اگر مولانا آزاد کی بات مانی جاتی۔۔۔۔

یہ وہ حسرت بھری خواہش ہے جس کا اظہار ایک مخصوص حلقے کی طرف سے مسلسل کیا جاتا ہے۔ گویا یہ ملک جناح کے ضد نے بنائی اس کی ضرورت نہیں تھی، مسلمان متحدہ ہندوستان میں آسودہ تھے، آزاد کی حیثیت کانگرس میں فیصلہ کن تھی۔ آئیے ذرا اس پر ایک نظر دوڑاتے ہیں کہ “اگر مولانا آزاد کی مانی جاتی” جو جناح کی انتہا پسندی کی نظر ہوگئی۔۔ساتھ ایک ” دلیل” یہ بھی دی جاتی کہ دیکھیں بنگال کے علیحدہ ملک بننے پر جناح کی بصیرت تو ویسے بھی مشکوک ہو گئی۔۔۔بنیادی بات مسلمانوں کے خدشات تھے کہ وہ … Continue reading اگر مولانا آزاد کی بات مانی جاتی۔۔۔۔

ایں چہ بوالعجبی است – تحریر: سید زید زمان حامد

کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب اور ظالم ہوسکتا ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ ہجرت فرمانا چاہیں اور وہ سیدیﷺ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے، اور لوگوں کو سیدیﷺ کے ساتھ ہجرت سے روکے اور یہ کہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں کو مکے میں ہی اکٹھے رہنا چاہیے؟کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب، گستاخ اور کافر ہوسکتا ہے کہ جو غزوئہ بدر کے موقع پر ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو اور سیدی رسول اللہﷺ کے لشکر اور مدینہ منورہ کی ریاست کے خلاف جنگ کرے؟ اب ذرا دل تھام کر سنیں۔۔۔ اوپر بیان کردہ دونوں ظلم عظیم اور … Continue reading ایں چہ بوالعجبی است – تحریر: سید زید زمان حامد

قدیم لکھنؤ میں عزاداری از عبد الحلیم شرر۔۔۔حمزہ ابراہیم

دکن کی شیعہ سلطنت کےمغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے حملوں کے نتیجے میں زوال کے بعد ہندوستان کی مسلم تہذیب کا مرکز دہلی ہی رہ گیا تھا جو ایک صدی میں زوال پذیر ہوا تو لکھنؤ مسلم تہذیب کا قبلہ قرار پایا۔ اردو کے معروف ادیب اور اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے عالم دین مولانا عبد الحلیم شرّر (1860۔1926)نے اپنی کتاب “گزشتہ لکھنؤ-مشرقی تمدن کا آخری نمونہ” میں اس شہر کی تہذیب اور رہن سہن پر روشنی ڈالی ہے۔ اس مضمون میں 1974 ء کی چاپ سے ماہ محرم کی نسبت سے اہمیت رکھنے والے اقتباسات پیش … Continue reading قدیم لکھنؤ میں عزاداری از عبد الحلیم شرر۔۔۔حمزہ ابراہیم

یوم شہداء کی مناسبت سے شیعہ شہیدوں کا تذکرہ ۔۔حمزہ ابراہیم

پاکستان میں کل 6 ستمبر کو یوم شہداء منایا گیا۔ شہیدوں کی یاد منانا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ تاریخ انسانی معاشرے کا حافظہ ہوتی ہے۔ اگر معاشرہ تاریخ کو بھلا دے تو تاریخ اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں شہیدوں کی یاد منانے کیلئے نہ صرف تقریبات اور یوم مناۓ جاتے ہیں بلکہ ان شہیدوں کے آثار کو عجائب گھروں میں رکھا جاتا ہے تاکہ نئی نسل ان اسباب سے آگاہ ہو سکے جنہوں نے ان شہیدوں سے ان کی زندگی چھین لی، اور یہ سبق حاصل کر سکے کہ ان شہیدوں پر ہونے والے … Continue reading یوم شہداء کی مناسبت سے شیعہ شہیدوں کا تذکرہ ۔۔حمزہ ابراہیم

عرب دنیا میں حافظ الاسد کا کردار – حمزہ ابراہیم

حال ہی میں اوریا مقبول جان صاحب نے شام کے حوالے سے ارشادات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔شام کے بحران کے حوالے سے اپنے تعصبات کے زیر اثر آ کر جو جھوٹ اور نفرت پاکستان میں پھیلائی جا رہی ہے اس کا شام کی خانہ جنگی پر تو کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑے گا لیکن یہاں کے معصوم بچوں کے ذہن ضرور گمراہ ہوں گے۔وہ اپنے ملک میں رہنے والے دوسرے مسالک کے لوگوں کے بارے میں تعصب کا شکار ہو جائیں گے۔ کراچی یونیورسٹی کے سعد عزیز اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نورین لغاری کے ذہن … Continue reading عرب دنیا میں حافظ الاسد کا کردار – حمزہ ابراہیم

مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله کی میراث کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔۔حمزہ ابرا ہیم

ہندوستان میں مسلمان حکمران خاندانوں کے دورِ حکومت میں علماء حکومتی اداروں کی مدد سے اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ مسلمان معاشرے میں راسخ العقیدتی کی جڑیں مضبوط رہیں تاکہ اس کی مدد سے وہ اپنے اثر و رسوخ کو باقی رکھ سکیں۔ حکومتوں نے علماء کا تعاون حاصل کرنے کی غرض سے جہاں انہیں حکومتوں کے اعلیٰ عہدوں (قاضی، حکیم وغیرہ)پرفائز کیا، وہاں اس کے ساتھ انہیں ”مدد ِمعاش“ کے نام سے جاگیریں دے کر معاشی طور پر خوش حال رکھا۔ اس لیے علماء اور حکومت کے درمیان مفاہمت اور سمجھوتے کے جذبات قائم رہے اور انہوں … Continue reading مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله کی میراث کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔۔حمزہ ابرا ہیم

سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی جہاد تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی ۔۔حمزہ ابراہیم

سید احمد شہید 1786ء میں بریلی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد 18سال کی عمر میں ملازمت کی تلاش میں نکلے اور لکھنؤ آئے مگر انہیں ناکامی ہوئی اور ملازمت نہ مل سکی ۔ اس پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے دہلی میں شاہ عبدالعزیز کے مدرسے میں تعلیم حاصل کریں گے۔ 1806ء سے 1811ء تک انہوں نے دہلی میں قیام کیا ، اس کے بعد 25سال کی عمر میں امیر خان ،جو کہ ایک فوجی مہم جُو تھے، کے ہاں ملازمت کرلی۔ اس سلسلے میں ان کے سیرت نگار یہ کہتے ہیں … Continue reading سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی جہاد تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی ۔۔حمزہ ابراہیم

پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ، وجوہات اور ان کا تدارک۔حمزہ ابراہیم

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ برصغیر میں مذہبی تشدد کے لحاظ سے بدترین ہے۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کراچی کے کلفٹن جیسے علاقوں میں کچھ لوگوں کی شراب نوشی کی تصویریں دیکھ کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ماضی میں پورا پاکستان ایسا تھا۔ اگرچہ کلاشنکوف اور بم کے عام ہو جانے سے شیعہ کشی کی وارداتیں بہت بڑھی ہیں، لیکن شیعہ اور سنی عوام میں تناؤ کے لحاظ سے عروج کا زمانہ پچھلی صدی کا پہلا نصف حصہ تھا۔ اس کے بعد سے یہ تعلقات بہتری کی طرف مائل ہیں۔تاریخی عمل سست ہوتا ہے اسلئے … Continue reading پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ، وجوہات اور ان کا تدارک۔حمزہ ابراہیم

احمد شاہ ابدالی: حملہ آور یا ہیرو ( ڈاکٹر مبارک علی ) ۔حمزہ ابراہیم

تاریخی شعور کی کمی کے باعث ہمارے ہاں اب تک حملہ آور اور ہیرو کے درمیان فرق نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاریخ کے عمل کو دلیل اور عقل کے بجائے جب جذبات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں واقعات تعصبات کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال احمد شاہ ابدالی ہے، اس کے بارے میں ہمارے ہاں دو نکتہ ہائےنظر ہیں۔ ایک میں اسے حملہ آ ور کہاں جاتا ہے کہ جس نے برصغیر ہندوستان پر حملے کر کے یہاں لوٹ مار کی ۔جبکہ افغانوں میں اسے ہیرو کا درجہ دیا … Continue reading احمد شاہ ابدالی: حملہ آور یا ہیرو ( ڈاکٹر مبارک علی ) ۔حمزہ ابراہیم

مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله : حقائق کیا ہیں؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔حمزہ ابراہیم

سنہ 1857ء کے بعد ہندوستان کے مسلمان معاشرے میں علماء کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے یہ بھی ضروری تھا کہ تاریخ میں ان کے مثبت کردار کو ابھارا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ تاریخ میں علماء نے ہمیشہ شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ اس قسم کی تاریخ لکھنے کا کام بھی علماء نے کیا اور یہ تاریخ عقیدت سے بھرپور جذبات کے ساتھ لکھی گئی کہ جس کو لکھتے وقت تاریخی واقعات کی تحقیق یا تجزیے کی ضرورت کو اہمیت نہیں دی گئی۔ بلکہ یہ کوشش کی گئی کہ علماء کی قربانیوں سے ان کے کردار … Continue reading مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله : حقائق کیا ہیں؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔حمزہ ابراہیم