اسلامی تصّوف میں صوفیاء کے پانچ طبقات

حضور صلعم کے زمانے میں چونکہ اھلِ بیت کے بعد صحابہ کا سب سے بڑا درجہ تھا اسیلئے مسجدِ نبوی کے چبوترے پر دن رات نشیب و فراز میں زندگی گزارنے والے قلیل تعداد میں اھلِ طریقت،  حقیقت و معرفت اصحابِ صفّہ کہلاتے تھے صوفی یا ولی یا عارف نہیں- وہ صوف لباس زیب تن کرتے تھے اسلئے اصحابِ صفّہ کہلاتے تھے وہ لوگ حضور کے مرید و طالب تھے اور مولا علی روحانی،  باطنی اور عرفانی خلیفہ کی حیثیت سے. انہیں علمِ لدنّی کی تعلیم اور عرفانِ الٰہی کی تربیت کرتے تھے جن میں حضرت بلال،  حضرت سلمان فارسی، … Continue reading اسلامی تصّوف میں صوفیاء کے پانچ طبقات

تصوف کے معترضین ہی مجوزین

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض علماء و مشائخ نے اوائل عمر میں علم دانی کے جوش میں آکر تصوف کی ضرور مخالفت کی لیکن بعد میں ان کو حقیقت سے آگاہی ہوئی تو نہ صرف تصوف کو عین اسلام ثابت کیا بلکہ اس پر عمل پیرا ہو کر مراتب قرب یعنی فنا فی اللہ اور بقا با للہ تک رسائی حاصل کی. ان حضرات میں مولانا جلال الدین رومی، حضرت امام غزالی ،حضرت امام احمد بن حنبل ،حافظ ابن قیم جو امام ابن تیمیہ کے شاگرد ہیں اور خود امام ابن تیمیہ ،ابن جوزی،قاضی شوکانی یمنی … Continue reading تصوف کے معترضین ہی مجوزین

امام ابو حنیفہ اور تصوف-مفتی امانت علی قاسمی

تصوف کی حقیقت اخلاق کی پاکیزگی اور باطن کی اصلاح، اپنا رشتہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط کرنا، دنیا سے بے رغبتی، آخرت کی فکر کرنا ، اپنی زندگی کو زہدوتقویٰ سے آراستہ کرکے رذائل سے اپنے آپ کو پاک وصاف کرنا ہے، تمام عبادات میں صفات حسن پیداکرنا اور منکرات سے نفرت پیدا کرناہے، انہی پاکیزہ صفات سے اپنے آپ کو متصف کرنے کو احادیث میں احسان کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، لیکن متعارف تصوف اور اس کا نام قرن اول اور قرن ثانی میں نہیں ملتا ہے، حدیث اور آثار صحابہ میں بھی اس کا ذکر نہیں … Continue reading امام ابو حنیفہ اور تصوف-مفتی امانت علی قاسمی

تصوف اور علمائے امت

مولانا عنایت اللہ عینی متخصص مرکز اہل السنت والجماعت تصوف؛ اسلام کی روح ہے اس کے ذریعے انسان پکا مومن اور دین اسلام کا عملی مسلمان بنتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس آیت مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔)سورۃ التوبۃ 119(ترجمہ : اے ایمان والو !اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔یہ حکم اس لیے فرمایا گیا کہ ایمان کی تازگی اور پرہیزگاری تب ہی آتی ہے جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہو جائے اور یہ معرفتِ خداوندی اولیاء کرام کی صحبت کے … Continue reading تصوف اور علمائے امت

اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کی روشن مثالیں

مو لا نا محمد امجد خان اسلام ایک عالم گیر مذہب ہے جہا ں پر یہ حقوق اللہ کادرس دیتا ہے وہیں یہ حقوق العباد پر  بھی زور دیتا ہے۔ حقوق العباد کے معا ملے میں یہ اتنا حساس ہے کہ حقوق اللہ تو اللہ تعالیٰ چاہیں تو معاف فر مادیں گے لیکن حقوق العباد اس وقت معاف نہیں ہو سکتے جب تک وہ بند ہ خود معاف نہ کر دے جس کے حقوق تلف کئے گئے ۔اسلام حقوق العباد میں نہ صرف اپنے ماننے والوں کے حقوق کا تعین کرتا ہے بلکہ دیگر مذاہب کے لو گوں کو بھی … Continue reading اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کی روشن مثالیں

’خواجہ سراؤں کا نکاح شرعی طور پر جائز ہے‘

بیورو رپورٹ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور 27 -جون 2016 پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 50 سے زائد مفتیان نے فتویٰ دیا ہے کہ خواجہ سراؤں کا نکاح شرعی طور پر جائز ہے۔ یہ فتوی تنظیم اتحاد امت پاکستان کی اپیل پر جاری کیا گیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ ضیا الحق نقشبندی کے مطابق 50 زائد مفتیان نے فتوی دیا ہے کہ ’ایسا خواجہ سرا جن میں جسمانی طور مردانہ علامات پائی جاتی ہوں ان کا ایسے خواجہ سرا سے نکاح جائز ہے جس میں زنانہ علامات موجود ہوں۔‘ فتویٰ کے مطابق واضح علامات والے … Continue reading ’خواجہ سراؤں کا نکاح شرعی طور پر جائز ہے‘

اسلام میں اقلیتوں کے حقوق

ابتدائیہ اسلام شرفِ اِنسانیت کا علمبردار دین ہے۔ ہر فرد سے حسن سلوک کی تعلیم دینے والے دین میں کوئی ایسا اصول یا ضابطہ روا نہیں رکھا گیا جو شرف انسانیت کے منافی ہو۔ دیگر طبقات معاشرہ کی طرح اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو بھی ان تمام حقوق کا مستحق قرار دیا گیا ہے، جن کا ایک مثالی معاشرے میں تصور کیا جاسکتا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کی اساس معاملات دین میں جبر و اکراہ کے عنصر کی نفی کرکے فراہم کی گئی : لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ … Continue reading اسلام میں اقلیتوں کے حقوق

اسلام میں عورت کا مقام اور کر دار

حسینہ عارف کاظمی خواتین انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہیں۔ جبکہ زمانہ جاہلیت میں جزیرۃ العرب میں عورت کے لئے کوئی قابل ذکر حقوق نہ تھے، عورت کی حیثیت کو ماننا تو درکنار اسکومعاشرے میں زندہ بھی رہنے کاحق تک نہ تھا، معاشرے میں عورت کا مرتبہ و مقام ناپسندیدہ تھا، وہ مظلوم اور ستائی ہوئی تھی، اور ہر قسم کی بڑائی اور فضیلت صرف مردوں کے لئے تھی۔ حتی کہ عام معاملات زندگی میں بھی مرد اچھی چیزیں خود رکھ لیتے اور بے کارچیزیں عورتوں کو دیتے، زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے اس طرزِ عمل … Continue reading اسلام میں عورت کا مقام اور کر دار