فکر غامدی ، تفردات اور علمی سرقہ

اہل علم کے مابین اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ محترم جاوید احمد غامدی صاحب کی بنیادی فکر دراصل ان کے نادر خیالات اور تفقہ فی الدین کا نتیجہ نہیں، بلکہ ماضی بعید و قریب کے چند علماءو فقہاء کی تحقیقات کا سرقہ ہے۔ راقم کو اس بابت پہلا احساس اس وقت ہوا جب جناب غامدی صاحب کی کتاب “میزان” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کتاب کی بنیادی فکر، استدلال اور یہاں تک کہ مثالیں بھی مولانا عمر احمد عثمانی صاحب کی کتاب “فقہ القرآن” سے ماخوذ ہیں۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ پوری کتاب میں کسی … Continue reading فکر غامدی ، تفردات اور علمی سرقہ

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل 1۔ تعارف جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب “برہان” میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں۔ نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین قائم کیا۔ اپنے مضمون کا آغاز وہ یہاں سے کرتے ہیں: “ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے، اُس کے لیے ہمارے ہاں ’تصوف‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ یہ اُس دین کے اصول و … Continue reading امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار

ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

مولانا عمار خان ناصر جدیدیت میں جاوید غامدی کی فکر سے متاثر ہیں اور اوائل اسلام کے تاریخی واقعات بارے ان کی تعبیر میں تقی عثمانی، محمود عباسی اور جاوید غامدی کے افکار کا رنگ نظر آتا ہے ۔ ان کے مقابل مولانا مفتی محمد زاہد، ملوکیت اور ناصبیت کے خلاف متقدمین اہلسنت کے افکار کے حامل ہیں ۔ ان کا ایک حالیہ مکالمہ درج ذیل ہے —- رد ناصبیت کے جوش میں حضرت عثمان کے قصاص کے مطالبے کو “غیر شرعی” ثابت کرنے کے لیے جو ایک نئی فقہ وجود میں لائی جا رہی ہے، اس کے کچھ نمونے … Continue reading ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

کراچی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی ریٹائرڈ استاد ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ، جن کا ذاتی رجحان تکفیری خارجی گروہوں کی طرف ہے، نے چند روز قبل ایک پوسٹ استفساراً لکھی کہ ” علامہ تمنا عمادی،محمد جعفر شاہ پھلواروی اور غلام احمد پرویز تینوں ہی صوفی گھرانوں میں پیدا ہوئے اور خانقاہی ماحول میں پرورش پائی لیکن اس کے بعد تینوں ہی تصوف کے خلاف ہو گئے ۔ان کی یہ قلب ماھیت کیوں ہوئی؟ اسی “کیوں ” کی تلاش میں ہوں؟” ہم جب ان تین شخصیات کی تحقیقات و نظریات پر غور کرتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ نظامِ … Continue reading جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

اصلاح کے نام نہاد دعوے دار

‎بھیا سچی بات ہے کہ اصلاح کے ان نام نہاد دعوے داروں نے ہمیں بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ ‎بڑے زوق شوق سے رمضان کی تراویح پڑھا کرتے تھے، جناب غامدی کے ایک شاگرد سے دو عشرے قبل طویل مکالمہ رہا، انہوں نے غامدی صاحب کی تحقیق سے اگاہ کیا اور قائل کر لیا کہ تراویح خالص نفل عبادت ہے اور رمضان تو خالصتا تخلیے کا مہینہ ہے، اپنے گھر میں عبادت کرنی چاہیے۔ ہم ایسے قائل ہوئے کہ تخلیہ میں عبادت تو کیا کرنا تھی، تراویح سے بھی گئے، کبھی پڑھنا بھی پڑی تو ایسے کہ جیسے خدانخواستہ قدرت پر … Continue reading اصلاح کے نام نہاد دعوے دار

غامدی صاحب کی عجیب و غریب خواہش

کل میں نے غامدی صاحب کا انتہائی پر اثر بیان سنا، جس میں انہوں نے بتایا کہ ابتداء وحی کا واقعہ جو کتب حدیث میں آتا ہے وہ منقطع ہے. یعنی اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے براہ راست کسی بھی صحابی یا صحابیہ نے اس طرح بیان نہیں کیا کہ وہ کہتی ہوں کہ میں نے رسول اللہ کو نزول وحی کا آغاز بیان کرتے ہوئے سنا. نیز جن افراد کو اولین راوی ہونا چاہیے تھا یعنی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ورقہ بن نوفل، یا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ … Continue reading غامدی صاحب کی عجیب و غریب خواہش

اسرائیلی دھشت گردی اور الموردیوں کی فکری لکنت

غامدی صاحب کے متبعین کے لیے مذھبی شناخت ایک ایسا کمبل ہے جس سے وہ خلاصی چاھتے بھی ہیں اور مجبوری ہے کہ اس سے لاتعلقی ممکن بھی نہیں ، فیشن زدگی ، گلیمر ، کلاس ، نیم لبرلیت کے کمپلیکس نے ان اصحاب کو ایک ایسے فکری انتشار ، بحران وشناخت کے مسئلہ میں مبتلا کر رکھا ہےکہ جس کے نتیجہ میں ایک الگ ھی قسم کی علمی ونظریاتی خواجہ سرائیت تخلیق پاتی ہے جو نہ مذھبی ھوتی ہے نہ لبرل نہ زمینی حقیقتوں سے اس کا تعلق ھوتا اور نہ درست تاریخی تناظر میں اس کو ایڈریس کیا … Continue reading اسرائیلی دھشت گردی اور الموردیوں کی فکری لکنت

مسئلۂ فلسطین کے متعلق مغالطے

ڈاکٹر محمد مشتاق محترم ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اپنی وال پر مسئلہ فلسطین سے متعلق فکری مغالطوں پر ایک سیریز شروع کر رکھی ہے۔ ان میں سے پہلی تین پوسٹیں درج ذیل ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسئلۂ فلسطین کے متعلق مغالطے ڈاکٹر محمد مشتاق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلا مغالطہ: قرآن مجید میں مسجدِ اقصیٰ سے مراد مدینہ منورہ ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مغالطہ کہ سورۃ بنی اسرائیل میں مسجدِ اقصیٰ سے مراد مدینہ منورہ اور اسراء سے مراد سفرِ ہجرت ہے، کوئی نیا مغالطہ نہیں ہے۔ پرویز اور دیگر منکرینِ حدیث ایسے شوشے پہلے بھی چھوڑتے رہے ہیں۔ (جاوید غامدی بھی اسی طرح کے خیالات … Continue reading مسئلۂ فلسطین کے متعلق مغالطے

مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت

مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت؟ — ڈاکٹر غلام شبیر جاوید احمد غامدی نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو فکر اسلامی کے افق پر مولانا مودودی، غلام احمد پرویز، امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر فضل الرحمان، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور دیگر براجمان تھے۔ جب یہ ابر ہائے کرم برس کر چھٹ چکے تو غامدی صاحب طلوع ہوئے اور میدان خالی تھا۔ شیریں دہن تو تھے ہی ادبی ذوق نے فصاحت و بلاغت کی کمک بہم پہنچائی، ذرائع ابلاغ کی ترقی نے ان کے فکری ترسیل کو برق رفتار … Continue reading مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت

Javed Ghamidi’s pro-rulers’ stance on early Islamic history

Author: Aamir Hussaini Can we not establish that who was right while discussing the events occurred after the martyrdom of Usman ibn Affan? Was Caliphate of Ali Ibn Abi Talib a bad design devised by the killers of Usman Ibn Affan? Was the Umayyad rulership a legitimate rule? Ghamidi’s reply to the first question is “No”, “Yes” in reply to the second question and then “yes” in reply to the third question. Can we call Ghamidi a moderate un-biased, non-partisan and non-sectarian scholar? Before considering these issues, we need to understand the process of making meta-narrative on the history of … Continue reading Javed Ghamidi’s pro-rulers’ stance on early Islamic history