ابن تيميہ رحمه الله پردھرے گئے بہتانِ عظیم کا ازالہ

شيخ الإسلام ابن تيميہ رحمه الله پردھرے گئے بہتانِ عظیم کا ازالہ

کیا شيخ الإسلام ابن تيمية -رحمه الله- نے حدیث «من كنت مولاه فعلي مولاه» کا انکار کیا؟

برصغیر میں گزشتہ کئی عرصہ سے حنابلہ کے سرخیل، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر تہمت لگائی جاتی رہی ہے کہ آپؒ نے حدیث «من كنت مولاه فعلي مولاه» کا انکار ہے! جبکہ یہ سراسر جھوٹ اور دھوکا دہی پر مبنی ہے۔ آپ نے بعض حصہ یا طرق پر تو نقد کیا ہے یقیناً اس میں وہ منفرد بھی نہیں ہیں۔ بلکہ جس حصے پر آپ نے نقد کیا وہ شاذ و غیر محفوظ ہے۔ اب سب سے پہلے شیخ الاسلام کی کتاب سے وہ حصہ نقل کرتے ہیں جس کے نام پر دشمنانِ ابن تیمیہؒ آپ پر ناصبیت جیسی قبیح تہمت لگاتے ہیں جبکہ بدبخت دشمنان اہلبیت نواصب شان علی میں کمی کرتےہیں:

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وأما قوله: «من كنت مولاه فعلي مولاه» فليس هو في الصحاح لكن هو مما رواه العلماء، وتنازع الناس في صحته فنقل عن البخاري، وإبراهيم الحربي، وطائفة من أهل العلم بالحديث أنهم طعنوا فيه وضعفوه، ونقل عن أحمد بن حنبل أنه حسنه كما حسنه الترمذي، وقد صنف أبو العباس بن عقدة مصنفا في جميع طرقه.

وقال ابن حزم: الذي صح من فضائل علي فهو قول النبي صلى الله عليه وسلم: «أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي» ، وقوله: «لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله» وهذه صفة واجبة لكل مسلم ومؤمن وفاضل، وعهده صلى الله عليه وسلم أن عليا «لا يحبه إلا مؤمن، ولا يبغضه إلا منافق»، وقد صح مثل هذا في الأنصار أنهم «لا يبغضهم من يؤمن بالله، واليوم الآخر».

قال: وأما «من كنت مولاه فعلي مولاه» فلا يصح من طريق الثقات أصلا، وأما سائر الأحاديث التي يتعلق بها الروافض فموضوعة يعرف ذلك من له أدنى علم بالأخبار ونقلها.

― (ترجمہ)

❞اور رہ گئی یہ حدیث کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”من كنت مولاه فهذا علي مولاه“ (جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے)۔ یہ روایت صحاح (بخاری ومسلم کی صحیح) میں سے نہیں۔ لیکن یہ ان روایات میں سے ہے جو بعض علماء نے نقل کی ہے۔ مگر اس کے صحیح ہونے میں اختلاف ہے۔ امام بخاریؒ، امام ابراہیم الحربیؒ اور دوسرے اہل علم محدثین سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس روایت پر تنقید کی ہے، اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ اس حدیث کو حسن کا درجہ دیتے ہیں جیسا کہ امام ترمذیؒ نے بھی اسے حسن کہا ہے۔ ابو العباس بن عقدہ نے اس حدیث کی اسناد پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔

ابن حزم کہتے ہیں: فضائل علیؓ کے بارے میں مندرجہ ذیل حدیثیں صحیح ہیں:

١) آپ کو مجھے سے وہی نسبت جو ہارونؑ کو موسیؑ سے ہے بس یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

٢) غزوہ خیبر کے موقع پر رسول الله ﷺ کا یہ فرمانا کہ کل میں ایک شخص کو جھنڈا دوں گا جو الله اور اس کے رسول ﷺ سے محنت کرتا ہوگا، اور جس سے الله اور اس کا رسول محبت کرتے ہوں گے“۔

اور یہ صفت جو کہ ہر مؤمن اور مسلمان کے لیے واجب اور باعث فضیلت ہے کہ رسول الله ﷺ کا یہ عہد کہ:

٣) ”صرف مومن علیؓ سے محبت کریں گے اور صرف منافق آپ سے بغض رکھیں گے“۔

باقی رہی حدیث کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: “من كنت مولاه فهذا علي مولاه” (جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے) تو یہ صحیح نہیں ہے، اس کی کوئی بھی سند ثقہ راویوں پر مشتمل نہیں۔ اس کے علاوہ روافض جو احادیث علیؓ کے فضائل و مناقب کے بارے میں بیان کرتے ہیں وہ سب موضوع ہیں جیسا کہ علم حدیث سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے۔❝

[منهاج السنة النبوية لابن تيمية ٧/ ٣١٩-٣٢١]

قارئین! جیسا کہ شیخ الاسلام کے کلام سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس حدیث کے بارے میں محدثین کا اختلاف نقل کیا اور تصحیح و تضعیف کرنے والوں کا ذکر کیا۔ اور اس میں ان کی رائے ہے ہی نہیں بلکہ ابن حزم کی رائے نقل کی اور نہ ہی ان کی تائید کی۔ ہم پوچھتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ سے ایسی کون سی دشمنی ہے جس کے سبب اسے ان کا قول بنا دیا جاتا ہے جبکہ یہ ابن حزم کا کلام تھا۔ چنانچہ ابن حزم لکھتے ہیں:

والذي صح من فضائل علي فهو قول النبي صلى الله عليه وسلم أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي وقوله عليه السلام لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله وهذه صفة واجبة لكل مؤمن وفاضل وعهده علي السلام أن عليا لا يحبه إلا مؤمن ولا يبغضه إلا منافق وقد صح مثل هذه في الأنصار رضي الله عنهم أنه لا يبغضهم من مؤمن بالله وباليوم الآخر وأما من كنت مولاه فعلي مولاه فلا يصح من طريق الثقات أصلا وأما سائر الأحاديث التي تتعلق بها الرافضة فموضوعة يعرف ذلك من له أدنى علم بالأخبار ونقلتها.

― (ترجمہ)

❞اور فضائل علیؓ کے بارے میں یہ حدیثیں صحیح ہیں:

١) آپ کو مجھے سے وہی نسبت جو ہارونؑ کو موسیؑ سے ہے بس یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

٢) غزوہ خیبر کے موقع پر رسول الله ﷺ کا یہ فرمانا کہ کل میں ایک شخص کو جھنڈا دوں گا جو الله اور اس کے رسول ﷺ سے محنت کرتا ہوگا، اور جس سے الله اور اس کا رسول محبت کرتے ہوں گے“۔

اور یہ صفت جو کہ ہر مؤمن اور مسلمان کے لیے واجب اور باعث فضیلت ہے کہ رسول الله ﷺ کا یہ عہد کہ:

٣) ”صرف مومن علیؓ سے محبت کریں گے اور صرف منافق آپ سے بغض رکھیں گے“۔

باقی رہی حدیث کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: “من كنت مولاه فهذا علي مولاه” (جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے) تو یہ صحیح نہیں ہے، اس کی کوئی بھی سند ثقہ راویوں پر مشتمل نہیں۔ اس کے علاوہ روافض جو احادیث علیؓ کے فضائل و مناقب کے بارے میں بیان کرتے ہیں وہ سب موضوع ہیں جیسا کہ علم حدیث سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے۔❝

[الفصل في الملل والأهواء والنحل لابن حزم ٢٢٤/٤]

جی قارئین! تو یہ تھا ابن حزم کا کلام جسے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے نقل کیا اور اسے امام ابن تیمیہؒ سے منسوب کر کے پھیلایا جاتا ہے اور اس گنگا میں کئی دشمنانِ ابن تیمیہؒ ہاتھ دھوتے آئے ہیں، درحقیقت وہ ان کے بغض میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ حق و باطل کو خلط ملط کرتے ہیں❗

آخر اس حدیث پر شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کا موقف کیا تھا؟ اب امام ابن تیمیہؒ کا وہ قول نقل کرتے ہیں جس میں آپ نے خود اسے صحیح کہتے ہوئے نقل کیا:

والذي فيه من الصحيح ليس هو من خصائص الأئمة، بل ولا من خصائص علي، بل قد شاركه فيه غيره،…….مثل كون علي مولى من النبي صلى الله عليه وسلم مولاه فإن كل مؤمن موال لله ورسوله.

― (ترجمہ)

❞اور صحیح حدیث میں جن دیگر امور کا ذکر کیا گیا ہے اس میں نہ تو ائمہ کی کوئی خصوصیات ہیں اور نہ ہی علیؓ کی خصوصیات بلکہ اس میں دوسرے لوگ بھی آپ کے شریک ہیں؛ مثلاً۔۔۔۔۔۔۔ علیؓ کا ہراس انسان کا مولا ہونا رسول الله ﷺ جس کے مولا ہوں۔ اس لیے کہ ہر مومن الله اور اس کے رسول ﷺ سے دوستی رکھتا ہے۔❝

[منهاج السنة النبوية ٣٦/٥]

اب کوئی کہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اسے صحیح تو کہا مگر اس میں شریک کیسے ٹھہرایا؟ ان کے کہنے کا مقصد تھا کہ اس میں اور لوگ بھی شامل ہیں یا ہو سکتے ہیں یا دیگر لوگوں کے لیے بھی ان الفاظ میں فضیلت ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ الله کے نبی ﷺ کی یہ حدیث ہے:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قُرَيْشٌ، وَالأَنْصَارُ، وَجُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَأَشْجَعُ، وَغِفَارُ مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ»

― (ترجمہ)

❞رسول الله ﷺ نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار کے لوگ میرے مولا (دوست) ہیں۔ الله اور اس کے رسول کے سوا ان کا کوئی مولا (دوست) نہیں۔❝

[صحيح البخاري ٣٥٠٤، ٣٥١٢ \ صحيح مسلم ٢٥١٩، ٢٥٢٠ \ مسند أحمد ٧٩٠٤، ٩٠٣٥، ١٠٠٤٠، ١٠٢٤٥ \ سنن الدارمي ٢٥٦٤]

كتبه

حماد بن سعيد العلوي