علامہ اقبال کی ایک نایاب غزل


شاعر مشرق علامہ اقبال کی ایک نایاب غزل جو باقیات اقبال میں شامل ہے ۔

عاشقِ دیدار محشر کا تمنّائی ہوا
وہ سمجھتے ہیں کہ جرمِ ناشکیبائی ہوا

غیر سے غافل ہوا میں اے نمودِ حسنِ یار
عرصۂ محشر میں پیدا کنجِ تنہائی ہوا

میری بینائی ہی شاید مانعِ دیدار تھی
بند جب آنکھیں ہوئیں تیرا تماشائی ہوا

ہائے میری بد نصیبی ، وائے ناکامی مری
پاؤں جب ٹوٹے تو شوقِ دشتِ پیمائی ہوا

میں تو اس عاشق کے ذوقِ جستجو پر مرمٹا
’’ماعرفنا‘‘ کہہ کے جو تیرا تمنائی ہوا

تجھ میں کیا اے عشق وہ انداز معشوقانہ تھا
حسن خود ’’لولاک‘‘ کہہ کے تیرا شیدائی ہوا

دیکھ ناداں امیتازِ شمع و پروانہ نہ کر
حسن بن کر عشق اپنا آپ سودائی ہوا

اب مری شہرت کی سوجھی ہے انہیں، دیکھے کوئی
پِس کے میں جس دم غبارِ کوئے رسوائی ہوا

بغض اصحابِ ثلاثہ سے نہیں اقبال کو
دق مگر اک خارجی سے آ کے مولائی ہوا

باقیات اقبال ،ص ۳۹۴