برصغیر میں انکارِ حدیث کی تاریخ اور اسباب

اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی وحی کے مطابق حضور ﷺ نے آئندہ زمانے کے مختلف فتنوں اور حوادث کا ذکر فرمایا جس کی تفصیل مختلف احادیث میں موجودہے۔ انکارِ حدیث کے فتنے کے بارے میں بھی حضورِ اکرمرنے مطلع فرمادیا تھا جیسا کہ آپؐکے درج ذیل فرمان سے واضح ہے : ”لا ألفين أحدکم متکئا علی أريکته، يأتيه الأمر من أمري مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول: لا أدري، ما وجدنا في کتاب الله اتبعناه ” (۱) ”میں تم میں سے کسی کو ایسا کرتے نہ پائوں کہ وہ اپنی مسہری پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو … Continue reading برصغیر میں انکارِ حدیث کی تاریخ اور اسباب

جاوید غامدی حدیث کو مانتے نہیں اور دعویٰ ہے کہ مانتے ہیں – ہارون الرشید

پہلا آدمی جس نے تربیت کی بیعت لی، وہ جنیدِ بغداد ہیں، سید الطائفہ۔ اس لیے نہیں کہ میری اطاعت کرو۔ کس نے کہہ دیا کہ صوفی یہ کہتا ہے میری اطاعت کرو —رہ گئے جاہل صوفی، تو شمس تبریز نے کہا تھا کہ ’’دنیا میں اتنے جعلی صوفی ہوتے ہیں، جتنے کہ آسمان پر ستارے۔‘‘ لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ تصوف بذاتِ خود غلط ہے۔ ہر روز ہزار جاہل مولوی ہم دیکھتے ہیں، ٹی وی پر چنگھاڑتے ہوئے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم علماء کے وجود سے انکار کردیں۔ تصوف کی تعریف … Continue reading جاوید غامدی حدیث کو مانتے نہیں اور دعویٰ ہے کہ مانتے ہیں – ہارون الرشید

جاوید غامدی کا ملفوف انداز میں انکار حدیث اور انکار تاریخ

جاوید غامدی اپنی کتاب ‘میزان’ میں ‘مبادئ تدبر حدیث’ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں :”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبارِ آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں اور جنہیں اصطلاح میں ‘حدیث’ کہا جاتاہے، ان کے بارے میں یہ دو باتیں ایسی واضح ہیں کہ کوئی صاحب ِعلم اُنہیں ماننے سے انکار نہیں کرسکتا۔ایک یہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حفاظت اور تبلیغ و اشاعت کے لئے کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا۔(i)دوسری یہ کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ … Continue reading جاوید غامدی کا ملفوف انداز میں انکار حدیث اور انکار تاریخ

جاوید غامدی صاحب کا علمی پس منظر – زاہد الراشدی

حضرت مولانا حمید الدین فراہیؒ برصغیر پاک و ہند کے سرکردہ علماء کرام میں سے تھے اور مولانا شبلی نعمانیؒ کے ماموں زاد تھے۔ ان کے اساتذہ میں مولانا شبلیؒ کے علاوہ مولانا عبد الحئی فرنگی محلیؒ، مولانا فیض الحسن سہارنپوریؒ اور پروفیسر آرنلڈ شامل ہیں۔ دینی درسیات کی تکمیل کے بعد انہوں نے جدید تعلیم بھی حاصل کی اور وہ بیک وقت عربی، اردو، فارسی، انگلش اور عبرانی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ حیدر آباد دکن کے دارالعلوم کے پرنسپل رہے جسے بعد میں جامعہ عثمانیہ کے نام سے یونیورسٹی کی شکل دے دی گئی۔ اور کہا جاتا ہے … Continue reading جاوید غامدی صاحب کا علمی پس منظر – زاہد الراشدی

غامدی صاحب، خبر واحد، سنت کی تعریف اور انکار حدیث کا راستہ – زاہد الراشدی

علماء کے سیاسی کردار، کسی غیر سرکاری فورم کی طرف سے جہاد کے اعلان کی شرعی حیثیت، علماء کرام کے فتویٰ جاری کرنے کے آزادانہ استحقاق، اور زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی شرعی ممانعت کے حوالہ سے محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے بعض حالیہ ارشادات کے بارے میں ان کالموں میں کچھ گزارشات پیش کی تھیں۔ ہمارا خیال تھا کہ غامدی صاحب محترم ان مسائل پر قلم اٹھائیں گے اور ہمیں ان کے علم و مطالعہ سے استفادہ کا موقع ملے گا۔ لیکن شاید ’’پروٹوکول‘‘ کے تقاضے آڑے آگئے جس کی وجہ سے غامدی صاحب کی … Continue reading غامدی صاحب، خبر واحد، سنت کی تعریف اور انکار حدیث کا راستہ – زاہد الراشدی

جاوید غامدی کے علمی تفردات – زاہد الراشدی

 میں غامدی صاحب کو حضرت مولانا حمید الدین فراہیؒ کے علمی مکتب فکر کا نمائندہ سمجھتا ہوں۔ اور مولانا فراہیؒ کے بارے میں میری رائے وہی ہے جو حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ کی ہے، البتہ امت کے جمہور اہل علم کے علی الرغم ان کے تفردات کو میں قبول نہیں کرتا۔ اور غامدی صاحب سے میں نے یہی عرض کیا ہے کہ علمی تفردات کو اس انداز سے پیش کرنا کہ وہ امت کے اجتماعی علمی دھارے سے الگ کسی نئے مکتب فکر کا عنوان نظر آنے لگیں، امت میں فکری انتشار کا … Continue reading جاوید غامدی کے علمی تفردات – زاہد الراشدی

غامدی صاحب کا تصور سنت – زاہد الراشدی

محترم جاوید احمد غامدی کے تصور سنت کے بارے میں’’الشریعہ‘‘ کے صفحات میں ایک عرصہ سے بحث جاری ہے اور دونوں طرف سے ہمارے فاضل دوست اس میں سنجیدگی کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔ راقم الحروف نے بھی’’غامدی صاحب کا تصور سنت‘‘ کے عنوان سے’ ’الشریعہ‘‘ کے جو ن ۲۰۰۸ء کے شمارے میں کچھ معروضات پیش کی تھیں – غامدی صاحب کے متعدد مضامین اور توضیحات کو سامنے رکھتے ہوئے راقم الحروف نے درج ذیل نکات پیش کیے تھے: غامدی صاحب سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجت ہونے کے قائل ہیں اور اس بارے میں وہ جمہور … Continue reading غامدی صاحب کا تصور سنت – زاہد الراشدی

جاوید غامدی صاحب، انکار حدیث اور اہلِ فتویٰ – مولانا زاہد الراشدی

میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ میں غامدی صاحب کے بعض افکار و نظریات سے اختلاف میں ان دوستوں کے ساتھ ہوں لیکن باقاعدہ شخصی فتویٰ کے لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ چند سنجیدہ مفتی صاحبان مبینہ اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے غامدی صاحب کے متعلقہ لٹریچر کا مطالعہ کریں اور خود سوالات و اشکالات مرتب کر کے انہیں اور ان کے معتمد رفقاءکو بھجوا کر ایک معقول متعینہ مدت کے اندر جواب و وضاحت کا تقاضا کریں، اگر وہ جواب نہ دیں یا ان کے جوابات تسلی بخش نہ ہوں تو اس کے بعد باضابطہ فتویٰ اگر ضروری … Continue reading جاوید غامدی صاحب، انکار حدیث اور اہلِ فتویٰ – مولانا زاہد الراشدی

جاوید غامدی اور انکار حدیث کی نئی شکل – نادر عقیل انصاری

پس منظراہل علم عرصے سے اس جانب توجہ دلاتے رہے ہیں کہ جاوید غامدی صاحب کے مکتب فکر کی بنیادوں میں سےایک انکارِ حدیث بھی ہے۔ محترم مولانا زاہد الراشدی نے برسوں قبل، غامدی صاحب کے موقف کو حدیث ہی نہیں، بلکہ سنتِ مواترہ کے انکارکے مترادف قرار دیا تھا، اور یہ بھی فرمایا کہ اس کی وجہ سے غامدی صاحب مسلمانوں کے بعض اجماعی عقائد کے منکر ہیں۔ اُن سے قبل مفتی عبدالواحد صاحب کی تنقید “تحفہ غامدی” کے عنوان سے شائع ہوئی تھی، اور مجلہ “صفدر” کے ایک خصوصی شمارے میں بہت سے علمائے کرام نے جاوید غامدی … Continue reading جاوید غامدی اور انکار حدیث کی نئی شکل – نادر عقیل انصاری

جاوید غامدی اور ملفوف انکار حدیث و انکار تاریخ – ایک علمی جائزہ

جناب غامدی صاحب نہایت ملفوف طریقوں سے حدیث کی حجیت اور تاریخ کی صحت کا انکار کرتے ہیں – کبھی وہ حدیث اور سنت میں تفریق پیدا کرتے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ اور حدیث دو الگ الگ اور مختلف چیزیں ہیں ۔کبھی فرماتے ہیں کہ حدیث سے دین کا کوئی عقیدہ، عمل اور حکم ثابت نہیں ہوتا۔کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ سنت، خبر واحد (اخبارِ آحاد) سے ثابت نںین ہوسکتی اس کے لیے تواتر شرط ہے۔ اس طرح وہ مختلف حیلوں بہانوں سے حدیث کی اہمیت گھٹانے اور اسے … Continue reading جاوید غامدی اور ملفوف انکار حدیث و انکار تاریخ – ایک علمی جائزہ