لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا اَلبحرُ عَلاَ و الموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم برسن … Continue reading لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر

غامدی صاحب و ملوکیت کی ناگزیریت

غامدی صاحب ودیگر کچھ حضرات ملوکیت کی سیاسی و معروضی جواز وناگزیریت کی جو بحث اٹھاتے ہیں وہ اول وآخر ” مفروضات ” پر مبنی ہے ۔ ان کے مطابق (1) اقتدار بنو امیہ سے باھر جاتا تو ” خانہ جنگی ” کا خطرہ تھا ۔ (2) سلطنت کے پھیلاو نے از خود ملوکیت کی ضرورت پیدا کر دی تھی ۔ (3) خلافت راشدہ کا نظام ممکن نہیں رھا تھا ۔ لیکن خود ملوکیت نے جو نتائج پیدا کیے ان کے سامنے ان “مذکورہ مفروضات” کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے کہ !! (1) خانہ جنگی تو پھر بھی … Continue reading غامدی صاحب و ملوکیت کی ناگزیریت

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد نے یزید بن معاویہ کے پاس شام بھیجا

================================== امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : « وَيُقَالُ إِنَّهُ كَانَ مَعَهُ رُءُوسُ بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ، وَهُوَ الْمَشْهُورُ. وَمَجْمُوعُهَا اثَنَانِ وَسَبْعُونَ رَأْسًا، وَذَلِكَ أَنَّهُ مَا قُتِلَ قَتِيلٌ إِلَّا احْتَزُّوا رَأَسَهُ وَحَمَلُوهُ إِلَى ابْنِ زِيَادٍ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا ابْنُ زِيَادٍ إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ إِلَى الشَّامِ ». ’’ یہی قول مشہور ہے جو مجموعی طور پر 72 سر تھے اس لیے کہ جو شخص بھی قتل ہوا انہوں نے اس کا سر کاٹ لیا اور اسے ابن زیاد کے پاس لے گئے پھر ابن زیاد نے انہیں معاویہ بن یزید کے پاس شام بھجوا دیا ‘‘۔ (البدایة والنھایة لابن کثیر … Continue reading سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد نے یزید بن معاویہ کے پاس شام بھیجا

ان کی کربلا خود چل کر مکہ و مدینہ پہنچ گئی

جو کسی بھی مصلحت کی وجہ سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ نہیں گئے ان کی کربلا خود چل کر مکہ و مدینہ پہنچ گئی۔ تحریر ڈاکٹر عاصم اللہ بخش۔ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالٰی کا برگزیدہ رسول مانتے ہیں …. ان کی تکریم کرتے ہیں، ان پر سلامتی کی دعا کرتے ہیں. یہ سب ہمارے ایمان کا حصہ ہے. نہ کریں تو مسلمان ہونے کا دعوئ خام ٹھہرتا ہے. لیکن کیا یہ سب کرنے سے ہم عیسائی بن جاتے ہیں ؟؟؟ ایسا نہیں ہے. کیونکہ عیسائی بننے کے لیے چند دیگر عقائد … Continue reading ان کی کربلا خود چل کر مکہ و مدینہ پہنچ گئی

مفتی تقی عثمانی اور سلمان تاثیر

سلمان تاثیر قتل کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں دیوبندی مسلک کے رہنما مفتی تقی عثمانی صاحب نے فرمایا تھا “یہاں صورت حال جو تھی وہ ذرا مشکوک تھی، جیسا بیان کیا کہ آیا واقعتاً اس کی بات گستاخی رسول تک پہنچتی تھی یا نہیں پہنچتی تھی یہ بات واضح نہیں تھی اس حالت میں اس (ممتاز قادری) نے اس (سلمان تاثیر) کو قتل کیا۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جذبہ اس کا بڑا نیک تھا۔ جذبہ یہی تھا کہ نبیؐ کی شان میں گستاخی ہوئی ہے لہذا میں اس کا بدلہ لوں … Continue reading مفتی تقی عثمانی اور سلمان تاثیر

عبداللٰہ بن مسعود رضی اللٰہ عنہ

سیدّنا عبداللٰہ بن مسعود رضی اللٰہ عنہ عبداللٰہ بن مسعود کے سابقون الاولون میں سے ہونے پر تو مکمل اتفاق ہے، جبکہ کئی روایات کے مطابق عبداللٰہ ابن مسعود سے پہلے صرف پانچ لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رض ان اصحاب میں بھی شمار کیے جاتے ہیں جو سیدّنا ابوبکر صدیق رضی اللٰہ عنہ کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے۔ آپ رض قریشی نہیں بلکہ تمیمی تھے اور آپ رض کا خاندان غلام تو نہیں تھا لیکن مکہ کے محنت کش اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ ایسے خاندان عموماً کسی قریشی خاندان کے حلیف بن جاتے تھے … Continue reading عبداللٰہ بن مسعود رضی اللٰہ عنہ

اپنے عشاق کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا

تبوک کے لیے نفیر عام تھا. قیصر ڈیڑھ لاکھ کا لشکر لے کر سب کچھ تہس نہس کرنے کے لیے روانہ ہو چکا تھا. مدینہ منورہ میں عام اعلان ہو گیا کہ بیمار، معذور، بچے، بوڑھے، خواتین اور بے سرو وسامان افراد کے سوا ہر کوئی جہاد کے لیے نکلے. یعنی عذر شرعی کے سوا جو بھی پیچھے رہ گیا، منافق سمجھا جائے گا.نوے کے قریب مدنی شہری حیلوں بہانوں سے پیچھے رہ گئے. آپ کے ساتھ تیس ہزار لوگ تھےلیکن ان میں بھی کچھ منافقین تھے جنہوں نے ایک موقع پر آپ کو ایک پہاڑی سے گرانے کی کوشش … Continue reading اپنے عشاق کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا

غامدی صاحب سے معذرت کے ساتھ۔ یاسر پیر زادہ

ویب ڈیسک 13 اکتوبر 2021 جنگ ایک سوال کافی عرصے سے دماغ میں کلبلا رہا تھا، بالآخر اُس کا غیر تسلی بخش جواب مل گیا۔ سوال یہ تھا کہ کیا اسلام میں متغلب کی حکومت کے خلاف مزاحمت کرنا جائز ہے ؟ متغلب کی حکومت سے مراد ایسی حکومت ہے جو اپنی طاقت کے بل بوتے پر غلبہ حاصل کرلے، اسے عوام کی تائید حاصل نہ ہو اور وہ کسی جمہوری طریقہ کار سے وجودمیں نہ آئی ہو۔ اس سوال کا بالواسطہ جواب میرے پسندیدہ عالم دین جاوید احمد غامدی نے اپنے حالیہ خطبات میں دیا ہے جو انہوں نے … Continue reading غامدی صاحب سے معذرت کے ساتھ۔ یاسر پیر زادہ

ابن تیمیہ ؒ اور سید مودودی

مجھے امام ابن تیمیہ ؒ کی جن باتوں سے کبھی اتفاق نہ ہوسکا ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ مدینہ طیبہ کا سفر مسجد نبوی ؐ میں نماز پڑھنے کےلیے تو جائز بلکہ مستحسن قرار دیتے ہیں ، مگر نبی ﷺ کے مزار مبارک کی زیارت کا اگر کوئی قصد کرے تو اس کو ناجائز ٹھیراتے ہیں ؛ میرے نزدیک یہ چیز کسی مسلمان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ حجاز جانے کے بعد مدینے کا قصد نہ کرے اور مدینے کا قصد کرتے وقت مزار پاک کی زیارت کی تمنا اور خواہش سے اپنے … Continue reading ابن تیمیہ ؒ اور سید مودودی

حسین احمد مدنی بارے علامہ اقبال کے اشعار

تحریر: وحیدالزمان طارق کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کی حضرت علامہ اقبال رح نے ان اشعار سے رجوع کر لیا تھا وہ ادھر ادھر کی مار رہے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوا اور ان کے پاس اگر کوئی بھی دلیل ہے تو پیش کریں۔ علامہ محمد اقبال نے ان اشعار سے کبھی رجوع نہیں کیا۔ یہ حضرت کے آخری اشعار تھے جو میاں محمد شفیع کو آپ نے املاء کروائے تھے جب علامہ کی بصارت جواب دے چکی تھی۔ اس کا ذکر زندہ رود میں موجود ہے۔ اس سلسلہ میں میری مفصل بات حضرت جسٹس جاوید اقبال اور ڈاکٹر اسرار … Continue reading حسین احمد مدنی بارے علامہ اقبال کے اشعار