام، حَدَّثَنِي حصين، حَدَّثَنِي هلال بن إساف قال: أمر ابن زياد فأخذ مَا بين واقصة، إِلَى طريق الشَّام إِلَى طريق الْبَصْرَة، فلا يترك أحد يلج وَلا يخرج، فانطلق الْحُسَيْن: يسير نحو طريق الشَّام يريد يزيد بْن مُعَاوِيَة فتلقته الخيول فنزل كربلاء، وَكَانَ فيمن بعث إِلَيْهِ عمر ابن سعد بن أبي وقاص، وشمر ابن ذي … Continue reading کیا امام حسینؑ یزید کی بیعت کرنا چاھتے تھے