تصوف کے حوالے سے چند فکری مغالطے

گزشتہ کافی عرصے سے ایک بات مسلسل مشاہدے میں آرہی ہے۔ دو بظاہر متضاد طبقات یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ تصوف مرکزی دھارے کے اسلام سے علیحدہ مسلم مذہبی روایت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ان دونوں طبقات کے محرکات الگ ہیں۔ ایک طبقہ ایسا تاثر دے کر تصوف کی نفی و مذمت کرتا ہے اور دوسرا طبقہ ایسا کر کہ اس کا اثبات و تعریف۔ یہ دونوں طبقات اسلامی روایت (کی اپنی اپنی خام تفہیم) سے بیزار ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایک کی بیزاری بنیاد پسندی کے نام پر ہے اور دوسرے کی جدت پسندی کے … Continue reading تصوف کے حوالے سے چند فکری مغالطے

ایران اور تاریخ اسلام

ہمارے ہاں (بلکہ پوری دنیا میں ہی) ایک مغالطہ یہ بھی ہے کہ ایران چونکہ ایک عظیم الشان سلطنت تھی اور مسلمانوں نے اسے ختم کردیا لہٰذا ایرانیوں میں ایک رنجش اور ملال پیدا ہوگیا جس کا نتیجہ ان کی علیحدہ مسلکی شناخت اور نتیجتہً علیحدہ سیاسی گروپنگ کی صورت نکلا۔ سننے میں تو یہ تھیوری بہت تگڑی لگتی ہے اور بڑے معقول لوگ بھی اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن تاریخ پر تھوڑا غور کریں تو ہے بہت غلط۔ شروع سے شروع کریں تو سیدنا عثمان رضی اللہٰ عنہ کے خلاف جو تحریک چلی، اس کا مرکز بھی کوفہ … Continue reading ایران اور تاریخ اسلام

اہل تشیع کے سیدّنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدّنا عمر فاروقؓ پر الزامات

امامیہ اہل تشیع کے سیدّنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدّنا عمر فاروقؓ پر الزامات جہاں روایت اور سند کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتے وہاں عقل سے بھی بری طرح ٹکراتے ہیں۔ جن لوگوں نے اسلام قبول ہی اسلام کے جاہ و جلال اور دنیاوی کامیابیوں کو دیکھ کر کیا، ان کے حوالے سے تو یہ بات گمان میں آسکتی ہے کہ وہ ویسی حرکتیں کریں گے جن کا الزام امامی حضرات ان بزرگوں پر دھرتے ہیں (اگرچہ ان پر بھی الزام کی مستند اور صحیح اسناد درکار ہوں گی) لیکن جو لوگ اس وقت اسلام لائے جب مسلمان بری طرح … Continue reading اہل تشیع کے سیدّنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدّنا عمر فاروقؓ پر الزامات

ذہنی سفر اور تنہائی کا تحفہ

میرے خاندان میں والد صاحب سمیت ننھیال اور ددھیال کے کئی افراد دارالعلوم دیوبند اور پاکستان بننے کے بعد یہاں کے دیوبندی مدارس کے فضلاء تھے. خود میں نے بھی جامعہ اشرفیہ لاہور سے 1966 میں دورہ حدیث کیا. مجھے لازما دیوبندی ہونا چاہیے تھا لیکن قیام لاہور( 1966_1975)کے دوران مولانا مودودی، ابو الکلام، شورش کاشمیری کو بالاستیعاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیگر سینکڑوں کتب پڑھ ڈالیں. علماء دیوبند کا تمام لٹریچر دینی مدارس میں تعلیم کے دوران پڑھ چکا تھا. قیام لاہور کے دوران پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ تحریکات میں حصہ لینے، جیل یاترا، وغیرہ … Continue reading ذہنی سفر اور تنہائی کا تحفہ

علمی دنیا کا چیلنج اور فرقہ واریت کا حل۔طفیل ہاشمی

کبھی آپ نے سوچا کہ نئے نبی کے آنے سے انسانیت امتوں میں بٹ جاتی ہے. ابراھیم علیہ السلام کے آنے سے امت نوح علیہ السلام کا ایک حصہ امت ابراھیم ہوگیا، پھر موسی علیہ السلام آگئے اور امت ابراھیم تقسیم ہو گئی. پھر عیسی علیہ السلام کے آنے سے امت موسی کے دو گروہ ہو گئے پھر پیغمبر اسلام آگئے اور انسانیت دو امتوں میں بٹ گئی. نبوت تو اللہ کی نعمت تھی. جس کے بارے میں اللہ نے ابتدائے آفرینش میں ہی آدم کو بتایا تھا کہ تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آتی رہے گی پھر یہ … Continue reading علمی دنیا کا چیلنج اور فرقہ واریت کا حل۔طفیل ہاشمی

دینی حلیہ

. تبلیغ کے کام میں وقت لگانا شروع کیا تو ابھی میں ایف ایس سی میں تھا کہ سر پہ پگڑی باندھنے کا شوق چرایا اور اِس کے لیے فضائل و دلائل کے انبار لگانا شروع کر دیے۔ اُس وقت میری عمر سولہ سترہ سال تھی۔ ابا جان ایک دن مجھے مولانا محمد احمد انصاری صاحب کے پاس لے گئے۔ مولانا نے فرمایا کہ تبلیغ کے کام میں پہلا مطالبہ اندر کی دنیا بدلنے کا ہے نہ کہ چھہ نمبر کی تقریر یاد کرنے کا یا صوفیانہ حلیہ بنانے کا۔ اپنا احتساب کرنے کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ میں … Continue reading دینی حلیہ

خلافت راشدہ کے بارے میں میرے نتائج فکر

خلافت راشدہ کا عقیدے سے نہیں، تاریخی حقائق سے تعلق ہے. جہاں تک خلفاء راشدین کی عظمت کی بات ہے تو وہ سب السابقون الاولون ہیں. یہ وہ مقام ہے کہ کوئی بعد کا فرد اس فہرست میں نام نہیں لکھوا سکتا. قرآن میں سینکڑوں آیات ان کی عظمت کی گواہ ہیں. جہاں تک خلافت، اس کی ترتیب اور اس حوالے سے افضلیت ہے اس کا عقیدے سے تعلق نہیں ہے. بلکہ واقعاتی حقائق سے ہے. عقیدے تاریخی اور سماجی یا سیاسی حرکیات سے جنم نہیں لیتے. خلفاء راشدین کی ترتیب الہامی نہیں بلکہ جمہوری ہے. کسی آیت قرآنی یا … Continue reading خلافت راشدہ کے بارے میں میرے نتائج فکر

وہ علماء و مبلغین جنہیں میں باقاعدہ سے سنتا ہوں :

وہ علماء / مبلغین جنہیں میں باقاعدہ سے سنتا ہوں : اہلسنت / صوفیاء : پیر نصیر الدین نصیر مرحوم ڈاکٹر طاہر القادری شیخ حمزہ یوسف شیخ ٹموتھی ونٹرز امام عمر سلیمان یاسمین مغید دیوبندی: مولانا طارق جمیل اہلحدیث: مفتی محمد اسحاق مرحوم بریلوی: رضا ثاقب مصطفائی امامی: علامہ نصرت عباس بخاری علامہ اخلاق حسین شیرازی ۔۔۔۔۔۔ وہ علماء جنہیں میں سنا کرتا تھا لیکن بیزار اور بدظن ہوکر چھوڑ دیا: ڈاکٹر اسرار احمد جاوید احمد غامدی احمد الیاس Continue reading وہ علماء و مبلغین جنہیں میں باقاعدہ سے سنتا ہوں :

خانوادہ نبوت اور سیاست کانبوی منہاج

ایک بھائ نے مصالحت کر کے تاریخ کے اوراق میں یہ ثبت کر دیا کہ خانوادہ نبوت کے جینز میں ہوس اقتدار کی کوئی علامت نہیں. اور دوسرے بھائ نے آل رسول کے خون سے خلافت وملوکیت کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ دی جسے سات سمندروں کے پانی سے بھی نہیں مٹایا جاسکتا. یہ سیاست سے بے خبری یا حکمت عملی کی نارسائی نہیں تھی بلکہ سیاسی دانش کا معراج کمال تھا کہ ہوس اقتدار اور جوع الأرض کے مقابلے میں یوں دست برداری لکھ دی کہ ہوس گل کا تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا . نواسے نے … Continue reading خانوادہ نبوت اور سیاست کانبوی منہاج

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل ایک مصری کالا شخص تھا ، اور راجح بات یہ ہے کہ اس کا تعلق بنی سدوس سے تھا لیکن روایات میں اس کے نام کو بیان نہیں کیا گیا لیکن اس کا لقب جِبلة تھا اور وہ کالی چمڑی والا تھا اور اس کا لقب کالی موت بھی تھا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بعض نے روایت کیا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل یھودی عبد اللہ بن سبا تھا کیونکہ وہ مصر سے آیا تھا اس کو ابن السوداء کہا جاتا تھا اور ابن سبا یھودی کی بعض صفات … Continue reading سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل