غامدی سکول آف تھاٹ – محمد عامر ہاشم خاکوانی

جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں میری رائے زیادہ منفی نہیں۔ ہمارے ہاں ایک پورا حلقہ ان کا شدید نقاد ہے انہیں گمراہ اور معلوم نہیں کیا کیا کہتا ہے ان میں دینی مدارس کے طلبہ بھی ہیں اور روایتی دینی نقطہ نظر رکھنے والے کچھ اور لوگ بھی۔

جاوید غامدی صاحب کی بعض آرا سے ہمیں بھی شدید اختلاف ہے بعض سے زیادہ بعض سے کچھ کم۔ تصوف کے بارے میں ان کا نقطہ نظر مجھے سو فیصد غلط اور شدت کا شکار لگتا ہے۔ اکثر یوں لگا جیسے وہ کسی ردعمل کا شکار ہیں۔ ان کی تصوف کے بارے میں لکھی تحریریں میں نے پڑھی ہیں (جن میں وو تصوف کو اسلام کے متوازی دین قرار دیتے ہیں) – غامدی صاحب کے بعض اور تفردات سے بھی ہمیں اتفاق نہیں اور اپنی طالب علمانہ سوچ کے مطابق ان سے اختلاف کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ بدگمانی بھی ہوتی ہے کہ وہ بعض امور پر دانستہ منفرد رائے اپناتے ہیں شائد خود کو دوسروں سے ممیز کرنا مقصد ہو دوبارہ عرض کر دوں کہ یہ محض گمان ہے بدگمانی سمجھ لیجئے۔ ایک اور بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ غامدی صاحب کی رائے اتنی زیادہ تبدیل ہوتی رہتی ہے کہ میں اگر غلطی سے ان کے تلامذہ میں ہوتا تو اس ڈر کے مارے کسی رائے کا اظہار نہ کرتا کہ کہیں دو چار ماہ بعد پھر استاد محترم کی رائے بدل نہ جائے۔ اشراق کی پرانی فائلیں میں نے ذوق شوق سے خریدیں تھیں اشراق میں غامدی صاحب کی بہت سی آرا اب یکسر بدل چکی ہیں۔ اور ایک سو اسی کے زاویے کی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے اگر اسلامی ریاست کے حامی تھے تو اب سرے سے ریاست کے غیر مذہبی ہونے کے قائل ہیں (اضافہ: افغان جہاد میں مجاہدین کی حمایت کرتے تھے اب طالبان کے مخالف ہیں، جنرل ضیا الحق کے اسلامی نظام کے حق میں تھے) وغیرہ وغیرہ۔
غامدی صاحب میں خوبیاں بھی کئی ہیں۔ نہایت شائستہ انسان ہیں۔ بڑی متانت سے بات کرتے اور تحمل سے تنقید سن لیتے ہیں۔ ان کی چال ڈھال، بول چال، گفتگو، طور طریقے سب ایک نہایت حلیم، شائستہ اور عالمانہ مزاج رکھنے والے انسان کے ہیں۔ ان کے صاحب علم ہونے کے حوالے سے بھی کوئی شک نہیں۔ ٹی وی پر بولنے کے لئے جو خصوصیات درکار ہوتی ہیں، غامدی صاحب میں سب ہیں، مختصر، جامع جواب دینا، ون لائنر میں بحث سمیٹ دینا تحمل سے سوال سننا اور پھر عمدگی سے اسے نمٹا دینا وغیرہ وغیرہ۔

غامدی سکول آف تھاٹ کے لوگوں میں ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے الگ نہیں کرتے اور ایک الگ فرقہ بنانے سے گریز کرتے ہیں۔ اگرچہ غامدی صاحب کے میڈیا پر اوور ایکسپوژر اور ہر متنازع معاملے میں رائے دینے کی عادت نے انہیں خاصا متنازع بنا دیا ہے اور ایک خاصے بڑے دینی حلقے کے لئے وہ قابل قبول نہیں رہے ۔ چاہتے، نہ چاہتے ہوئے غٓامدی سکول آٖف تھاٹ ایک فرقہ کی سی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ مجھے خدشہ ہے کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ یہ تقسیم بڑھتی جا رہی ہے۔

مجھے ذاتی طور پر ایک بڑا شکوہ یہ ہے کہ غٓامدی سکول آٖف تھاٹ بہت سے ان ایشوز میں ویسی حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتا، جو عام مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔ پاکستانی تناظر میں بات کروں تو قادیانیوں کے حوالے سے غٓامدی صاحب ان کے تلامذہ اور فکری ہمنوائوں کا موقف کبھی سخت نہیں رہا۔ یوں لگا جیسے یہ سکول آٖف تھاٹ ہمیشہ قادیانیوں کو کسی حد تک قبول کرنے کی طرف مائل رہا ہے۔ اس کی اپنی وجوہات اور دلائل ہوں گے، مگر ایک عام مسلمان، دینی طبقےمیں اور اسلامسٹوں یا سیاسی اصطلاح مین رائٹسٹوں میں جس طرح قادیانی ایشو پر حساسیت پائی جاتی ہے، یہ بات مجھے غامدی سکول آف تھاٹ میں نظر نہیں آتی۔ غامدی صاحب کی ایک زمانے میں رائے تھی کہ قادیانیوں کے خلاف ترمیم سے ان کے حوالے سے دعوت وتعلیم کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے ۔ اب معلوم نہیں ان کی منضبط رائے کیا ہے، مگر اس سکول آٖف تھاٹ کے لوگ قادیانی ایشو میں کبھی سرگرم نظر نہیں آئے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ قادیانی ایشو کسی اور مذہب یا کمیونٹی کا معاملہ ہے