‎ڈاکٹر صفدرمحمود ۔ تاریخی افسانے

‎25 فروری 2020 ‎کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے جیسے یہ ہمارے قومی مزاج کا حصہ ہے۔ کسی بھی شخصیت سے ہماری محبت اور عقیدت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے جب تک ہم کوئی ایک آدھ کرامت ان کی شخصیت سے وابستہ نہ کر لیں۔ کیا روحانی کرامت کے بغیر کوئی شخص ناممکن یا عظیم ترین کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتا؟ کسی بھی کارِ خیر یا عظیم کارنامے کیلئے تائیدِ الٰہی کے حصول کا ثبوت یا مطلب کرامت ہی نہیں؟ ناممکن کو ممکن بنانا بذاتِ خود کرامت ہوتی ہے۔ مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ ہم نے اس حوالے … Continue reading ‎ڈاکٹر صفدرمحمود ۔ تاریخی افسانے

‎اہل تشیع کی نظر میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا مقام

‎ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻘﺪﺍﺩ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺯﺭ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻨﺪﺏ ﺍﺑﻦ ﺟﻨﯿﺪﮦ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝ ﺣﺒﺸﯽ ۔۔۔۔۔ ‎حضرت قنبر ۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺳﻢ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﻓﻀﻞ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮ ﺑﻦ ﺍﻧﺲ ﺑﻦ ﺯﺭﯾﻖ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺼﯿﻦ ﺑﻦ ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻣﻄﻠﺐ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺎﻟﺢ ﺍﻻﻧﺼﺎﺭﯼ ۔۔۔۔۔ ‎حضرت سعد بن عبادہ ۔۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺎﺭ ﯾﺎﺳﺮ ۔۔۔۔۔ ‎حضرت حزیفہ یمانی ۔۔۔۔۔ ‎حضرت حبیب ابن مظاہر ۔۔۔۔۔ ‎حضرت مالک بن اشتر ۔۔۔۔۔۔ ‎حضرت مالک بن نویرہ ۔۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﮐﻌﺐ ﺑﻦ ﻋﺎﻣﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﺴﻌﺪﯼ ۔۔۔۔۔ ‎ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺒﺎﺏ ﺑﻦ ﺍﻻﺭﺙ ۔۔۔۔۔ … Continue reading ‎اہل تشیع کی نظر میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا مقام

آمریت کے خلاف آلِ ابو بکر صدیقؓ کی قربانیاں۔حمزہ ابراہیم

”سازشی تھیوری“ حالات و واقعات کی ایسی تشریح کو کہا جاتا ہے جس میں اصل اسباب کو چھپانے کے لیے تاریخ کے مستند حصوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے اور مبہم حصوں اور کمزور روایات ڈھونڈ کر سارے تاریخی عمل کو متاثرین ہی کی سازش کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ عموماً یہ سازشی تھیوری صرف نظریاتی تعصب کے شکار مریدوں کی تشفی کے کام آتی ہے اور علمی اور عوامی حلقوں میں نتائج دینے سے قاصر رہتی ہے۔ کربلا کے معاملے میں ناصبی افراد یعنی دشمنان اہلبیت کے بیانیے کا یہی حال ہے۔ ناصبی ملحدین (سابقہ پرویزی/اہل قرآن) بھی … Continue reading آمریت کے خلاف آلِ ابو بکر صدیقؓ کی قربانیاں۔حمزہ ابراہیم

سنی شیعہ فرقہ واریت ۔ کچھ سوال اور جواب

ایک نکتہ نظر: یہ بات درست نہیں کہ شیعہ مسلک پاکستان میں کمزور ہے ۔ شیعہ مسلک تمام مسالک میں سب سے زیادہ طاقت ور ہے باقی دہشت گردی کا شکار شیعہ سنی سب ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں سنیوں کا بھی متفقہ موقف یہی ہے کہ وہ غلطی پر تھے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حق پر تھے ۔ ہماری گزارش تو بس اتنی ہے کہ اگر امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو برا بھلا کہنا شیعہ ہونے کے لیے ضروری ہے تو آپ … Continue reading سنی شیعہ فرقہ واریت ۔ کچھ سوال اور جواب

مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اور افلاطون

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ تعالٰی افلاطون کورد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ لوگ (یعنی فلسفی اور سائنسدان) بہت ہی بے خرد اور بیوقوف ہیں۔ ان سے زیادہ کمینہ اور بیوقوف وہ شخص ہے جو ان کو دانا اور عقلمند جانتا ہو۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت کی دعوت جب افلاطون کو، جو ان بدبختوں کا سردار ہے، پہنچی تو افلاطون نے جواب میں یوں کہا: “ہم ہدایت یافتہ لوگ ہیں ہم کو ایسے شخص کی حاجت نہیں جو ہم کو ہدایت دے”۔ اس بیوقوف کو چاہیے تھا کہ ایسے شخص کو جو مردوں کو … Continue reading مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اور افلاطون

‎غامدی صاحب! خالصیت اور تکفیریت سے گریز بہتر ہے

‎مسلمانوں میں سائنس کے عروج کے زمانے کو زوال میں بدلنے میں اندھی عقیدت اور علمِ کلام کا مرکزی کردار رہا ہے۔ ‎تقریباً ایک ہزار سال پہلے علمِ کلام کے نام سے عقائد کو خالص اور دوسروں کو کافر بنانے کا فن سامنے آیا۔ اس کے سرخیل امام غزالی تھے۔ انہوں نے نئے خیالات کو قرآن و حدیث پر پرکھ کر کافر یا مسلمان کہنے کا سلسلہ شروع کیا۔ ابنِ سینا اور الفارابی وغیرہ کو کافر قرار دے کر ان کی پیروی کرنے والوں کی جان اور ایمان خطرے میں ڈالے۔ تب سے اب تک علم کے خلاف “اسلام کو … Continue reading ‎غامدی صاحب! خالصیت اور تکفیریت سے گریز بہتر ہے

Javed 𝐆𝐡𝐚𝐦𝐝𝐢 must refrain from 𝐓𝐚𝐤𝐟𝐢𝐫ism and Puritanism

Almost a thousand years ago, the medium of Theology (ilm-i-kalam) came to the fore in the world of Islam to accuse believers as infidels. The pioneer of this art of takfir (excommunication; declaring people guilty of apostasy) was Imam Ghazali. He began the process of interrogating new ideas in light of the Qur’an and Hadith. By declaring Ibn Sina and Al-Farabi etc. as infidels, he endangered the lives and faith of their followers too. Since then, the slogan of “Islam is in Danger” has been echoing against knowledge, reason, and critical thinking. Theologians started to harass and intimidate men of … Continue reading Javed 𝐆𝐡𝐚𝐦𝐝𝐢 must refrain from 𝐓𝐚𝐤𝐟𝐢𝐫ism and Puritanism

مولانا حسن امداد کی رثائی شاعری – عارف امام

‎مجھ سے اکثر سوال ہوتا ہے کہ آپ کبھی اپنی شاعری میں اپنا تخلص نہیں لکھتے۔ میری سمجھ میں بھی نہیں آتا تھا کہ میں ایسا کیوں کرتا ہوں۔ ایک دن مولانا حسن امداد مرحوم سے متعلق ایک تحریر نظر سے گزری جس میں بتایا گیا کہ مولانا نے کبھی اپنا تخلص کسی مقطع میں نہیں لکھا۔ ‎مجھے اپنی نوجوانی سے ہی مولانا سے محبت بہ درجۂ عقیدت ہے اور اگر شاعری میں کبھی زانوئے تلمذ تہہ کرتا تو انہی کے قدموں پہ کرتا۔ لڑکپن میں ایک بار کوشش بھی کی لیکن میری ملاقات نہ ہو سکی۔ خیر ،کہنے کا … Continue reading مولانا حسن امداد کی رثائی شاعری – عارف امام

ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

مولانا عمار خان ناصر جدیدیت میں جاوید غامدی کی فکر سے متاثر ہیں اور اوائل اسلام کے تاریخی واقعات بارے ان کی تعبیر میں تقی عثمانی، محمود عباسی اور جاوید غامدی کے افکار کا رنگ نظر آتا ہے ۔ ان کے مقابل مولانا مفتی محمد زاہد، ملوکیت اور ناصبیت کے خلاف متقدمین اہلسنت کے افکار کے حامل ہیں ۔ ان کا ایک حالیہ مکالمہ درج ذیل ہے —- رد ناصبیت کے جوش میں حضرت عثمان کے قصاص کے مطالبے کو “غیر شرعی” ثابت کرنے کے لیے جو ایک نئی فقہ وجود میں لائی جا رہی ہے، اس کے کچھ نمونے … Continue reading ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

کراچی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی ریٹائرڈ استاد ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ، جن کا ذاتی رجحان تکفیری خارجی گروہوں کی طرف ہے، نے چند روز قبل ایک پوسٹ استفساراً لکھی کہ ” علامہ تمنا عمادی،محمد جعفر شاہ پھلواروی اور غلام احمد پرویز تینوں ہی صوفی گھرانوں میں پیدا ہوئے اور خانقاہی ماحول میں پرورش پائی لیکن اس کے بعد تینوں ہی تصوف کے خلاف ہو گئے ۔ان کی یہ قلب ماھیت کیوں ہوئی؟ اسی “کیوں ” کی تلاش میں ہوں؟” ہم جب ان تین شخصیات کی تحقیقات و نظریات پر غور کرتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ نظامِ … Continue reading جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ