امیر معاویہ کا مقام ، صحیح احادیث اور تاریخ کی روشنی میں

آجکل بعض نواصب اور منکرین حدیث، صحیح احادیث کو مسترد کر کے ملوکیت کے زیر اثر بودی روایات کا سہارا لے رہے ہیں تاکہ نعوذ باللہ حضرت علی کرم الله وجہ، امام حسین رضی الله عنہ اور دیگر اہلبیت رضی الله عنہم کی تنقیص اور یزید پلید و حضرت معاویہ کا دفاع ممکن ہو، یہ بد بخت عیار صحابیت کے مقدس لیبل کے پیچھے سابقون الاولون رضی الله عنہم جیسی برگزیدہ ہستیاں، جہنوں نے اوائل اسلام سے آقا کریم صلی الله علیہ والہ وسلم کا ساتھ دیا، کے مقام کے ساتھ طلقا (فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردگان جن میں ہندہ، ابو سفیان، معاویہ، وحشی جیسے کردار ہیں) کو شامل کرنے کی نا پاک کوشش کرتے ہیں

حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ نے ارشاد فرمایا:

“رسول الله صلی الله علیہ و آلہ و سلم کے صحابیو! اپنے درمیان اتحاد رکھو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو خلافت کے معاملہ میں عمرو بن العاص اور معاویہ بن ابو سفیان تم پر غالب آ جایں گے”
(کتاب الفتن، امام نعیم صفحہ ١٢٨)

اگر فصاحت و بلاغت کے بنیادی قاعدوں سے واقفیت ہے تو ذرا اس انداز گفتگو پر غورفرمایں. اس اسلوب میں واضح ہے کہ حضرت عمر رضی الله عنہ ایک خاص جماعت (اصحاب) کو کچھ اشخاص سے خبردار کر رہے ہیں اور انداز بیان بتاتا ہے کہ اس جماعت اور ان اشخاص میں بہت فرق ہے. واضح ہے کہ وہ جماعت اصحاب رسول کی ہے اور اگر حضرت عمر ان اشخاص کو اصحاب رسول سے سمجھتے تو یہ انداز نہ اختیار فرماتے.

اب یہاں پر کوئی یہ اعتراض کرے کہ حضرت عمر نے تو طلقا (فتح مکہ کے موقع پر معافی پانے والوں) کو شام کی گورنری پر قائم رکھا تھا تو اکابرین کے نزدیک یہ حضرت عمر کی ایسی اجتہادی خطا ہے جس کا انھوں نے خود اپنے آخری ایام میں اعتراف بھی کیا اور اس پر ندامت کا بھی اظہار کیا . جیسا کہ مفتی شبّیر احمد عثمانی صاحب اور کثیر محدثین نے نقل فرمایا کہ۔۔۔

” حضرت عمرو بن العاص نے شوریٰ میں شمولیت کی خواہش کی تو حضرت عمر فاروق نے فرمایا وہیں رہو جہاں الله نے تمہیں رکھا ہے. خدا کی قسم اس معامله میں میں ایسے کسی شخص کو شامل نہیں کروں گا جس نے رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے مقابلہ میں ہتھیار اٹھائے ہوں. نیز فرمایا طلقاء اور اولاد طلقاء کا حکومت میں کوئی حصہ نہیں، اور اگر میں موجودہ حالات پہلے سے جان لیتا تو یزید بن ابو سفیان اور معاویہ بن ابو سفیان کو شام کی حکومت نہیں دیتا”

فتح الملھم جلد ٤، صفحہ ١١٨
اکمال اکمال المعلم جلد ٢ صفہ ٤٨٤
الکوکب الواحاج جلد ٨ صفحہ ٢٠٨

یہ ہے طلقاء کا درست مقام اور آج کل کے ناصبی ، تکفیری خوارج ان کو سابقون الاولون اور خلفا راشدین رضی الله عنہم جیسا مقام دے کر اہل سنّت پر ٹھونسنا چاہتے ہیں، ایسے عیار نواصب و خوارج سے ہوشیار رہیں

صحيح بخاري، كتاب التفسير، کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

حدیث نمبر: 4740
حدثنا سليمان بن حرب، ‏‏‏‏‏‏حدثنا شعبة، ‏‏‏‏‏‏عن المغيرة بن النعمان شيخ من النخع، ‏‏‏‏‏‏عن سعيد بن جبير، ‏‏‏‏‏‏عن ابن عباس رضي الله عنهما، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ خطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال:‏‏‏‏ “إنكم محشورون إلى الله حفاة عراة غرلا:‏‏‏‏ كما بدانا اول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين سورة الانبياء آية 104، ‏‏‏‏‏‏ثم إن اول من يكسى يوم القيامة إبراهيم الا إنه يجاء برجال من امتي فيؤخذ بهم ذات الشمال، ‏‏‏‏‏‏فاقول:‏‏‏‏ يا رب، ‏‏‏‏‏‏اصحابي، ‏‏‏‏‏‏فيقال:‏‏‏‏ لا تدري ما احدثوا بعدك، ‏‏‏‏‏‏فاقول:‏‏‏‏ كما قال العبد الصالح، ‏‏‏‏‏‏وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم إلى قوله شهيد سورة المائدة آية 117، ‏‏‏‏‏‏فيقال إن هؤلاء لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم”.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن نعمان نے جو قبیلہ نخعی کا ایک بوڑھا تھا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ سنایا۔ فرمایا تم قیامت کے دن اللہ کے سامنے ننگے پاؤں ننگے بدن بےختنہ حشر کئے جاؤ گے جیسا کہ ارشاد باری ہے «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين‏» پھر سب سے پہلے قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ سن لو! میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے فرشتے ان کو پکڑ کر بائیں طرف والے دوزخیوں میں لے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا پروردگار! یہ تو میرے صحابی ہیں۔ ارشاد ہو گا تم نہیں جانتے انہوں نے تمہاری وفات کے بعد کیا کیا کرتوت کئے ہیں۔

حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کسی گورنر یا سپاہ سالار کو ایک جگہ برقرار نہیں رکھتے تھے، کیونکہ ایک جگہ قرار پکڑنے سے گورنر کا سیاسی اور فوجی اثر رسوخ مضبوط کرلینے کا خدشہ رہتا تھا – لیکن امیر معاویہ جو کہ طلقاء میں سے تھا اسکے معاملہ میں یہ احتیاط نہیں برتی گئی یا بنو امیہ کے سیاسی رسوخ کا اثر تھا، ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ شام کی گورنری بنی امیہ کے اثر و رسوخ کے سامنےحضرت عمر کی مجبوری تھی کیونکہ ثقیفہ میں حضرت علی رضی الله عنہ و بنی ھاشم کے شکوہ کی وجہ سے بنی امیہ اور طلقاء کو مجبوراً سیاسی عہدوں سے نوازنا پڑا تاکہ بنی ھاشم کے بالمقابل حکومت کو دوام بخشا جا سکے. یزید بن ابی سفیان کے عمواس کی وباء میں فوت ہونے کے بعد حضرت عمر رضی الله عنہ نے اسکے بھائی معاویہ کو شام کی امارت سونپ دی۔ یوں حضرت عمر رضی الله عنہ کے سات سال، حضرت عثمان رضی الله عنہ کے دس سال چھ ماہ یعنی تقریبا اٹھارہ سال تک امیر معاویہ ایک ہی صوبہ پر گورنر رہے

یوں فتح مکہ کے دن معافی مانگ کر دین میں داخل ہونے والا یہ اموی گروہ شام میں اتنا طاقتور ہوگیا کہ مرکز ی خلافت کو چیلنج کردیا کہ جب حضرت علی کرم الله وجہ نے خلافت سمبھالنے کے بعد امیر معاویہ سے بیعت طلب کی توامیر معاویہ نے نہ صرف بیعت سے انکار کردیا بلکہ شام کی گورنری چھوڑنے سے بھی انکار کردیا اور اپنے سیاسی اور فوجی اثر رسوخ کی بنا پر خلیفہ راشد کے مقابلے میں ایک لاکھ کا لشکر لاکھڑا کیا۔مرکز جانیوالا مالیہ، زکواۃ اور بیت المال کی رقم روک لی، جغرافیائی اعتبار سے شام کا اسٹریٹجک صوبہ جو کہ حجاز و عرب کی اقتصادی شہ رگ تھا اس پر امیر معاویہ کا انبلا شرکت غیرے تسلط قائم ہو گیا لہذا حضرت علی رضی الله عنہ کے پاس اسکے سوا کوئی چارہ نہ رہ کہ ایک باغی گورنر جو کہ نہ تو بیعت کررہا اور نہ ہی صوبے کا چارج چھوڑنے کو تیارتھا اس سے جنگ کی جائے اور مقبوضہ صوبہ واگزار کرایا جائے

امیر معاویہ نے ہی قصاص عثمان رضی الله عنہ کا وہ اسٹنٹ کھڑا کیا جس نے ایک لاکھ مسلمانوں کی جان لے لی اور قیامت تک مسلمانوں کے بیچ تفرقہ ڈال دیا، لیکن قاتلان عثمان پھر بھی نہ پکڑے گئے اور امیر معاویہ نے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد بیس سال اور صوبہ شام پر ٹوٹل سینتیس سال عیش و عشرت سے گزار دئے مگر پھر کبھی قصاص عثمان کا نام زبان پر نہ لائے – یزید بن ابی سفیان سے لیکر بنو امیہ کے اخری خلیفہ تک تقریبا 118 سال تک بنو امیہ نے شام پر طمطراق سے حکمرانی کی اہل شام بنو امیہ، و معاویہ کے علاوہ اسلام کی کسی ہستی کو اچھی طرح نہیں جانتے تھے، جو اسلام یہ اموی وہاں لیکر گئے وہ انہی طلقاء کو جانتے تھے، انکو سابقون و الالون و مہاجرین کا کچھ علم نہیں تھا۔ نہ ہی کبھی شام پر انصار و مہاجر صحابی کو گورنری نصیب ہوئی، یہی وجہ تھی جب یزید نے اہل حرہ کی سرکوبی کیلیے فوج بھیجی وہ سب کے سب شامی تھے جنہیں مکہ اور رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کے شہر کی حرمت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، انکے لیے اہل مدینہ صرف امیر یزید کے باغی تھے، یہی وجہ ہے کہ نواسہ رسول رضی الله عنہ کا کٹا ہوا سر جب یزید پلید کو پیش کیا گیا تو اسکی مذ مت کرنے والا ایک بھی شامی نہیں تھا-