جاوید غامدی صاحب اور اُن کی عربی ۔ ایک تنقیدی جائزہ – ڈاکٹر سیّد رضوان علی ندوی​

جاوید غامدی صاحب نے ٹی وی چینلز کی بدولت کافی شہرت حاصل کی ہے۔ عوام الناس میں اُن کی ایک دوسری وجہ شہرت حدود آرڈیننس ۱۹۷۹ء کے خلاف مختلف ٹی وی پروگراموں میں اُن کے بیانات تھے، لیکن اِس سب سے قطع نظر لاہور میں اُن کا ایک دینی حلقہ ہے؛ ایک خاص تدریسی پروگرام ایک ادارے کے تحت چلتا ہے جس کو اُنھوں نے ’’المورد‘‘ کا ثقیل عربی نام دیا ہے، درحقیقت یہ بیروت سے شائع شدہ ایک لغت کا نام ہے، اِس ادارے سے ’’تجدّد پسندی‘‘ یا جدیدیت کے شیدائی نوجوان مرد و خواتین وابستہ ہیں۔وہ اپنے آپ … Continue reading جاوید غامدی صاحب اور اُن کی عربی ۔ ایک تنقیدی جائزہ – ڈاکٹر سیّد رضوان علی ندوی​

جاوید احمد غامدی اور سنت – ڈاکٹر رضوان علی ندوی

اگر سُنت میں اختلاف ہوجائے تو وہ سُنت نہیں رہے گی، غامدی صاحب کے اصول کے تحت سنت ماخذ قانون نہیں رہا​غامدی صاحب کی تحقیق کے مطابق دین کے صرف دو ماخذ ہیں۔ قرآن اور سُنت ۔۔۔ سُنت مقدم ہے قرآن موخر، سُنت ازل سے ہے جب کہ قرآن تو آخری کلام ہے۔ غامدی صاحب نے سنت کے لیے یہ اصول مقرر فرمایا کہ سُنت میں اختلاف ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ سُنت پر امّت کا اجماع ہے اور سُنت کا تواتر و تسلسل قرآن سے زیادہ مستحکم ہے کیونکہ سُنت قرآن کے مقابلے میں زیادہ بڑے اجماع سے منتقل … Continue reading جاوید احمد غامدی اور سنت – ڈاکٹر رضوان علی ندوی

جاوید احمد غامدی اور تعال نقتبس من نور اسلافنا- ڈاکٹر رضوان ندوی

ہم نے اس تنقیدی جائزے کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ ’’شرح شواھد الفراہی‘‘ اور المفردات تالیف (فراہی) کے ساتھ ساتھ مندرجۂ بالا عنوان کے تحت ’’الاعلام‘‘ میں شایع شدہ دو بہت مختصر تحریریں بھی غامدی صاحب کی ہمارے سامنے ہیں۔ عنوان دیکھ کر خیال گزرا تھا کہ یہ موصوف کی اپنی نگارشات ہوں گی۔ جن میں اَسلاف کی کتابوں سے کچھ اِقتباسات ہوں گے لیکن متن پڑھنے سے پتہ چلا کہ یہ دونوں مختصر تحریریں ، مقدمۂ ابن خلدون اور حافظ ابن القیم کی کتاب ’’الفوائد‘‘ کے اقتباسات ہیں، ان میں تعریفاً و تشریحاً غامدی صاحب کے قلم … Continue reading جاوید احمد غامدی اور تعال نقتبس من نور اسلافنا- ڈاکٹر رضوان ندوی

تکفیر اھل اسلام اور علامہ ابن تیمیہ کا آخری قول

علامہ ذہبی ، ابوالحسن اشعری کا کلام نقل کرنے کے بعد اپنے اور اپنے شیخ علامہ ابن تیمیہ کے بارے میں لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ میں اس طرز کو اپناتا ہوں اور اسی طرح ہمارے شیخ ابن تیمیہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کہتے تھے کہ میں امت میں کسی کی تکفیر نہیں کرتا اور کہتے تھے کہ نبی کریم ع نے فرمایا :” وضو کی حفاظت مومن کے علاوہ کوئی نہیں کرتا ۔ ” تو جس نے وضو کے ساتھ نمازوں کو لازم کر لیا وہ مسلم ہے ۔ سیر اعلام النبلاء ۔ ج 3 … Continue reading تکفیر اھل اسلام اور علامہ ابن تیمیہ کا آخری قول

وہ پانچ صحابہ جن کے نام کے ساتھ رضی الله لکھنے سے منع کیا گیا ہے

یاد رہے کہ بیعت رضوان اور سابقون الاولون اصحاب رضی الله عنہم بارے قرآن مجید کی آیات (رضی الله ورضو عنہم ) کا اطلاق فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردگان یا طلقا پر نہیں کیا جا سکتا Continue reading وہ پانچ صحابہ جن کے نام کے ساتھ رضی الله لکھنے سے منع کیا گیا ہے

حضرت علی ابن ابی طالب کا مقام، ابن تیمیہ کی نظر میں

علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں اور حضرت علی رضی الله عنہ خلافت کے زیادہ حق دار تھ ے( معاویہ رضی الله عنہ کے مقابلے میں)، اور آپ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی الله علیہ والہ وسلم اور تمام مومنین کے نزدیک افضل ہیں معاویہ سے، ان کے والد سے اور ان کے بھائی سے بھی جو معاویہ سے خود افضل تھے، اور حضرت علی رضی الله عنہ ان صحابہ کرام رضی الله عنہم سے بھی افضل ہیں جو معاویہ سے افضل ہیں، اور وہ سابق اور اول صحابہ کرام رضی الله عنہ جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت … Continue reading حضرت علی ابن ابی طالب کا مقام، ابن تیمیہ کی نظر میں

مولانا حسین احمد مدنی کی محمد بن عبد الوہاب نجدی بارے رائے سعودی وہابی مسلک کا بانی محمد بن عبد الوہاب نجدی ایک ظالم، فاسق و فاجر انسان تھا جو اہل سنت والجماعت کے لوگوں کا خون بہانا حلال سمجھتا تھا۔ مولانا حسین احمد مدنی، دار العلوم دیوبند – کتاب – شہاب الثاقب Continue reading

“تکفیر” اور اہلِ حدیث علما

عام طور پر اہلِ حدیث علماء کو متشدد سمجھا جاتا ہے کہ وہ مختلف اعمال/رسوم پر “کفر/شرک” کے فتاویٰ جاری کرنے میں حد درجہ سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔۔لیکن اگر تعصب سے ہٹ کر دیکھا جائے تو شاید یہ بھی ایک تہمت ہی ہے۔ یہ درست ہے کہ اہلِ حدیث، توحید کے حوالے سے زیادہ محتاط ہیں، لیکن وہ مؤول کی “تکفیر” ہرگز نہیں کرتے، تاویل پر مبنی کفریہ و شکریہ اعمال کے انجام دینے والے کو وہ “کافر/مشرک” نہیں جانتے۔ ہاں یہ درست ہے کہ کافی سارے رسوم و نظریات کو وہ روحِ توحید کے منافی جانتے ہیں، جنھیں … Continue reading “تکفیر” اور اہلِ حدیث علما

اکابرین دیوبند کی طرف سے انتہا پسندی اور وہابیت کی مذمت – تاریخی حقائق

حضرات علمائے دیوبند نے اپنی کتب میں باربار وہابی، سلفی اور سعودی نجدی عقائد کی زبردست تردید کی ہے ۔مثلاً مولانا خلیل احمد اینٹھوی دیوبندی (۱۸۵۲ء۔ ۱۹۲۷ء) لکھتے ہیں: ’’ ان کا ( محمد بن عبدالوہاب نجدی او ر اس کے تابعین) عقیدہ یہ ہے کہ بس وہ ہی مسلمان ہیں اور جو ان کے عقیدہ کے خلاف ہو وہ مشرک ہے اوراس بناء پر انہوں نے اہل سنت کا قتل مباح سمجھ رکھاتھا‘‘۔(المسند علی المفند، مطبوعہ کراچی صفحہ ۲۲) (نوٹ)۔۔۔اس کتاب پر شیخ الہند و شیخ الدیوبند مولانامحمود حسن(۱۸۵۱ء ۔ ۱۹۲۰ء) حکیم الامت دیوبند مولانا اشرف علی صاحب تھانوی … Continue reading اکابرین دیوبند کی طرف سے انتہا پسندی اور وہابیت کی مذمت – تاریخی حقائق

افسوس مسلکی جھگڑوں اور بحثوں میں اپنی عمر ضائع کر دی – مولانا انور شاہ کاشمیری

افسوس مسلکی جھگڑوں اور بحثوں میں اپنی عمر ضائع کر دی – حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہمفتی محمد شفیع مرحوم و مغفور فرماتے ہیں کہ میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ کی خدمت میں ایک دن نماز فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت غمزدہ بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا”مزاج کیسے ہیں؟” انہوں نے کہا کہ ہاں! ٹھیک ہیں میاں! مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع کردی۔۔۔ ۔میں نے عرض کیا حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں اور دین کی اشاعت … Continue reading افسوس مسلکی جھگڑوں اور بحثوں میں اپنی عمر ضائع کر دی – مولانا انور شاہ کاشمیری