عورت کو تراویح کے لئے مسجد نہیں جانا چاہیے

برصغیر میں دیوبندی مکتب کی دو عظیم الشان علمی ہستیاں —- مفتی جسٹس تقی عثمانی مدظلہ العالی فتوی لکھ رھے ہیں اور مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ اس کی تصویب و تائید فرما رھے ہیں کہ عورت کو تراویح کے لئے مسجد نہیں جانا چاہئے ،، اور نہایت خطرناک وجہ یہ ھے کہ آج کل اسپیکر کے ذریعے آواز خواتین تک بھی پہنچائی جاتی ھے اور حافظ کی آواز بھی قیامت کی ھوتی ھے لہذا عورت پِٹ جائے گی ،، یعنی الگ مسجد کا بہانہ بھی نہیں چلے گا کہ خواتین کے لئے الگ انتظام ھے ،، الگ رہ کر … Continue reading عورت کو تراویح کے لئے مسجد نہیں جانا چاہیے

کربلا کی جنگ نہ پہلی جنگ ھے اور نہ آخری

کربلا کی جنگ نہ پہلی جنگ ھے اور نہ آخری ؛ وہ خونی رنگ والا پرچم کہ جو ساحل فرات پر امام حسین ع کے ہاتھ میں تھا، ایک ایسا پرچم ھے کہ جو تاریخ بشر میں آدم سے دست بدست ہوتا ہوا ان تک پہنچا ھے ؛ اور انہوں نے اپنے بعد اس اعلان کے ساتھ کہ ” ہر مہینہ محرم، ہر روز عاشورہ اور ہر زمین کربلا ھے ” اسے آئندہ کے سپرد کیا ھے اور اپنے علمبردار کے خیمے پر اس لئے ہمیشہ کے لئے لہرایا ھے تاکہ وہ ان نسلوں کو کہ جو تلواروں کو نیام … Continue reading کربلا کی جنگ نہ پہلی جنگ ھے اور نہ آخری

عمر بن سعد اور حُر بن یزید

عمر بن سعد اور حُر بن یزید ۔۔۔۔ ان دونوں جرنیلوں کو دنیاوی ترقی بھی چاہئیے تھی اور یہ امام حسین علیہ السلام کی صداقت کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ لیکن کربلا کے کے اخلاقی دوراہے پر جو فیصلہ ان دونوں کو درپیش تھا، اس ایک فیصلے نے دونوں کی قسمت بدل دی۔ حُر بن یزید الریاحی جس کا کوئی دین دار نسب نہ تھا، رسول اللہ ص یا امام حسین ع سے کوئی نسبی تعلق نہ تھا، ایک معمولی جرنیل تھا اور بس ۔۔۔ صرف ایک فیصلے کی بدولت دین کا ہیرو بن گیا۔ دوسری طرف عمر بن … Continue reading عمر بن سعد اور حُر بن یزید

سیدّنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں والی (گورنر) کی حیثئیت

سیدّنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں والی (گورنر) اور عامل (کمشنر) کی حیثئیت سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی تھی۔ وہ حکمران نہیں بلکہ سرکاری ملازم ہوتے تھے جن کا کام حکومتی پالیسی پر عمل درآمد اور صوبے یا علاقے میں تعینات مسلم فوجوں کی ضروریات کا خیال رکھنا ہوتا تھا۔ اسی سبب ان کا انتخاب تقویٰ اور علم سے زیادہ ان کی انتظامی و عسکری صلاحیتوں کی بنیاد پر عمل میں آتا تھا۔ خلیفہِ دوم کے گورنرز صوبے میں مالک و مختار ہرگز نہیں ہوتے تھے بلکہ ان سے زیادہ طاقتور امین المال اور قاضی ہوا کرتے … Continue reading سیدّنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں والی (گورنر) کی حیثئیت

امّاں ہاجرہ کے وارث، غازی عباس علمدار

مکہ مکرمہ میں صفا و مروہ کا درمیانی فاصلہ اور کربلائے معلی میں امام حسین اور غازی عباس کی مبارک قبروں کا درمیانی فاصلہ بالکل برابر ہے۔ صفا و مروہ کے درمیان سیدّہ ہاجرہ سلام اللہ علیہا نے اپنے بیٹے اور امام حسینؓ کے جدِ امجد سیدّنا اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں سعی کی تھی جبکہ غازی عباس کو سقائے حرم کہا جاتا ہے کیونکہ عاشور کے دن وہ اولادِ اسماعیل کے لیے پانی لانے کی سعی کررہے تھے۔ اللہ کی نشانیاں ! غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم نہایت اس کی حسین، ابتداء … Continue reading امّاں ہاجرہ کے وارث، غازی عباس علمدار

محرم کے مہینے میں غامدیت اور دیوبندیتِ جدیدہ کا گٹھ جوڑ

محرم کے مہینے میں ایک خاص قسم کا غامدیت اور دیوبندیتِ جدیدہ کا گٹھ جوڑ وجود میں آتا ہے. سکرین شاٹ یہ صاحب دیدہ دلیری کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کو فساد فی الارض کہہ رہے ہیں، ہر سال نا معلوم اس طرح کی کتنی باتیں نظر سے گزرتی ہیں اور ایسی شخصیات کی پوسٹوں پر بھی جو یقیناً دیوبندیوں کے مطالعے میں بھی آتی ہیں، مگر مجال ہے کہ صحابہ کے نام نہاد علم برداروں کے کانوں پر جوں تک رینگے، کوئی ٹرینڈ چلے، صحابہ کے کچھ جیالے سامنے آئیں. مفتی محمد زاہد Continue reading محرم کے مہینے میں غامدیت اور دیوبندیتِ جدیدہ کا گٹھ جوڑ

علی مولا: بعض اعتراضات کا جائزہ

بشکریہ ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری سیدنا علی علیہ السلام کو مولا کہنے اور اسے ان کی خصوصی فضیلت قرار دینے پر کچھ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں؛ اس باب میں مختصر وضاحت پیش کی جا رہی ہے: ایک اشکال یہ ہےکہ مولا کو اضافت کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے؛ یعنی مولانا کہنا تو درست ہے مگر صرف مولا کہنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں کیوں کہ اصل بات متکلم کی مراد ومنشا ہے؛ اگر وہ اسے محبوب اور آقا کے معنی میں لیتا ہے تو دونو صورتوں میں جائز ہے یعنی اضافت کے ساتھ ہو … Continue reading علی مولا: بعض اعتراضات کا جائزہ

کس نے سب سے بڑھ کر فکرِ حسین کی درستگی کو ثابت کیا

مجھ سے کوئی پوچھے کہ وہ کون شخص ہے جس نے سب سے بڑھ کر فکرِ حسین کی اصابت اور درستگی کو ثابت کیا تو میں کہوں گا وہ یزید ہے. واقعۂ کربلا کے بعد اس کے لیے ممکن تھا کہ وہ اپنی اور اپنی حکم رانی پر لگنے والے اس دھبے کو اپنے طرزِ عمل سے دھو دیتا، ایسا کرنے کی صورت میں وہ تاریخ میں نسبتاً بہتر جگہ پا سکتا تھا اور یہ ثابت کر سکتا تھا کہ حسین کو غلطی لگ گئی وگرنہ وہ اتنا بھی برا نہیں تھا، جو کام بے چارے آج یزید کے وکیل … Continue reading کس نے سب سے بڑھ کر فکرِ حسین کی درستگی کو ثابت کیا

کربلا پہ عجیب اعتراض

عجیب اعتراض ہے کہ زید کی دعا پر فرشتہ بھیج دیا اور کربلا میں وہ خاموش تماشائی رہا درحقیقت جب آپ واقعات کو انسانی کینوس پر دیکھتے ہیں تو وہ تمام اعتراضات جو ملحدین کرتے ہیں آپ کی راہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں میں واقعہ کربلا کو بڑے کینوس پر دیکھتا ہوں فرض کریں یہ واقعہ نہ ہوتا تو خلافت اور ملک عضوض میں کیسے امتیاز کیا جاتا امام حسین نے اپنے اور آل بیت رسول کے خون سے خلافت اور ملوکیت کے درمیان ایسی لکیر کھینچ دی ہے کہ ساری دنیا کے نواصب اپنی مشترکہ کوششوں سے … Continue reading کربلا پہ عجیب اعتراض