فتح مکہ
مکہ تو اسی روز ہتھیار ڈال چکا تھا جب حدیبیہ کے مقام پر سردارن قریش اپنے اس دعوے سے دست کش ہو کر معاہدہ کرنے آ گئے تھے کہ یہ ہمارے قبیلے کے چند بے راہ رو افراد ہیں جنہیں گرفتار کر کے سزا دینا ہمارا سماجی اور قانونی حق ہے. دو سال کی مہلت دراصل خیبر سے آنے والی ممکنہ اور متوقع امداد کو ہمیشہ کے لیے منجمد کر دینے کی فرصت تقدیر تھی. فتح خیبر کے بعد یہ اندیشہ نہیں رہا تھا کہ دشمن پیٹھ میں خنجر بھونک سکتا ہے. پھر اس عرصے میں دوسرے درجے کی مکی … Continue reading فتح مکہ