صحابہ کرام کی گستاخی پر صحابہ کرام کا اسوہ

شعیب محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ صحابہ کرام کی گستاخی و توہین حرام اور ممنوع ہے۔ اس بارے میں احکامات اتنے واضح اور مشہور ہیں کہ ہر مسلمان ان سے واقف ہے۔ مگر جس طرح دیگر اسلامی احکامات میں کمی بیشی کی وجہ سے انسان گناہوں کا مرتکب ہو سکتا ہے، اسی طرح بہت ممکن ہے کہ صحابہ کرام کے خلاف بھی کسی کی زبان سے کچھ نازیبا کلمات ادا ہو جائیں۔ ایسے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے، اس بارے میں ہمارے ہاں افراط و تفریط کا مظاہرہ … Continue reading صحابہ کرام کی گستاخی پر صحابہ کرام کا اسوہ

سرسید احمد خان اور دیوبند کا مستقبل

اٹھارہ سو ستاون کے بعد جب دیوبند میں جدید دینی مدرسے کی تشکیل ابھی ابتدائی مراحل میں تھی تو سرسید احمد خان نے اس کے مستقبل کے حوالے سے تین اہم خدشات پیش کیے تھے۔ ایک یہ کہ یہ مدرسہ علم جدید کے سوالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر پائے گا۔ دوسرا یہ کہ اس سے پیدا ہونے والا طبقہ اپنی معاش کے لیے معاشرے پر ایک مستقل اور دن بدن بڑھتا ہوا بوجھ بنتا چلا جائے گا۔ اور تیسرا یہ کہ بلند کرداری کا وہ معیار جس کی توقع دین کے علمی وروحانی نمائندوں سے کی … Continue reading سرسید احمد خان اور دیوبند کا مستقبل

مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت

مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت؟ — ڈاکٹر غلام شبیر جاوید احمد غامدی نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو فکر اسلامی کے افق پر مولانا مودودی، غلام احمد پرویز، امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر فضل الرحمان، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور دیگر براجمان تھے۔ جب یہ ابر ہائے کرم برس کر چھٹ چکے تو غامدی صاحب طلوع ہوئے اور میدان خالی تھا۔ شیریں دہن تو تھے ہی ادبی ذوق نے فصاحت و بلاغت کی کمک بہم پہنچائی، ذرائع ابلاغ کی ترقی نے ان کے فکری ترسیل کو برق رفتار … Continue reading مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت

مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ

اٹھارہ ذی الحج کے دن حضور نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہجوم میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کا ہاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا : مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. ’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘‘ یہ اعلانِ ولایتِ علی (ع) تھا، جس کا اطلاق قیامت تک جملہ اہلِ ایمان پر ہوتا ہے اور جس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جو ولایتِ علی (ع) کا منکر ہے … Continue reading مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ

شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی عہدِ جہانگیر میں

شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانی) عہدِ جہانگیر میں (تُزکِ جہانگیری کے تناظر میں):۔ شیخ احمد سرہندی جنھیں مجدد الف ثانی (متوفیٰ 1034ھ) بھی کہا جاتا ہے، کی نسبت عام نصابی کتب سمیت تواریخ میں درج ہے کہ انھوں نے مغل بادشاہ، اکبر کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ برصغیر کے مؤرخ شیخ محمد اکرام کے مطابق یہ نادرست ہے۔ شیخ احمد سرہندی کا اکبر کے دور میں کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے؛ البتہ اکبر کے بعد، حکمران بننے والے اس کے بیٹے جہانگیر نے اپنی “توزکِ جہانگیری” میں اِن کا مجہول اور نامناسب انداز سے ذکر کیا ہے، جس سے … Continue reading شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی عہدِ جہانگیر میں

خلافتِ علیؓ احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

تین سو صفحات پر مشتمل زیرِ طبع کتاب ’’خلافتِ علیؓ احادیثِ نبویہ کی روشنی میں‘‘ کا پیش لفظ پیش لفظ الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خير خلقه سیدنا ومولانا محمد وآله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، وبعد: یہ چند صفحات ایک ایسے موضوع پر پیش کیے جارہے ہیں جس پر کچھ کہنا یا لکھنا مزاجاً کبھی مرغوب نہیں رہا، ليكن گذشتہ کچھ بیس پچیس برسوں میں مسلسل ایسے تجربات ہوئے اور وہ کچھ پڑھنے اور سننے کو ملا جس سے اندازہ، بلکہ یقین ہوا کہ ہماری تاریخ کے اس انتہائی تاب ناک باب اور خلافتِ … Continue reading خلافتِ علیؓ احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

بنو ہاشم اور بنو امیہ کی چشمک کا آغاز

ہاشم کا نام عمرو تھا. قحط کے زمانے میں مکہ کے شہریوں کو اور حج کے دنوں میں حاجیوں کو شوربے میں روٹیاں چورہ کر کے کھلانے کی وجہ سے ہاشم مشہور ہو گئے. نہایت سخی تھے. وسیع دسترخوان تھا. مسافروں کو نہ صرف کھانا ملتا بلکہ جاتے ہوئے سواری کے لئے اونٹ بھی دیتے تھے. مکہ والوں کے لیے سال کے دو تجارتی سفر اور ان کے لئے یمن اور شام کے حکمرانوں سے معاہدے کر کے پرامن تجارت کی داغ بیل ڈالی. امیہ بن عبدشمس جو دولت و ثروت میں ہاشم سے کسی طرح کم نہ تھا، اس … Continue reading بنو ہاشم اور بنو امیہ کی چشمک کا آغاز

شہادتِ عمر و شہادتِ حسین

حضرت عمر کی شہادت کی بابت یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اس واقعہ کو کیوں اس طرح سے نہیں بیان کیا جاتا جس طرح امام حسین کی شہادت کو بیان کیا جاتا ہے. میرے نزدیک عمر فاروق اور امام حسین کی شہادت میں ایک واضح فرق موجود ہے جسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے. عمر فاروق کسی جنگ کے نتیجے میں شہید نہیں ہوئے تھے اور نہ عمر فاروق کی شہادت فی نفسہہ کوئی حق و باطل کا معرکہ تھا بلکہ عمر ابن خطاب کی شہادت ایک فرد کی شہادت تھی. برعکس اسکے امام حسین کی شہادت باقاعدہ … Continue reading شہادتِ عمر و شہادتِ حسین

صحابہ کرام کی شان میں ناصبیوں کی چند روزمرہ گستاخیاں

۱۔ “اگر امیر معاویہ نے خلیفہ راشد سے جنگ کی تو اماں عائشہ صدیقہ سلام اللٰہ علیہا نے بھی تو جنگ کی۔ تو ام المومنین پر تنقید کیوں نہیں کرتے؟” یہ ام المومنین کی شان میں گستاخی ہے۔ ان کا مقام معاویہ سے ہزاروں لاکھوں درجے بلند ہے۔ وہ مہاجر ہیں، اہلبیت کا حصہ ہیں، نبی پاک کی زوجہ اور صدیقِ اکبر کی دختر ہیں، بہت بڑی محدث اور فقیہ ہیں۔ وہ صحابہ کی اسی چوٹی کی جماعت میں تھیں جس میں مولا علی تھے اور وہ علی سمیت پوری امت کی ماں تھیں اور ہیں۔ ان کا جناب معاویہ … Continue reading صحابہ کرام کی شان میں ناصبیوں کی چند روزمرہ گستاخیاں

محبّانِ یزید نوٹ کرلیں

۔۔۔۔۔۔۔ یزید کو رحمہ اللہ کہنے کی گنجائش میں اپنی وال پر نہیں دے سکتا۔ نہ ہی یزید کی صالحیت و صلاحیت پر “دلائل” کو اپنی وال پر برداشت کرسکتا ہوں، نہ ہی کربلا کے ظلمِ عظیم کےلیے اس کی “بے گناہی” کا “ثبوت” پیش کرنے کی اجازت دے سکتا ہوں۔ ان ساری باتوں پر بارہا مختلف انداز میں گفتگو کی جاچکی ہے۔ پتہ نہیں کیوں بعض محبّانِ یزید اب بھی یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک دفعہ پھر یہ بحث چھڑ جائے؟ یہ لوگ اچھی طرح سن لیں: آپ یزید کی فاسقیت کے قائل نہیں ہیں؟ نہ ہوں۔ آپ … Continue reading محبّانِ یزید نوٹ کرلیں