حضرت علی رضی اللہ عنہ. _خلیفہ بلا فصل

حضرت علی رضی اللہ عنہ. ___خلیفہ بلا فصل تحقیق سے وابستہ افراد ہمیشہ فرضیہ سے آغاز کرتے ہیں فرض کیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہو جاتے تو ان کے باقی تمام کمالات، فضائل اور مرتبہ پس پشت چلا جاتا اور استحقاق خلافت کی سب سے بڑی دلیل عم زاد رسول اور داماد رسول ہونا ہوتا نتیجتاً جس بادشاہی کا آغاز تیس سال بعد ہوا اور جسے ہمیشہ امت نے بس گوارا کیا اس کی ابتدا پہلے دن سے ہو جاتی اور اسے تقدس حاصل ہوتا. اسلام کے … Continue reading حضرت علی رضی اللہ عنہ. _خلیفہ بلا فصل

کالعدم تنظیمیں کالوجود کیسے رہتی ہیں

ماضی قریب ترین کی تاریخ میں ایک صاحب ہو گزرے ہیں۔ علامہ خادم حسین رضوی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ریکارڈ میں شستہ پنجابی اور رواں فارسی کے علاوہ اگر کچھ تھا تو وہ زباں کا زورِ بیاں تھا، مگر وہ بھی کیا۔بے دھڑک الزام دھرتے تھے اور خانہِ خدا میں قرآن سامنے رکھ کر دشنام پیلتے تھے۔ زمین پر کچھ مثالیں اگر انہوں نے قائم کی ہیں تو وہ جلاو گھیراو اور توڑ پھوڑ کی مثالیں ہیں۔ ورثے میں ہمیں وہ سعد نامی گرما گرم توے سے اترا ہوا ایک جوان اور فتنہ وفساد کی ایک روایت دے … Continue reading کالعدم تنظیمیں کالوجود کیسے رہتی ہیں

اسرائیلی دھشت گردی اور الموردیوں کی فکری لکنت

غامدی صاحب کے متبعین کے لیے مذھبی شناخت ایک ایسا کمبل ہے جس سے وہ خلاصی چاھتے بھی ہیں اور مجبوری ہے کہ اس سے لاتعلقی ممکن بھی نہیں ، فیشن زدگی ، گلیمر ، کلاس ، نیم لبرلیت کے کمپلیکس نے ان اصحاب کو ایک ایسے فکری انتشار ، بحران وشناخت کے مسئلہ میں مبتلا کر رکھا ہےکہ جس کے نتیجہ میں ایک الگ ھی قسم کی علمی ونظریاتی خواجہ سرائیت تخلیق پاتی ہے جو نہ مذھبی ھوتی ہے نہ لبرل نہ زمینی حقیقتوں سے اس کا تعلق ھوتا اور نہ درست تاریخی تناظر میں اس کو ایڈریس کیا … Continue reading اسرائیلی دھشت گردی اور الموردیوں کی فکری لکنت

تحریکِ خلافت، ہجرت اورابوالکلام آزاد

قاضی محمد عدیل عباسی پکے خلافتی اور کانگرسی تھے۔ اپنی مشہور کتاب “تحریکِ خلافت” میں انھوں نے بدلائل ثابت کیا ہے کہ 1920 میں ہجرت کا فتویٰ مولانا عبد الباری نے نہیں بلکہ مولانا ابوالکلام آزاد نے دیا تھا۔ اس فتویٰ میں انھوں نے لکھا تھا: “تمام دلائل شرعیہ حالات حاضرہ و مصالحِ مہمہ امت اور مقتضیات و مصالح پر نظر ڈالنے کے بعد پوری بصیرت کے ساتھ اِس اعتقاد پر مطمئن ہو گیا ہوں کہ مسلمانانِ ہند کے لیے بجز ہجرت کوئی چارہ شرعی نہیں۔ اُن تمام مسلمانوں کے لیے جو اِس وقت ہندوستان میں سب سے بڑا اسلامی … Continue reading تحریکِ خلافت، ہجرت اورابوالکلام آزاد

بین الاقوامی معاملات کے مطالعے اور تجزیے میں مسلکی عینک

بین الاقوامی معاملات کے مطالعے اور تجزیے میں مسلکی عینک کے استعمال سے زیادہ بے وقوفانہ غلطی اور کوئی بھی نہیں ہے۔ مسلم دنیا کی سیاست پر بحث کرتے ہوئے یہ غلطی کم علم مغربی مبصرین بھی کرتے ہیں اور ہمارے اپنے لوگ بھی۔ کسی شخص کا مشرقِ وسطیٰ کے بین الاقوامی سیاسی حالات پر تبصرہ اسی وقت غیر سنجیدہ ہوجاتا ہے جب وہ سعودی عرب کو اہلسنت اور ایران کو اہل تشیع کے نمائندے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران دو ریاستیں ہیں، تشیع یا تسنن کی پیشواء یا ٹھیکیدار ہرگز نہیں۔ ریاستیں اپنے مقاصد … Continue reading بین الاقوامی معاملات کے مطالعے اور تجزیے میں مسلکی عینک

مسئلۂ فلسطین کے متعلق مغالطے

ڈاکٹر محمد مشتاق محترم ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اپنی وال پر مسئلہ فلسطین سے متعلق فکری مغالطوں پر ایک سیریز شروع کر رکھی ہے۔ ان میں سے پہلی تین پوسٹیں درج ذیل ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسئلۂ فلسطین کے متعلق مغالطے ڈاکٹر محمد مشتاق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلا مغالطہ: قرآن مجید میں مسجدِ اقصیٰ سے مراد مدینہ منورہ ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مغالطہ کہ سورۃ بنی اسرائیل میں مسجدِ اقصیٰ سے مراد مدینہ منورہ اور اسراء سے مراد سفرِ ہجرت ہے، کوئی نیا مغالطہ نہیں ہے۔ پرویز اور دیگر منکرینِ حدیث ایسے شوشے پہلے بھی چھوڑتے رہے ہیں۔ (جاوید غامدی بھی اسی طرح کے خیالات … Continue reading مسئلۂ فلسطین کے متعلق مغالطے

صحابہ کرام کی گستاخی پر صحابہ کرام کا اسوہ

شعیب محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ صحابہ کرام کی گستاخی و توہین حرام اور ممنوع ہے۔ اس بارے میں احکامات اتنے واضح اور مشہور ہیں کہ ہر مسلمان ان سے واقف ہے۔ مگر جس طرح دیگر اسلامی احکامات میں کمی بیشی کی وجہ سے انسان گناہوں کا مرتکب ہو سکتا ہے، اسی طرح بہت ممکن ہے کہ صحابہ کرام کے خلاف بھی کسی کی زبان سے کچھ نازیبا کلمات ادا ہو جائیں۔ ایسے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے، اس بارے میں ہمارے ہاں افراط و تفریط کا مظاہرہ … Continue reading صحابہ کرام کی گستاخی پر صحابہ کرام کا اسوہ

سرسید احمد خان اور دیوبند کا مستقبل

اٹھارہ سو ستاون کے بعد جب دیوبند میں جدید دینی مدرسے کی تشکیل ابھی ابتدائی مراحل میں تھی تو سرسید احمد خان نے اس کے مستقبل کے حوالے سے تین اہم خدشات پیش کیے تھے۔ ایک یہ کہ یہ مدرسہ علم جدید کے سوالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر پائے گا۔ دوسرا یہ کہ اس سے پیدا ہونے والا طبقہ اپنی معاش کے لیے معاشرے پر ایک مستقل اور دن بدن بڑھتا ہوا بوجھ بنتا چلا جائے گا۔ اور تیسرا یہ کہ بلند کرداری کا وہ معیار جس کی توقع دین کے علمی وروحانی نمائندوں سے کی … Continue reading سرسید احمد خان اور دیوبند کا مستقبل

مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت

مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت؟ — ڈاکٹر غلام شبیر جاوید احمد غامدی نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو فکر اسلامی کے افق پر مولانا مودودی، غلام احمد پرویز، امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر فضل الرحمان، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور دیگر براجمان تھے۔ جب یہ ابر ہائے کرم برس کر چھٹ چکے تو غامدی صاحب طلوع ہوئے اور میدان خالی تھا۔ شیریں دہن تو تھے ہی ادبی ذوق نے فصاحت و بلاغت کی کمک بہم پہنچائی، ذرائع ابلاغ کی ترقی نے ان کے فکری ترسیل کو برق رفتار … Continue reading مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت

مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ

اٹھارہ ذی الحج کے دن حضور نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہجوم میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کا ہاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا : مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. ’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘‘ یہ اعلانِ ولایتِ علی (ع) تھا، جس کا اطلاق قیامت تک جملہ اہلِ ایمان پر ہوتا ہے اور جس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جو ولایتِ علی (ع) کا منکر ہے … Continue reading مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ