خلفائے ثلاثہ کی تاریخ مولا علی کے بغیر نامکمل ہے ۔ سمیع اللہ سعدی

ایک متلون مزاج فیس بکی حضرت نے کتنی سادگی سے مولا علی کرم اللہ وجھہ کے بارے میں فرمایا کہ شروع کی چند لڑائیوں میں مولا علی کا نام آتا ہے،اس کے بعد سارے علاقے تو خلفائے ثلاثہ نے فتح کئے ،جبکہ خود حضرت علی کے دور میں ایک انچ زمین فتح نہ ہوئی اور وہ مسلمانوں سے لڑتے رہے ۔

حضرت علی کرم اللہ وجھہ کی اسلامی تاریخ میں مرکزیت اتنا روشن اور اتنا ظاہر باہر ہے کہ اس پر گفتگو ہی لاحاصل ہے، (اس موضوع پر ڈاکٹر علی شریعتی کا مضمون علی امین وحدت لائق مطالعہ ہے)، دورِ نبوی میں تو مولا کو مرکزیت حاصل ہی تھی ،اس پر بات کی ضرورت نہیں ،اس کا انکار معترض بھی نہ کر سکا ،البتہ خلافتِ راشدہ کے دور میں مولا علی خلفائے ثلاثہ کے مرکزی پارٹنر تھے ،مثلا:

1۔ کیا معترض کو پتا ہے کہ حضرت ابو بکر خود مرتدین کے قتال کے لئے جانا چاہتے تھے ،لیکن مولا علی کے کہنے پر یہ اصول بن گیا کہ خلیفہ خؤد کسی لڑائی میں نہ جائے گا ورنہ خلافت کا نظام درہم برہم ہوگا ،یہ روایت اسی وقت سے آج تک رائج ہے ۔

2۔ کیا معترض کو پتا ہے کہ دورِ ابی بکر میں مولا علی کے مشورے پر یہ روایت طے ہوگئی کہ مدینہ منورہ کی حفاظت کے لئے ایک خصوصی فوج تشکیل دی جائے جو مدینہ الرسول کی حفاظت کرے ،اور اس فوج کی سربراہی حضرت علی کے پاس تھی۔

3۔کیا معترض کو پتا ہے کہ حضرت عمر کی پوری خلافت میں یہ ترتیب رہی کہ جب تک مولا علی کا مشورہ نہ لیا جاتا ، کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا تھا اور حضرت عمر نے بہت دفعہ جم غفیر کے مشورے کو چھوڑ صرف مولا علی کا مشورہ لیا تھا ۔

4۔ کیا معترض کو پتا ہے کہ ہجری سال کی ابتدا ہجرت سے کرنے میں مولا علی کا مشورہ لیاگیا اور اسی کو سب نے قبول کیا ۔

5۔کیا معترض کو پتا ہے کہ دورِ عمر میں مالیا ت کا نظم و نسق مولا علی کے پاس تھا ،یہاں تک کہ حضرت عمر کی بطورِ خلیفہ نفقہ بھی حضرت علی نے ہی طے کیا تھا ۔

6۔کیا معترض کو پتا ہے کہ ارض سواد عراق کے بارے میں حضرت عمر نے جو تاریخی اجتہاد کیا ،اس اجتہاد میں ان کے واحد مشاور حضرت علی تھے ،اور مولا علی کے مشورے کے بعد ہی حضرت عمر کو اپنے اجتہاد پر اطمینا ن حاصل ہوگیا اور یہ حکم جاری کیا ۔

7۔کیا معترض کو پتا ہے کہ حضرت عمر نے جو واحد سفر مدینہ سے بیت المقدس کا کیا ،اس میں پوری خلافت کا نائب مولا علی تھے ۔

8۔کیا معترض کو پتا ہے کہ حضرت عمر جب حج کے لئے جاتے ،تو اگر اس سال مولا علی نہ جاتے تو مدینہ میں ان کانائب ہمیشہ مولا علی ہوتے ۔

9۔کیا معترض کو پتا ہے کہ جب ایک بڑی لڑائی (فارس کی لڑائی ) میں حضرت عمر کا خود جانے کا پروگرام بنا ،اکثر حضرات بلکہ شاید سب نے جانے کا مشورہ دیا لیکن مولا علی نے نہ جانے کا مشورہ دیا اور ایک بلیغ تقریر کی کہ حضرت عمر کو اکثریت کی بجائے مولا علی کا مشورہ لینا پڑا ۔

10۔کیا معترض کو پتا ہے کہ حضرت عثمان کے دور میں حدود کے بڑے فیصلے مولا علی کے سپرد تھے ۔

11۔ کیا معترض کو پتا ہے کہ حضرت عثمان کے دور میں جمع قرآن کے حوالے سے جو مشاورت ہوئی تھی،اس میں مولا علی کی رائے (اور چند دیگر صحابہ ) یہ تھی کہ دوبارہ جمع کیا جائے چنانچہ حضرت عثمان نے دوبارہ قرآن جمع کیا ۔

12۔ کیا معترض کو پتا ہے کہ فتح افریقہ میں حضرت عثمان نے جن چند صحابہ سے ایک ایک کر کے خصوصی مشورہ کیا تھا ،اس میں مولا علی سر فہرست تھے ۔

13۔ کیا معترض کو پتا کہ خلفائے ثلاثہ میں قضا کا محکمہ اور اس کو ترقی دینے میں مرکزی کردار مولا علی کا تھا ۔

12۔کیا معترض کو پتا ہے کہ مولا علی نے اپنے زمانہ خلافت میں نہری نظام کا ایک وسیع تصور دیا تھا اور بڑے پیمانے پر نہر کھدوائے گئے ۔

مولا علی نے اپنے زمانہ خلافت میں نظامِ حکومت کو کن نئے تصورات یا پچھلوں کے تصورات میں کن نئے مفید اضافے کئے ،تو اس کے لئے علی صلابی کی سیرۃ علی بن ابی طالب ملاحظہ فرمائی جائے ،تقریبا پچیس عنوانات کے تحت مصنف نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے ۔

خلفائے ثلاثہ بے شک عظیم حکمران تھے ،لیکن ان کی حکمرانی کو چار چاند لگانے میں بلا شبہ مرکزی کردار حضرت علی تھے ،یہی وجہ تھی کہ عرب کے سب سے اشجع آدمی کو خلفائے ثلاثہ لشکر میں نہیں بھیجتے تھے ،کیونکہ نظام مملکت چلانے کے لئے حضرت ابو بکر ہو ،حضرت عمر ہو یا حضرت عثمان ،انہیں مولا علی کے بہترین وصائب مشوروں کی ضرورت تھی۔اگر اسلام کی تاریخ خلفائے ثلاثہ کے بغیر نامکمل ہے اور یقینا نا مکمل ہے تو خلفائے ثلاثہ کی تاریخ مولا علی کے بغیر نامکمل ہے ۔