شہادت کے بعد – ڈاکٹر علی شریعتی کے نایاب لکچر کا اردو ترجم

Urdu translation of Dr Ali Shariati’s lecture in Iran on 11 Muharram 1392 AH (26 Feb 1972) on the topic: “In the aftermath of Imam Hussain’s martyrdom”. It has a universal message of self-sacrifice and struggle for collective good, freedom and honor. Continue reading شہادت کے بعد – ڈاکٹر علی شریعتی کے نایاب لکچر کا اردو ترجم

اعیان الشیعہ – طفیل ہاشمی

میں جب تاریخ سائنس پر تحقیقی مقالہ لکھ رہا تھا تو مجھے العاملی کی مذکورہ صدر کتاب بکثرت دیکھنے اور اس سے استفادہ کرنے کا موقع ملا.شروع میں تو مجھے حیرت ہوئی کہ جس اہل علم یعنی سائنس دان، فلاسفر، ماہر علم نجوم، فلکیات، طبعیات، کیمیا، طب، حیاتیات، زراعت، جغرافیہ اور تاریخ کو دیکھو تو اعیان الشیعہ میں موجود ہیںایک صاحب جو اندر سے شاید ناصبی تھے کہنے لگےانہوں نے یوں ہی اہل علم کو شیعہ قرار دے دیا ہےلیکن جب میں نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہقرآن نے جن لوگوں کو علماء کہا ہے یعنی ارباب فکر … Continue reading اعیان الشیعہ – طفیل ہاشمی

محرم الحرام اور امام عالی مقامؓ – امیر حمزہ

قرآن میں ہے کہ ”بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں ۔اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے‘ ان میں سے چار عزت والے ہیں‘ یہی سیدھا دین ہے۔ سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور تم سب مشرکوں سے لڑو‘ جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے‘‘ (التوبہ:36)۔ان چار میں سے قمری سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ قارئین کرام! کعبہ شریف کے چار کونوں میں سے دو کونوں کے نام ”رکن عراقی‘‘ اور ”رکن شامی‘‘ … Continue reading محرم الحرام اور امام عالی مقامؓ – امیر حمزہ

جنرل ضیاء الحق کی وفات پر جاوید احمد غامدی کی یاد گار تحریر

“صدر جنرل محمد ضیاء الحق اس ملك كی تاریخ میں پہلے سربراہِ مملكت ہیں جنہوں نے اسلام كے ساتھ اپنے تعلق كو بغیر كسی معذرت كے پورے اعتماد كے ساتھ ظاہر كیا۔ اسے برملا اس مملكت كی اساس قرار دیا۔ اس كے بارے میں صاف صاف كہا كہ وہ جس طرح ہماری انفرادی زندگی كا دین ہے، اسی طرح ہماری ریاست كا بھی دین ہے۔ اپنی سربراہی كے پہلے دن سے اس كے نفاذ كے لیے كوشاں ہوئے۔ علماء اور اہلِ دین كے ساتھ بہت عقیدت مندانہ رویہ اختیار كیا۔ ہر قومی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر، جہاں انہیں … Continue reading جنرل ضیاء الحق کی وفات پر جاوید احمد غامدی کی یاد گار تحریر

سندی مباحث اور انکار تاریخ

مولانا مودودی لکھتے ہیں: “جو تحقیق میں نے خلافت و ملوکیت میں پیش کی ہے، اس میں تاریخی روایات بمع حوالہ جات موجود ہیں – بعض فرقہ پرست افراد جو کہ ہر مسلک میں موجود ہیں تاریخ کی اپنی خواہش کے مطابق تطہیر اور تحریر ثانی کرنا چاھتے ہیں، اس کاوش میں کبھی کاتب، کبھی ناشر اور کبھی راوی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں تاکہ شخصی بتوں اور عقائد نما عصبیتوں کو بچایا جا سکے جبکہ اسی دوران تاریخ کی تدلیس ہوتی ہو تو ہو جائے – میں سندی مباحث پر سو فیصد انحصار تاریخ میں اس لیے نہیں کرتا … Continue reading سندی مباحث اور انکار تاریخ

جاوید غامدی کے افکار ونظریات

غامدی متاعِ حیات: غامدی صاحب جب چھٹی ساتویں جماعت کے طالب علم تھے اور پاک پتن میں رہائش پذیر تھے، تب مطالعہ وتحقیق کے لیے لائبریری جایا کرتے تھے۔ راستے میں ایک بینک کے دروازے پر پہرا دینے والے سنتری سے آنکھیں چار ہوتی تھیں۔ ایک روز اُس نے روک لیا۔ غامدی صاحب کے ہاتھ میں کوئی کتاب تھی۔ اُس نے کہا کہ: ”یہ کتاب پڑھ لو، یہ ایک بڑے آدمی کی کتاب ہے۔ اور میں تمہیں ایک اور کتاب دوں گا جس میں اِس کتاب پر علمی تنقید کی گئی ہے، کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے وہ بھی … Continue reading جاوید غامدی کے افکار ونظریات

جاوید غامدی کا جنرل ضیاء الحق اور افغان جہاد بارے بیانیہ کیا تھا؟

بدلتے حالات كے ساتھ متجددین کی تعبیرات بھی رنگ بدلتی رہی ہیں۔ لیكن اس معاملے میں جدید اسلام علمی دیانت كے اصولوں كی كیسی خلاف ورزی كا مرتكب ہوسكتا ہے اس كا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں جاوید غامدی صاحب نے افغان جہاد كے بارے میں گفتگو كرتے ہوئے یہ ارشادات فرمائے۔ ایك سائل، ڈاكٹر الطاف قادر صاحب، نے کہا:’’جن لوگوں نے افغان جہاد كی سرپرستی كی، اور قبائلی علاقے كے لوگوں كو استعمال كیا، ان لوگوں كو سزا دی جائے۔‘‘اس پر جاوید احمد غامدی صاحب نے فرمایا:“مجھے اِن سے سو فیصد اتفاق ہے۔ … Continue reading جاوید غامدی کا جنرل ضیاء الحق اور افغان جہاد بارے بیانیہ کیا تھا؟

ملفوف انکار حدیث کا فتنہ – نیا جال لائے پرانے شکاری

برصغیر میں جدید فتنہ انکار حدیث کے بانی اور سرخیل سرسید احمد خان تصور کئے جاتے ہیں جنہوں نے مغربی نظریات اورعقل و فلسفہ سے متاثر ہوکر نہ صرف جدید انکارِ حدیث کی داغ بیل ڈالی بلکہ اسلام کے بہت سے متفقہ مسائل کا بھی یا تو کلیة انکار کردیا یا پھر ان میں من مانی تاویل کردی جیسے معجزات کا انکار، فرشتوں کے وجود کاانکار، تجارتی سود کی حرمت کا انکار، پردہ کا انکار اور متعدد خرقِ عادت شرعی اُمور کاانکار وغیرہ۔10 البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ سرسیداحمد خان اَحادیث کی صحت کے منکر نہیں تھے بلکہ وہ … Continue reading ملفوف انکار حدیث کا فتنہ – نیا جال لائے پرانے شکاری