مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله کی میراث کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔۔حمزہ ابرا ہیم

ہندوستان میں مسلمان حکمران خاندانوں کے دورِ حکومت میں علماء حکومتی اداروں کی مدد سے اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ مسلمان معاشرے میں راسخ العقیدتی کی جڑیں مضبوط رہیں تاکہ اس کی مدد سے وہ اپنے اثر و رسوخ کو باقی رکھ سکیں۔ حکومتوں نے علماء کا تعاون حاصل کرنے کی غرض سے جہاں انہیں حکومتوں کے اعلیٰ عہدوں (قاضی، حکیم وغیرہ)پرفائز کیا، وہاں اس کے ساتھ انہیں ”مدد ِمعاش“ کے نام سے جاگیریں دے کر معاشی طور پر خوش حال رکھا۔ اس لیے علماء اور حکومت کے درمیان مفاہمت اور سمجھوتے کے جذبات قائم رہے اور انہوں … Continue reading مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله کی میراث کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔۔حمزہ ابرا ہیم

سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی جہاد تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی ۔۔حمزہ ابراہیم

سید احمد شہید 1786ء میں بریلی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد 18سال کی عمر میں ملازمت کی تلاش میں نکلے اور لکھنؤ آئے مگر انہیں ناکامی ہوئی اور ملازمت نہ مل سکی ۔ اس پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے دہلی میں شاہ عبدالعزیز کے مدرسے میں تعلیم حاصل کریں گے۔ 1806ء سے 1811ء تک انہوں نے دہلی میں قیام کیا ، اس کے بعد 25سال کی عمر میں امیر خان ،جو کہ ایک فوجی مہم جُو تھے، کے ہاں ملازمت کرلی۔ اس سلسلے میں ان کے سیرت نگار یہ کہتے ہیں … Continue reading سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی جہاد تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی ۔۔حمزہ ابراہیم

پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ، وجوہات اور ان کا تدارک۔حمزہ ابراہیم

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ برصغیر میں مذہبی تشدد کے لحاظ سے بدترین ہے۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کراچی کے کلفٹن جیسے علاقوں میں کچھ لوگوں کی شراب نوشی کی تصویریں دیکھ کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ماضی میں پورا پاکستان ایسا تھا۔ اگرچہ کلاشنکوف اور بم کے عام ہو جانے سے شیعہ کشی کی وارداتیں بہت بڑھی ہیں، لیکن شیعہ اور سنی عوام میں تناؤ کے لحاظ سے عروج کا زمانہ پچھلی صدی کا پہلا نصف حصہ تھا۔ اس کے بعد سے یہ تعلقات بہتری کی طرف مائل ہیں۔تاریخی عمل سست ہوتا ہے اسلئے … Continue reading پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ، وجوہات اور ان کا تدارک۔حمزہ ابراہیم

احمد شاہ ابدالی: حملہ آور یا ہیرو ( ڈاکٹر مبارک علی ) ۔حمزہ ابراہیم

تاریخی شعور کی کمی کے باعث ہمارے ہاں اب تک حملہ آور اور ہیرو کے درمیان فرق نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاریخ کے عمل کو دلیل اور عقل کے بجائے جب جذبات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں واقعات تعصبات کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال احمد شاہ ابدالی ہے، اس کے بارے میں ہمارے ہاں دو نکتہ ہائےنظر ہیں۔ ایک میں اسے حملہ آ ور کہاں جاتا ہے کہ جس نے برصغیر ہندوستان پر حملے کر کے یہاں لوٹ مار کی ۔جبکہ افغانوں میں اسے ہیرو کا درجہ دیا … Continue reading احمد شاہ ابدالی: حملہ آور یا ہیرو ( ڈاکٹر مبارک علی ) ۔حمزہ ابراہیم

مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله : حقائق کیا ہیں؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔حمزہ ابراہیم

سنہ 1857ء کے بعد ہندوستان کے مسلمان معاشرے میں علماء کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے یہ بھی ضروری تھا کہ تاریخ میں ان کے مثبت کردار کو ابھارا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ تاریخ میں علماء نے ہمیشہ شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ اس قسم کی تاریخ لکھنے کا کام بھی علماء نے کیا اور یہ تاریخ عقیدت سے بھرپور جذبات کے ساتھ لکھی گئی کہ جس کو لکھتے وقت تاریخی واقعات کی تحقیق یا تجزیے کی ضرورت کو اہمیت نہیں دی گئی۔ بلکہ یہ کوشش کی گئی کہ علماء کی قربانیوں سے ان کے کردار … Continue reading مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله : حقائق کیا ہیں؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔حمزہ ابراہیم

کربلا کے بارے میں گھڑی گئی سازشی تھیوریاں اور آلِ صدیقؓ کی سیرت ۔حمزہ ابراہیم

”سازشی تھیوری“ حالات و واقعات کی ایسی تشریح کو کہا جاتا ہے جس میں اصل اسباب کو چھپانے کے لیے تاریخ کے مستند حصوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے اور مبہم حصوں اور کمزور روایات ڈھونڈ کر سارے تاریخی عمل کو متاثرین ہی کی سازش کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ عموماً یہ سازشی تھیوری صرف نظریاتی تعصب کے شکار مریدوں کی تشفی کے کام آتی ہے اور علمی اور عوامی حلقوں میں نتائج دینے سے قاصر رہتی ہے۔ کربلا کے معاملے میں ڈاکٹر اسرار احمد اور غلام احمد پرویز وغیرہ جیسے ناصبی حضرات کے بیانیے کا یہی حال ہے۔ … Continue reading کربلا کے بارے میں گھڑی گئی سازشی تھیوریاں اور آلِ صدیقؓ کی سیرت ۔حمزہ ابراہیم

پرانے لاہور میں عزاداری۔۔حمزہ ابراہیم

بیسویں صدی کے ادیب، مولوی نور احمد چشتی،   نے لاہور کی تہذیب کے بارے میں  اپنی کتاب ”یادگارِ چشتی“   (سنِ تصنیف  1859ء) میں  اس صدی  کے  لاہور میں عزاداری کا نقشہ  بھی پیش کیا ہے۔  ذیل میں اس کتاب سے متعلقہ  اقتباسات کو چن کر  مختلف عنوانات کے تحت پیش کیا گیا ہے:۔ کربلا کی یاد سے سالِ نو کا آغاز ” اہل اسلام کا سالِ نو ماہِ غم، یعنی محرم، جس کو پنجابی زبان میں ”دہے “ کہتے ہیں، سے شروع ہوتا ہے۔ یہ مہینہ  ہمارے نزدیک بہت غم و الم کا ہے کیوں کہ اس میں جناب حضرت … Continue reading پرانے لاہور میں عزاداری۔۔حمزہ ابراہیم

بنو قریظہ ۔ فسانہ اور حقیقت ۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

مدینہ کے تین بڑے یہودی قبائل میں سے بنو قینقاع اور بنو نضیر کی بدعہدی کے نتیجے میں جلاوطنی کے بعد یہی ایک قبیلہ مدینہ میں رہ گیا تھا۔ بنو نضیر مدینہ چھوڑ کر خیبر میں آباد ہوگئے، اپنی تمام منقولہ جائیداد ساتھ لے گئے تھے۔ وہاں پہنچ کر ان کے رئیس حیی بن اخطب نے مسلمانوں سے انتقام لینے کا بیڑا اٹھایا اور سارے عرب کے غیر مسلم، غیر معاہد قبائل کو مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا اور تمام جنگی اخراجات اور نقصانات کی تلافی کا معاہدہ کر کے ابوسفیان کی قیادت میں دس ہزار فوج … Continue reading بنو قریظہ ۔ فسانہ اور حقیقت ۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

آیت الله خمینی اور آیت اللہ مطہری کی زبانی حضرت عمرؓکے فضائل کا بیان۔حمزہ ابراہیم

متعدد شیعہ علماء اور سکالرز نے اپنی کتب اور تقاریر میں خلفاۓ راشدین کی مدح کی ہے، اور اگرچہ وہ خاتم الخلفاء حضرت علی کو افضل الخلفاء اور خلافت کا صحیح حقدار مانتے ہیں لیکن خلفاۓ راشدین کے طرز حکومت کوبطور کلی اسلامی سمجھتے ہیں اور ان کے معاملے کو طلقاء (فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردگان) کی حکومت سے جدا رکھتے ہیں۔ اسی طرح اصحاب رسول میں مہاجرین و انصار کو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہونے والوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ آیت الله خمینی اور آیت اللہ خوئی جیسے بڑے شیعہ محققین یہی موقف رکھتے ہیں۔ لیکن … Continue reading آیت الله خمینی اور آیت اللہ مطہری کی زبانی حضرت عمرؓکے فضائل کا بیان۔حمزہ ابراہیم

بھارت کے مسلمانوں میں اصلی سیکولر سیاست کی لہر۔۔حمزہ ابراہیم

بھارت میں شہریت کا نیا قانون منظور ہوا ہے جس کے مطابق صرف ان غیر ملکیوں کو بھارت کی شہریت دینے کا اعلان کیا گیا ہے جو مسلمان نہیں ہیں۔ اس طرح آسام اور بنگال میں بنگلہ دیش اور برما سے آنے والے مسلمانوں کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتا گیا ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک بھر کے مسلمان نوجوان طلبہ میں احتجاج کی لہر پیدا ہو گئی ہے اور جدید عقلی علوم حاصل کرنے والے طلبہ نے علماء کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں … Continue reading بھارت کے مسلمانوں میں اصلی سیکولر سیاست کی لہر۔۔حمزہ ابراہیم