کیا تصوف کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے؟ محمد عامر خاکوانی

وزیراعظم عمران خان نے چند دن پہلے یہ بیان دیا کہ تصوف کا نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ ویسے تووزیراعظم کی سطح کی شخصیت ”چاہیے “والا بیان دینے کے بجائے ہمیں صرف یہ بتائے کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔یہ ہونا چاہیے، وہ ہونا چاہیے وغیرہ کی خواہشات تو ہم عام لوگ کرتے ہیں۔ وزیراعظم فیصلہ ساز ہیں،وہ تو فیصلہ کر کے اس پر عملدرآمد کرائیں۔ خیر تصوف کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے اور الگ سے کسی ادارے میں اس کی اعلیٰ تعلیم کی بات پر ہمارے ہاں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے تھی۔ اس کے بجائے یہ اہم تجویز … Continue reading کیا تصوف کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے؟ محمد عامر خاکوانی

غامدی سکول آف تھاٹ – محمد عامر ہاشم خاکوانی

جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں میری رائے زیادہ منفی نہیں۔ ہمارے ہاں ایک پورا حلقہ ان کا شدید نقاد ہے انہیں گمراہ اور معلوم نہیں کیا کیا کہتا ہے ان میں دینی مدارس کے طلبہ بھی ہیں اور روایتی دینی نقطہ نظر رکھنے والے کچھ اور لوگ بھی۔ جاوید غامدی صاحب کی بعض آرا سے ہمیں بھی شدید اختلاف ہے بعض سے زیادہ بعض سے کچھ کم۔ تصوف کے بارے میں ان کا نقطہ نظر مجھے سو فیصد غلط اور شدت کا شکار لگتا ہے۔ اکثر یوں لگا جیسے وہ کسی ردعمل کا شکار ہیں۔ ان کی تصوف … Continue reading غامدی سکول آف تھاٹ – محمد عامر ہاشم خاکوانی

تصوف کی روح -محمد عامر ہاشم خاکوانی

کہتے ہیں ایک بزرگ حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تشریف لائے، گفتگو ہونے لگی، امام ؒنے پوچھا ، آپ کے نزدیک فتوت(دلاوری ،شجاعت)کیا ہے۔ انہوں نے کہا، جب مل جائے تو شکر کرے، نہ ملے تو صبر کرے۔ امامؒ سن کر مسکرائے اور خاموش ہوگئے۔ ان صاحب نے استفسار کیا ، آپ نے کچھ فرمایا نہیں۔ امام جعفر صادق ؒ نے اس پر کہا، یہ تو ہمارے شہر کے کتے بھی کرتے ہیں، مل جاتے ہیں تو خوش ہو کر شکر ادا کرتے ہیں ، نہ ملے تو صبر سے بھوکے پڑے رہتے ہیں۔ مہمان بزرگ … Continue reading تصوف کی روح -محمد عامر ہاشم خاکوانی