ثقافتی مسلمان اور تمدنی مرتد

(وہابیہ اور غامدیہ کی خدمت میں ایک نارمل مسلمان کی کچھ گزارشات) ”کلچرل مسلمان“ کی اصطلاح کئی قارئین نے سن رکھی ہوگی۔ یہ اصطلاح ان افراد کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو عقیدے کے اعتبار سے مسلمان نہیں رہتے لیکن پھر بھی عام مسلمانوں کا سا رہن سہن رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ السلام علیکم، وعلیکم السلام، ماشاء اللہ، انشاء اللہ جیسے کلمات ادا کرتے ہیں۔ عیدین، رمضان اور عاشور جیسے اسلامی ایونٹس کے اہتمام میں شریک رہتے ہیں، حتیٰ کہ عید اور جمعہ کی نماز بھی پڑھ لیتے ہیں۔ بچوں کے نام مسلمانوں والے رکھتے ہیں … Continue reading ثقافتی مسلمان اور تمدنی مرتد

انجینئر علی مرزا کی صوفیاءِ کرام پر تنقید کے بنیادی سورسز (ذرائع) کیا ہیں؟

1۔ جی سلیمان مصباحی نےایک ویڈیو میں یہ کرامت بیان کی ہے 2۔ رضا ثاقب مصطفائی کی نئی کہانی سن لیں 3۔ سید امین القادری (انڈیا) کی انوکھی کرامت ،ایہہ پکی کہانی اے انجینئر مرزا صاحب کے نزدیک ان حضرات کی ویڈیوز کی بنیاد پر وہ جس کے خلاف چاہے زہر اُگلنا شروع کردے ۔ حالانکہ نہ براہِ راست ان سے کچھ سنا ہے اور رہی بات کتابوں کی تو ایک شخصیت کے فوت ہونے کے دو سال بعد ایک کتاب لکھی جارہی ہے، کیا اس میں لکھی گئی ہر بات ہی صاحبِ قبر کا مؤقف و عقیدہ تھا؟ کئی … Continue reading انجینئر علی مرزا کی صوفیاءِ کرام پر تنقید کے بنیادی سورسز (ذرائع) کیا ہیں؟

Mu’uawiya and Ali

“One day, Jariya Ibnu Qudama visited Mu’awiya who, at the time, was the head of the Muslim-Arab Empire. Three of the Roman emperor’s ministers happened to be also present. Mu’awiya said to Jariya: Were you not one of Ali’s allies in all of his opinions? Jariya said: Leave Ali (کرم اللٰہ وجہہ الکریم) aside, for we have not despised him since we loved him, nor have we cheated him since we advised him. Upon this Mu’awiya said to him: Woe to you o Jariya! You must have been lowly in your parents’ eyes, for they called you Jariya (meaning slave … Continue reading Mu’uawiya and Ali

اسلام میں فرقے کیسے بنے ؟

اصحابِ رسول صلی اللٰہ علیہ وسلم کے دینی عقائد میں انتہائی فروعی اختلافات کے علاوہ کوئی اختلاف نہیں تھا، تمام بنیادی اور ثانوی باتوں پر وہ متفق تھے۔ گویا ان میں فرقے یا مسالک نہیں تھے۔ میں جہاں تک تاریخ کو پڑھ کر سمجھ سکا ہوں، سیدّنا عثمان ذولنورین رضی اللٰہ عنہ کی شہادت کے وقت تک ان میں سیاسی جماعتیں یا دھڑے بندی بھی نہیں تھیں۔ سب مسلمان ایک ہی سیاسی جماعت تھے، ان کی سیاسی رائے میں اختلاف ہوسکتا تھا، ان کے رجحانات مختلف ہوسکتے تھے لیکن جب ایک بار عام بیعت ہوجاتی تو سب ایک خلیفہ کی … Continue reading اسلام میں فرقے کیسے بنے ؟

احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک علی (رضی اللہ عنہ) کو ایک خاص مقام حاصل ہے

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ کے نزدیک علی (رضی اللہ عنہ) کو ایک بلحاظ قرابت ایک خاص مقام حاصل ہے گرچہ شیخین (رضی اللہ عنہما) علی (رضی اللہ عنہ) سے افضل ہیں۔ ➊ قاضی ابو یعلٰی بن الفراء الحنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے دادا ابو القاسم رحمہ اللہ کے خط سے نقل کیا ہے، (انہوں نے) کہا: ابو الحسن محمد بن حُبیش البغوی المعدل پر پڑھا گیا کہ انہیں عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے بیان کیا، فرمایا: میں نے اپنے والد (احمد بن حنبل) سے پوچھا، میں نے کہا کہ رسول اللہ … Continue reading احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک علی (رضی اللہ عنہ) کو ایک خاص مقام حاصل ہے

امام ابو حنیفہ

امام ابو حنیفہ ۔ شیعان اھل بیت اطہار (ع) علامہ شھرستانی اپنی کتاب الملل و النحل ص 491 ج1 میں لکھتے ہیں : حضرت امام ابو حنیفہ رح نے امام سیدنا محمد بن عبداللہ المحض بن حسن المثنی بن حسن مجتبی بن علی الوصی (ع) [نفس الزکیہ ] کی بیعت کر لی تھی اور وہ ان کے شیعوں میں سے تھے۔منصور عباسی تک یہ بات پہنچی چنانچہ اس نے ابو حنیفہ کو قید کر دیا اور انہوں نے قید ہی کی حالت میں وفات پائی ۔ بیان کیا گیا ہے کہ جب منصور کے زمانے میں امام ابو حنیفہ نے … Continue reading امام ابو حنیفہ

امام علی رضا علیہ السلام

حضرت #امام_علی_رضا علیہ السلام(علي بن موسی بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب) (1) ترتیب:وکیلِ آل رسول مولانا #طارق_جمیل صاحب مدظلہم ======================================= نام ونسب : آپ سلام الله علیہ کا نام علی تھا،اور امام موسی کاظم کے صاحبزادے تھے ۔ والد کی کنیت کی طرح آپ کی کنیت بھی ابوالحسن تھی ۔ اور آپ کی عمدہ صفات کے پیش نظر آپ کو بہت سارے القابات سے نوازا گیا ۔ جیسے : صابر ( آزمائشوں پر صبر کرنے والا ) ، زکی ( پا کیزہ اخلاق والا ) ، ولی ( لین دین میں دیانتدار … Continue reading امام علی رضا علیہ السلام

ایک آزاد اور روشن ذہن کے لیے غامدی طرزِ فکر کو مسترد کرنے کے لیے یہی وجہ کافی ہے

ایک آزاد اور روشن ذہن کے لیے غامدی طرزِ فکر کو مسترد کرنے کے لیے یہی وجہ کافی ہے کہ اس فکری نظام میں سفید فام استعمار, نوآبادیاتی دنیا اور اس دنیا کے قومی ریاست جیسے بدبودار ڈھانچوں سے رتی برابر بھی بیزاری نہیں پائی جاتی۔ جس نے بھی نوآبادیات کے ثقافتی و علمی اثرات کا مطالعہ کیا پے وہ جانتا ہے کہ کوئی بھی غیر سفید فام شخص اگر سفید فام تہذیب کی بالادستی اور اس بالادستی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حاضر و موجود سے بیزار نہیں تو اس کی فکر نا تو اویجنل ہے نا سنجیدگی … Continue reading ایک آزاد اور روشن ذہن کے لیے غامدی طرزِ فکر کو مسترد کرنے کے لیے یہی وجہ کافی ہے

حضرت معاویہ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے سیاست دان تھے

حضرت معاویہ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے سیاست دان تھے, بڑی سخاوت کرکے انہوں نے لوگوں کے دل جیتے اور ان کے زمانے میں بڑی شاندار فتوحات ہوئیں۔ سیاست لفظ کا آج کل یہ مفہوم سمجھ لیا گیا ہے کہ کسی نا کسی طریقے سے اقتدار حاصل کرنے کا نام سیاست ہے۔ جھوٹ, بدعنوانی, دھوکہ, دھونس اور دیگر ایسے حربے جو عام زندگی میں برے سمجھتے جاتے ہیں, سیاست کی حد تک ٹھیک سمجھے جانے لگے ہیں۔ لفظِ سیاست کا یہ مفہوم بدقسمتی سے ہمارے مذہبی طبقے کے ذہن میں بھی بیٹھ گیا ہے۔ سیاست کا … Continue reading حضرت معاویہ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے سیاست دان تھے

خلافت راشدہ اور صحابہ کرام کا اختلاف

امام شافعی کتاب الأم باب اختلاف الحدیث میں لکھتے ہیں کہ جب کوئی خلیفہ راشد کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کر لیتے تو دیگر صحابہ کرام اس سے اختلاف کا اظہارِ نہیں کرتے تھے. اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں خلیفہ راشد کے فیصلے پر اطمینان ہوتا تھا یا اپنی رائے بدل لیتے تھے بلکہ اختلاف کو پسند نہیں کرتے تھے. انہوں نے متعدد ایسی مثالیں بیان کی ہیں جن میں بعد کے خلفاء نے اپنے پیشرو کی زندگی میں اختلاف نہ کرنے کے باوجود اپنے عہد میں اس سے مختلف فیصلہ کیا. امام شافعی کی رائے میں ایسی … Continue reading خلافت راشدہ اور صحابہ کرام کا اختلاف