جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

کراچی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی ریٹائرڈ استاد ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ، جن کا ذاتی رجحان تکفیری خارجی گروہوں کی طرف ہے، نے چند روز قبل ایک پوسٹ استفساراً لکھی کہ ” علامہ تمنا عمادی،محمد جعفر شاہ پھلواروی اور غلام احمد پرویز تینوں ہی صوفی گھرانوں میں پیدا ہوئے اور خانقاہی ماحول میں پرورش پائی لیکن اس کے بعد تینوں ہی تصوف کے خلاف ہو گئے ۔ان کی یہ قلب ماھیت کیوں ہوئی؟ اسی “کیوں ” کی تلاش میں ہوں؟” ہم جب ان تین شخصیات کی تحقیقات و نظریات پر غور کرتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ نظامِ … Continue reading جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

The Caliph and the Imam

The Caliph and the Imam A Shocking Decision Sometime in 816 CE – year 200 in the Hijri calendar of Islam – the seventh Abbasid Caliph al-Mamun made a very strange decision. If near-contemporary historical narratives are to be believed, he offered his throne – and thus power over lands from India to Morocco – to the leader of his fiercest opponents, the Shi’a. It was a breathtakingly audacious decision – so audacious that it failed almost immediately. The eighth infallible Imam of the Shi’a, ‘Ali bin Musa al-Rida, was not interested. Al-Mamun had to recalibrate, and he did so … Continue reading The Caliph and the Imam

محمد بن ابوبکر رض

محمد بن ابوبکر رض کو ان کے والد کی وفات کے بعد سیدّنا علی رض نے پالا اور تربیت کی جبکہ محمد بن ابوحذیفہ رض کو ان کے والد کی شہادت کے بعد خود سیدّنا عثمان رض نے پالا اور تربیت کی۔ دونوں محمد عہدِ عثمان رض میں جوان ہوئے تو مصر کے گورنر عبداللہ بن سعد کی کرپشن اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ محمد بن ابوحذیفہ تو اپنے رشتہ داروں یعنی بنو امیہ کی مخالفت میں محمد ابن ابوبکر سے بھی آگے تھے کیونکہ آپ نے تو عبداللہ بن سعد کا تختہ ہی الٹ دیا۔ اس لیے … Continue reading محمد بن ابوبکر رض

مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ

تاریخ میں اٹھارہ ذی الحج کے دن حضور نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہجوم میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کا ہاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا : مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. ’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘‘ یہ اعلانِ ولایتِ علی (ع) تھا، جس کا اطلاق قیامت تک جملہ اہلِ ایمان پر ہوتا ہے اور جس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جو ولایتِ علی (ع) کا … Continue reading مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ

وما ینطق عن الھوی

ایک جگہ وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی سے یہ استدلال نظر سے گزرا کا آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ وحی ہوتا تھا ۔کیا اس آیت کا تعلق آپ کی گفتگو سے ھے۔اگر ایسا ھے تو میرا اشکال یہ ھے کہ 1_جو شخصیت اپنے اختیار اور ارادے سے کوئ بات نہیں کرتی اور کر سکتی وہ میرے لئے کیسے نمونہ ہو سکتی ھے کیونکہ میری کیمسٹری ہی مختلف ھے ۔وہ نعوذ باللہ ریموٹ کنٹرولڈ اور میں سیلف کنٹرولڈ، دونوں میں کوئ نقطہ اشتراک ہی نہیں ۔ میرے لئے میری طرح کا ارادہ … Continue reading وما ینطق عن الھوی

کربلا کی جنگ نہ پہلی جنگ ھے اور نہ آخری

کربلا کی جنگ نہ پہلی جنگ ھے اور نہ آخری ؛ وہ خونی رنگ والا پرچم کہ جو ساحل فرات پر امام حسین ع کے ہاتھ میں تھا، ایک ایسا پرچم ھے کہ جو تاریخ بشر میں آدم سے دست بدست ہوتا ہوا ان تک پہنچا ھے ؛ اور انہوں نے اپنے بعد اس اعلان کے ساتھ کہ ” ہر مہینہ محرم، ہر روز عاشورہ اور ہر زمین کربلا ھے ” اسے آئندہ کے سپرد کیا ھے اور اپنے علمبردار کے خیمے پر اس لئے ہمیشہ کے لئے لہرایا ھے تاکہ وہ ان نسلوں کو کہ جو تلواروں کو نیام … Continue reading کربلا کی جنگ نہ پہلی جنگ ھے اور نہ آخری

عمر بن سعد اور حُر بن یزید

عمر بن سعد اور حُر بن یزید ۔۔۔۔ ان دونوں جرنیلوں کو دنیاوی ترقی بھی چاہئیے تھی اور یہ امام حسین علیہ السلام کی صداقت کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ لیکن کربلا کے کے اخلاقی دوراہے پر جو فیصلہ ان دونوں کو درپیش تھا، اس ایک فیصلے نے دونوں کی قسمت بدل دی۔ حُر بن یزید الریاحی جس کا کوئی دین دار نسب نہ تھا، رسول اللہ ص یا امام حسین ع سے کوئی نسبی تعلق نہ تھا، ایک معمولی جرنیل تھا اور بس ۔۔۔ صرف ایک فیصلے کی بدولت دین کا ہیرو بن گیا۔ دوسری طرف عمر بن … Continue reading عمر بن سعد اور حُر بن یزید

سیدّنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں والی (گورنر) کی حیثئیت

سیدّنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں والی (گورنر) اور عامل (کمشنر) کی حیثئیت سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی تھی۔ وہ حکمران نہیں بلکہ سرکاری ملازم ہوتے تھے جن کا کام حکومتی پالیسی پر عمل درآمد اور صوبے یا علاقے میں تعینات مسلم فوجوں کی ضروریات کا خیال رکھنا ہوتا تھا۔ اسی سبب ان کا انتخاب تقویٰ اور علم سے زیادہ ان کی انتظامی و عسکری صلاحیتوں کی بنیاد پر عمل میں آتا تھا۔ خلیفہِ دوم کے گورنرز صوبے میں مالک و مختار ہرگز نہیں ہوتے تھے بلکہ ان سے زیادہ طاقتور امین المال اور قاضی ہوا کرتے … Continue reading سیدّنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں والی (گورنر) کی حیثئیت

محرم کے مہینے میں غامدیت اور دیوبندیتِ جدیدہ کا گٹھ جوڑ

محرم کے مہینے میں ایک خاص قسم کا غامدیت اور دیوبندیتِ جدیدہ کا گٹھ جوڑ وجود میں آتا ہے. سکرین شاٹ یہ صاحب دیدہ دلیری کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کو فساد فی الارض کہہ رہے ہیں، ہر سال نا معلوم اس طرح کی کتنی باتیں نظر سے گزرتی ہیں اور ایسی شخصیات کی پوسٹوں پر بھی جو یقیناً دیوبندیوں کے مطالعے میں بھی آتی ہیں، مگر مجال ہے کہ صحابہ کے نام نہاد علم برداروں کے کانوں پر جوں تک رینگے، کوئی ٹرینڈ چلے، صحابہ کے کچھ جیالے سامنے آئیں. مفتی محمد زاہد Continue reading محرم کے مہینے میں غامدیت اور دیوبندیتِ جدیدہ کا گٹھ جوڑ

علی مولا: بعض اعتراضات کا جائزہ

بشکریہ ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری سیدنا علی علیہ السلام کو مولا کہنے اور اسے ان کی خصوصی فضیلت قرار دینے پر کچھ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں؛ اس باب میں مختصر وضاحت پیش کی جا رہی ہے: ایک اشکال یہ ہےکہ مولا کو اضافت کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے؛ یعنی مولانا کہنا تو درست ہے مگر صرف مولا کہنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں کیوں کہ اصل بات متکلم کی مراد ومنشا ہے؛ اگر وہ اسے محبوب اور آقا کے معنی میں لیتا ہے تو دونو صورتوں میں جائز ہے یعنی اضافت کے ساتھ ہو … Continue reading علی مولا: بعض اعتراضات کا جائزہ