جاوید غامدی صاحب سے سنیے میٹھی میٹھی مستندکہانیاں

یابان یعنی جاپان، دجال اور قرب قیامت – جاوید غامدی صاحب سے سنیے میٹھی میٹھی مستندکہانیاں تاریخی کتب ویسے تو غامدی صاحب اور ان کے مقلدین کے نزدیک ناقابل اعتنا ہیں (خاص طور پر اگر ان کتب اور روایات سے غامدی صاحب کے نظریات اور عقائد کو زک پہنچتی ہو) لیکن اگر غامدی صاحب کی زبان سے رطب و یابس قسم کی تاریخی کہانیاں نشر ہوں تو ان کے مستند ہونے پر کوئی شبہ نہیں رہ جاتا – یاد رہے کہ تاریخ کی فقط وہی کتاب یا روایت معتبر ہے جو فقط غامدی صاحب کے نزدیک معتبر ہے یا ان … Continue reading جاوید غامدی صاحب سے سنیے میٹھی میٹھی مستندکہانیاں

کیا یا رسول الله اور یا علی کہنا شرک ہے؟

اہل اسلام کی عظیم اکثریت خواہ ان کا تعلق کسی بھی علاقے یا فرقے سے ہو یا رسول الله اور یا علی کی صدا بلند کر کے الله تعالی کو اس کے پیاروں کا واسطہ دے کر ان کے وسیلے سے مدد کی درخوست کرتی ہے – بعض تنگ نظر فرقہ پرست افراد اس طرح کی استمداد (مدد طلب کرنے) کو بے جا طور پر شرک کہتے ہیں – جاوید غامدی ڈاکٹر اسرار احمد، محمد ابن عبدالوہاب اور بعض دیگر افراد اس عقیدے کو توڑ موڑ کر بیان کرتے ہیں اور بے جا طور پر اسے غلیظ ترین شرک کہتے … Continue reading کیا یا رسول الله اور یا علی کہنا شرک ہے؟

Hadith: Discussion of validity and authenticity

Background Because hadith is “the basis for most” Islamic laws and codes “at the detailed level”, which pertain “to people’s life, honour and property”, and because many (especially revivalist and conservative Muslims) consider these not just inspirational or informational but laws “sacrosanct or immutable Shari’ah” to be enforced, and because to others (especially modernist and liberal Muslims) the laws thus developed are “contrary to the intent and spirit of the Qur’an and Islam’s fundamental commitment to justice and fairness”, the “problem of the authenticity of the Sunnah” or hadith has become an issue for those (especially modernist and liberal Muslims) … Continue reading Hadith: Discussion of validity and authenticity

جنرل ضیاء الحق کی وفات پر جاوید احمد غامدی کی یاد گار تحریر

“صدر جنرل محمد ضیاء الحق اس ملك كی تاریخ میں پہلے سربراہِ مملكت ہیں جنہوں نے اسلام كے ساتھ اپنے تعلق كو بغیر كسی معذرت كے پورے اعتماد كے ساتھ ظاہر كیا۔ اسے برملا اس مملكت كی اساس قرار دیا۔ اس كے بارے میں صاف صاف كہا كہ وہ جس طرح ہماری انفرادی زندگی كا دین ہے، اسی طرح ہماری ریاست كا بھی دین ہے۔ اپنی سربراہی كے پہلے دن سے اس كے نفاذ كے لیے كوشاں ہوئے۔ علماء اور اہلِ دین كے ساتھ بہت عقیدت مندانہ رویہ اختیار كیا۔ ہر قومی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر، جہاں انہیں … Continue reading جنرل ضیاء الحق کی وفات پر جاوید احمد غامدی کی یاد گار تحریر

سندی مباحث اور انکار تاریخ

مولانا مودودی لکھتے ہیں: “جو تحقیق میں نے خلافت و ملوکیت میں پیش کی ہے، اس میں تاریخی روایات بمع حوالہ جات موجود ہیں – بعض فرقہ پرست افراد جو کہ ہر مسلک میں موجود ہیں تاریخ کی اپنی خواہش کے مطابق تطہیر اور تحریر ثانی کرنا چاھتے ہیں، اس کاوش میں کبھی کاتب، کبھی ناشر اور کبھی راوی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں تاکہ شخصی بتوں اور عقائد نما عصبیتوں کو بچایا جا سکے جبکہ اسی دوران تاریخ کی تدلیس ہوتی ہو تو ہو جائے – میں سندی مباحث پر سو فیصد انحصار تاریخ میں اس لیے نہیں کرتا … Continue reading سندی مباحث اور انکار تاریخ

جاوید غامدی کے افکار ونظریات

غامدی متاعِ حیات: غامدی صاحب جب چھٹی ساتویں جماعت کے طالب علم تھے اور پاک پتن میں رہائش پذیر تھے، تب مطالعہ وتحقیق کے لیے لائبریری جایا کرتے تھے۔ راستے میں ایک بینک کے دروازے پر پہرا دینے والے سنتری سے آنکھیں چار ہوتی تھیں۔ ایک روز اُس نے روک لیا۔ غامدی صاحب کے ہاتھ میں کوئی کتاب تھی۔ اُس نے کہا کہ: ”یہ کتاب پڑھ لو، یہ ایک بڑے آدمی کی کتاب ہے۔ اور میں تمہیں ایک اور کتاب دوں گا جس میں اِس کتاب پر علمی تنقید کی گئی ہے، کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے وہ بھی … Continue reading جاوید غامدی کے افکار ونظریات

جاوید غامدی کا جنرل ضیاء الحق اور افغان جہاد بارے بیانیہ کیا تھا؟

بدلتے حالات كے ساتھ متجددین کی تعبیرات بھی رنگ بدلتی رہی ہیں۔ لیكن اس معاملے میں جدید اسلام علمی دیانت كے اصولوں كی كیسی خلاف ورزی كا مرتكب ہوسكتا ہے اس كا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں جاوید غامدی صاحب نے افغان جہاد كے بارے میں گفتگو كرتے ہوئے یہ ارشادات فرمائے۔ ایك سائل، ڈاكٹر الطاف قادر صاحب، نے کہا:’’جن لوگوں نے افغان جہاد كی سرپرستی كی، اور قبائلی علاقے كے لوگوں كو استعمال كیا، ان لوگوں كو سزا دی جائے۔‘‘اس پر جاوید احمد غامدی صاحب نے فرمایا:“مجھے اِن سے سو فیصد اتفاق ہے۔ … Continue reading جاوید غامدی کا جنرل ضیاء الحق اور افغان جہاد بارے بیانیہ کیا تھا؟

ملفوف انکار حدیث کا فتنہ – نیا جال لائے پرانے شکاری

برصغیر میں جدید فتنہ انکار حدیث کے بانی اور سرخیل سرسید احمد خان تصور کئے جاتے ہیں جنہوں نے مغربی نظریات اورعقل و فلسفہ سے متاثر ہوکر نہ صرف جدید انکارِ حدیث کی داغ بیل ڈالی بلکہ اسلام کے بہت سے متفقہ مسائل کا بھی یا تو کلیة انکار کردیا یا پھر ان میں من مانی تاویل کردی جیسے معجزات کا انکار، فرشتوں کے وجود کاانکار، تجارتی سود کی حرمت کا انکار، پردہ کا انکار اور متعدد خرقِ عادت شرعی اُمور کاانکار وغیرہ۔10 البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ سرسیداحمد خان اَحادیث کی صحت کے منکر نہیں تھے بلکہ وہ … Continue reading ملفوف انکار حدیث کا فتنہ – نیا جال لائے پرانے شکاری

جاوید غامدی کا ذاتی اور علمی پس منظر

کہتے ہیں کہ انسان اپنے استادوں سے اور استاد اپنے شاگردوں سے پہچانا جاتا ہے۔ آیئے! اس حوالے سے ایک شاگرد، استاد اور استاذ الاساتذہ کی سوانح اور کردار وعمل کا جائزہ لیتے ہیں ۔ “حمیدالدین فراہی “ یہ 1900ء کا ذکر ہے۔ ہندوستان پر برطانوی سامراج کی دوسری صدی چل رہی تھی۔ ہندوستان کا وائسرائے مشہور ذہین اور شاطر دماغ یہودی ”لارڈ کرزن” تھا۔ ان صاحب کو مسلمانوں سے خدا واسطے کا بیر اور صہیونی مقاصد کی تکمیل کا شیطانی شغف تھا۔ انگریز نے برصغیر کی زمین پاؤں تلے سے کھسکتے دیکھ لی تھی۔ سونے کی ہندوستانی چڑیا کے … Continue reading جاوید غامدی کا ذاتی اور علمی پس منظر

جاوید غامدی اور انکارِ حدیث

حدیث نبویﷺ اور سیرت اسلام کے دفاع کی نہایت فصیل ہے، اس لئے کہ قرآن پاک میں اجمال ہے اور حدیث پاک میں پورے دین کی تعبیر و تشریح ہے۔ احادیث میں بہت سے آئندہ پیش آنے والے فتنوں کی امت کو اطلاع دی گئی ہے، عبادات و احکام، جو نفس پرستوں اور فرقہ پرستوں کے لئے وبال جان ہیں، ان کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، اور قرآن پاک کے اجمال کی تشریح و تفسیر کی گئی ہے۔ لہٰذا کچھ عرصہ قبل کے منکرین حدیث ہوں یا آج کل کے ملفوف منکرین جیسا کہ جاوید غامدی اور ان کے … Continue reading جاوید غامدی اور انکارِ حدیث