حدیثِ عمار کے متعلق جاوید غامدی اور دیگر مخالفین کے اشکالات

بعض لوگوں کی طرف سے حدیثِ عمار پر اعتراض کرنے کے لیے امام ابو بکر الخلال رحمہ اللہ کی کتاب «السنة» (ص٤٦٣ رقم ٧٢١) سے امام احمد بن حنبلؒ، امام یحیی بن معینؒ اور امام ابو خیثمہؒ کا قول پیش کیا جاتا ہے: ❞أخبرني إسماعيل بن الفضل قال: سمعت أبا أمية محمد بن إبراهيم يقول: سمعت في حلقة أحمد بن حنبل، ويحيى بن معين وأبو خيثمة والمعيطي ذكروا: «يقتل عمار الفئة الباغية». فقالوا: ما فيه حديث صحيح. کہ انہوں (تینوں سمیت معیطی) نے کہا: «اس متعلق کوئی صحیح حدیث نہیں»❝ امام احمدؒ، امام یحیی بن معینؒ اور امام ابو خیثمہؒ … Continue reading حدیثِ عمار کے متعلق جاوید غامدی اور دیگر مخالفین کے اشکالات

عمرؓ سے متعلق پانچ شیعہ روایات

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله ربّ العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد وآله الطاهرين وصحبه. یہ عمرؓ سے متعلق پانچ شیعہ روایات ہیں جس میں سیدہ فاطمہؓ پر جو ظلم ہونا ہے اس کی خبر، یا بالفعل جو ظلم ہوا ہے اس کی خبر کا ذکر ہے۔ یہ پانچوں روایات معلول ہیں: ١) پہلی روایت: شیخ کلینی نقل کرتے ہیں: محمد بن يحيى، عن العمركي بن علي، عن علي بن جعفر أخيه، أبي الحسن عليه السلام قال: إن فاطمة عليها السلام صديقة شهيدة وإن بنات الأنبياء لا يطمثن. فرمایا ابی الحسن (موسیٰ کاظم) عليه السلام نے کہ فاطمہ عليها … Continue reading عمرؓ سے متعلق پانچ شیعہ روایات

امام ابوحنیفہ کی سیاسی زندگی

“بہرحال، لوگوں کا کچھ ہی خیال ہو لیکن اسلامی تاریخ کے طویل مطالعہ نے مجھے اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ خلفاء اربعہ میں سے ہر خلیفہ کا وجود اس خاص وقت کی ضرورت کی پکار کا قدرتی جواب تھا۔ الحیات الدنیا جس میں آدمی قرآن کی رو سے کبھی خیر سے آزمایا جاتا ہے اور کبھی شر سے, اسی الحیات الدنیا کا وہ دور جو حضرت مرتضی علیہ السلام کے سامنے آ گیا تھا، یعنی ایک طرف اسلام تھا اور دوسری طرف مسلمان تھے, ان دونوں چیزوں میں پیدا کرنے والوں نے ایک ایسا تعلق پیدا کر دیا تھا … Continue reading امام ابوحنیفہ کی سیاسی زندگی

یزید کی ولی عہدی ۔ ۔ ۔ فیصلہ کُن اقدامات

” عراق ، شام اور دوسرے علاقوں سے بیعت لینے کے بعد حضرت معاویہؓ خود حجاز تشریف لے گئے ، کیونکہ وہاں کا معاملہ سب سے اہم تھا اور دنیائے اسلام کی وہ بااثر شخصیتیں جن سے مزاحمت کا اندیشہ تھا وہیں رہتی تھیں ۔ مدینے کے باہر حضرت حُسینؓ ، حضرت ابنِ زُبیرؓ, حضرت ابنِ عُمرؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ اُن سے ملے ۔ حضرت معاویہؓ نے اُن سے ایسا درشت برتاؤ کیا کہ وہ شہر چھوڑ کر مکّے چلے گئے ۔ اِس طرح مدینے کا معاملہ آسان ہو گیا ۔ پھر انہوں نے مکّے کا رُخ … Continue reading یزید کی ولی عہدی ۔ ۔ ۔ فیصلہ کُن اقدامات

ساٹھ کی دہائی تک اکثر مسلمان بڑے امیرِ شام کو ٹھیک سے جانتے بھی نہیں تھے

ساٹھ کی دہائی تک اکثر مسلمان بڑے امیرِ شام کو ٹھیک سے جانتے بھی نہیں تھے۔ کتابوں میں ان کا ذکر کہیں ہوتا بھی تو صحابی یا خلیفہ کے نہیں، بلکہ پہلے مسلمان بادشاہ کے طور پر ہوتا۔ حالات یہ تھے کہ علامہ اقبال اور نسیم حجازی نے طارق بن زیاد اور عبدالرحمان الداخل سے سنجر و سلیم تک، محمود غزنوی سے اورنگزیب عالم گیر تک کوئی قابلِ ذکر مسلمان بادشاہ نہیں چھوڑا جس کی مدح سرائی نا کی ہو لیکن امیرِ شام کو ایسے اگنور مارا جیسے عقلمند لوگ اپنی زندگی میں toxic لوگوں کو اگنور کرتے ہیں۔ اقبال … Continue reading ساٹھ کی دہائی تک اکثر مسلمان بڑے امیرِ شام کو ٹھیک سے جانتے بھی نہیں تھے

حکومت کے جس نظام کو اسلام نے پیش کیا ہے

حکومت کے جس نظام کو اسلام نے پیش کیا ہے اس میں شک نہیں کہ خلفائے راشدین میں سے ہر ایک نے اپنے عملی نمونوں سے اس نظام پر عمل کرکے دکھایا ہے۔ لیکن یہ بات کہ اپنے اس نظام کے قائم کرنے پر اسلام کو اتنا اصرار ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے، مسلمانوں کا خون پانی سے زیادہ ارزاں نظر آنے لگے لیکن ہر قیمت پر اس نظام کے قائم کرنے کی کوشش میں مسلمانوں کو آخر وقت تک منہمک رہنا چاہیے، اسلامی نظامِ سیاست میں اتنی اہمیت صرف حضرت علی کرم اللہ وجہ کے عملی نمونے … Continue reading حکومت کے جس نظام کو اسلام نے پیش کیا ہے

انتخابی خلافت ۔ ۔ ۔ حضرت عثمانؓ و علیؓ

” حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انہوں نے کہا ” تمہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں ھے ۔ یہ تو اہلِ شُوریٰ اور اہلِ بدر کے کرنے کا کام ھے ۔ جس کو اہلِ شوریٰ اور اہلِ بدر خلیفہ بنانا چاہیں گے وہی خلیفہ بنے گا ۔ پس ھم جمع ہونگے اور اِس معاملے پر غور کریں گے ۔ ” ( ابن قُتَیبہ ، الامامۃ والسیاسۃ ) طَبری کی روایت میں حضرت علیؓ کے الفاظ یہ ہیں ” میری بیعت خفیہ طریقے سے نہیں ہو سکتی ۔ یہ … Continue reading انتخابی خلافت ۔ ۔ ۔ حضرت عثمانؓ و علیؓ

خلافت و ملوکیت

سوال: میں آپ کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کا بغور مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ آپ کی چند باتیں اہل سنت و الجماعت کے اجماعی عقائد کے بالکل خلاف نظر آرہی ہیں۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا بھی عیب بیان کرنا اہل سنت و الجماعت کے مسلک کے خلاف ہے۔ جو ایسا کرے گا وہ اہل سنت و الجماعت سے خارج ہوجائے گا۔ آپ کی عبارتیں جو اس عقیدے کے خلاف ہیں وہ ذیل میں نقل کرتا ہوں:۔ ’’ایک بزرگ نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے دوسرے بزرگ کے ذاتی مفاد سے اپیل کرکے اس تجویز کو جنم دیا‘‘۔ (خلافت … Continue reading خلافت و ملوکیت

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد نے یزید بن معاویہ کے پاس شام بھیجا

================================== امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : « وَيُقَالُ إِنَّهُ كَانَ مَعَهُ رُءُوسُ بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ، وَهُوَ الْمَشْهُورُ. وَمَجْمُوعُهَا اثَنَانِ وَسَبْعُونَ رَأْسًا، وَذَلِكَ أَنَّهُ مَا قُتِلَ قَتِيلٌ إِلَّا احْتَزُّوا رَأَسَهُ وَحَمَلُوهُ إِلَى ابْنِ زِيَادٍ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا ابْنُ زِيَادٍ إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ إِلَى الشَّامِ ». ’’ یہی قول مشہور ہے جو مجموعی طور پر 72 سر تھے اس لیے کہ جو شخص بھی قتل ہوا انہوں نے اس کا سر کاٹ لیا اور اسے ابن زیاد کے پاس لے گئے پھر ابن زیاد نے انہیں معاویہ بن یزید کے پاس شام بھجوا دیا ‘‘۔ (البدایة والنھایة لابن کثیر … Continue reading سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد نے یزید بن معاویہ کے پاس شام بھیجا