کالعدم تنظیمیں کالوجود کیسے رہتی ہیں

ماضی قریب ترین کی تاریخ میں ایک صاحب ہو گزرے ہیں۔ علامہ خادم حسین رضوی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ریکارڈ میں شستہ پنجابی اور رواں فارسی کے علاوہ اگر کچھ تھا تو وہ زباں کا زورِ بیاں تھا، مگر وہ بھی کیا۔بے دھڑک الزام دھرتے تھے اور خانہِ خدا میں قرآن سامنے رکھ کر دشنام پیلتے تھے۔ زمین پر کچھ مثالیں اگر انہوں نے قائم کی ہیں تو وہ جلاو گھیراو اور توڑ پھوڑ کی مثالیں ہیں۔ ورثے میں ہمیں وہ سعد نامی گرما گرم توے سے اترا ہوا ایک جوان اور فتنہ وفساد کی ایک روایت دے … Continue reading کالعدم تنظیمیں کالوجود کیسے رہتی ہیں

صحابہ کرام کی شان میں ناصبیوں کی چند روزمرہ گستاخیاں

۱۔ “اگر امیر معاویہ نے خلیفہ راشد سے جنگ کی تو اماں عائشہ صدیقہ سلام اللٰہ علیہا نے بھی تو جنگ کی۔ تو ام المومنین پر تنقید کیوں نہیں کرتے؟” یہ ام المومنین کی شان میں گستاخی ہے۔ ان کا مقام معاویہ سے ہزاروں لاکھوں درجے بلند ہے۔ وہ مہاجر ہیں، اہلبیت کا حصہ ہیں، نبی پاک کی زوجہ اور صدیقِ اکبر کی دختر ہیں، بہت بڑی محدث اور فقیہ ہیں۔ وہ صحابہ کی اسی چوٹی کی جماعت میں تھیں جس میں مولا علی تھے اور وہ علی سمیت پوری امت کی ماں تھیں اور ہیں۔ ان کا جناب معاویہ … Continue reading صحابہ کرام کی شان میں ناصبیوں کی چند روزمرہ گستاخیاں

محبّانِ یزید نوٹ کرلیں

۔۔۔۔۔۔۔ یزید کو رحمہ اللہ کہنے کی گنجائش میں اپنی وال پر نہیں دے سکتا۔ نہ ہی یزید کی صالحیت و صلاحیت پر “دلائل” کو اپنی وال پر برداشت کرسکتا ہوں، نہ ہی کربلا کے ظلمِ عظیم کےلیے اس کی “بے گناہی” کا “ثبوت” پیش کرنے کی اجازت دے سکتا ہوں۔ ان ساری باتوں پر بارہا مختلف انداز میں گفتگو کی جاچکی ہے۔ پتہ نہیں کیوں بعض محبّانِ یزید اب بھی یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک دفعہ پھر یہ بحث چھڑ جائے؟ یہ لوگ اچھی طرح سن لیں: آپ یزید کی فاسقیت کے قائل نہیں ہیں؟ نہ ہوں۔ آپ … Continue reading محبّانِ یزید نوٹ کرلیں

Javed Ghamidi’s pro-rulers’ stance on early Islamic history

Author: Aamir Hussaini Can we not establish that who was right while discussing the events occurred after the martyrdom of Usman ibn Affan? Was Caliphate of Ali Ibn Abi Talib a bad design devised by the killers of Usman Ibn Affan? Was the Umayyad rulership a legitimate rule? Ghamidi’s reply to the first question is “No”, “Yes” in reply to the second question and then “yes” in reply to the third question. Can we call Ghamidi a moderate un-biased, non-partisan and non-sectarian scholar? Before considering these issues, we need to understand the process of making meta-narrative on the history of … Continue reading Javed Ghamidi’s pro-rulers’ stance on early Islamic history

ناصبیتِ جدیدہ کاطرز استدلال اور مشاجرات

ناصبی فکر سے رحجان رکھنے والے حضرات نہایت دھڑلے سے بالعموم اس بات کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں کہ “مشاجرات صحابہ میں کلام کرنا اہل سنت کے منہج کے خلاف ہے” بالکل درست اور حق بات ہے یہی ہونا چاہیے، مگر جونہی کوئی یزید کے بارے سوال کر دے کہ اگر وہ اہل بیت کے قتل میں شریک نہیں بھی تھا تو اس نے اہل بیت کے خون کا قصاص کیوں نہیں لیا؟ واقعہ حرہ میں مدینہ منورہ پر لشکر کشی کیوں کی اور عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے قتال کیوں کیا؟ یزید کے بارے ایسے … Continue reading ناصبیتِ جدیدہ کاطرز استدلال اور مشاجرات

اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں بریلوی

مجھے ہمیشہ محسوس ہوا ہے کہ نظریاتی اعتبار سے علامہ ابن تیمیہ کے اینٹی تھیسز سمجھے جانے والے اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں بریلوی مزاج کے اعتبار سے ابن تیمیہ سے بہت مشابہ تھے۔ دونوں بزرگ بلا کے ذہین تھے لیکن مزاج کی شدت نے دونوں کو راہِ اعتدال سے ہٹا دیا۔ ابن تیمیہ نے ابن العربی کو سمجھے بغیر ان پر کفر کے فتوے لگائے تو اعلیٰ حضرت سے یہی ظلم مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا محمود الحسن جیسے بزرگوں کے باب میں سرزد ہوا۔ (اگرچہ دیوبند نے بھی بہت نا انصافیاں کیں) اعلیٰ حضرت ان فرقہ وارانہ … Continue reading اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں بریلوی

غامدی صاحب و ملوکیت کی ناگزیریت

غامدی صاحب ودیگر کچھ حضرات ملوکیت کی سیاسی و معروضی جواز وناگزیریت کی جو بحث اٹھاتے ہیں وہ اول وآخر ” مفروضات ” پر مبنی ہے ۔ ان کے مطابق (1) اقتدار بنو امیہ سے باھر جاتا تو ” خانہ جنگی ” کا خطرہ تھا ۔ (2) سلطنت کے پھیلاو نے از خود ملوکیت کی ضرورت پیدا کر دی تھی ۔ (3) خلافت راشدہ کا نظام ممکن نہیں رھا تھا ۔ لیکن خود ملوکیت نے جو نتائج پیدا کیے ان کے سامنے ان “مذکورہ مفروضات” کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے کہ !! (1) خانہ جنگی تو پھر بھی … Continue reading غامدی صاحب و ملوکیت کی ناگزیریت

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد نے یزید بن معاویہ کے پاس شام بھیجا

================================== امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : « وَيُقَالُ إِنَّهُ كَانَ مَعَهُ رُءُوسُ بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ، وَهُوَ الْمَشْهُورُ. وَمَجْمُوعُهَا اثَنَانِ وَسَبْعُونَ رَأْسًا، وَذَلِكَ أَنَّهُ مَا قُتِلَ قَتِيلٌ إِلَّا احْتَزُّوا رَأَسَهُ وَحَمَلُوهُ إِلَى ابْنِ زِيَادٍ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا ابْنُ زِيَادٍ إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ إِلَى الشَّامِ ». ’’ یہی قول مشہور ہے جو مجموعی طور پر 72 سر تھے اس لیے کہ جو شخص بھی قتل ہوا انہوں نے اس کا سر کاٹ لیا اور اسے ابن زیاد کے پاس لے گئے پھر ابن زیاد نے انہیں معاویہ بن یزید کے پاس شام بھجوا دیا ‘‘۔ (البدایة والنھایة لابن کثیر … Continue reading سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد نے یزید بن معاویہ کے پاس شام بھیجا

مفتی تقی عثمانی اور سلمان تاثیر

سلمان تاثیر قتل کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں دیوبندی مسلک کے رہنما مفتی تقی عثمانی صاحب نے فرمایا تھا “یہاں صورت حال جو تھی وہ ذرا مشکوک تھی، جیسا بیان کیا کہ آیا واقعتاً اس کی بات گستاخی رسول تک پہنچتی تھی یا نہیں پہنچتی تھی یہ بات واضح نہیں تھی اس حالت میں اس (ممتاز قادری) نے اس (سلمان تاثیر) کو قتل کیا۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جذبہ اس کا بڑا نیک تھا۔ جذبہ یہی تھا کہ نبیؐ کی شان میں گستاخی ہوئی ہے لہذا میں اس کا بدلہ لوں … Continue reading مفتی تقی عثمانی اور سلمان تاثیر

ابن تیمیہ ؒ اور سید مودودی

مجھے امام ابن تیمیہ ؒ کی جن باتوں سے کبھی اتفاق نہ ہوسکا ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ مدینہ طیبہ کا سفر مسجد نبوی ؐ میں نماز پڑھنے کےلیے تو جائز بلکہ مستحسن قرار دیتے ہیں ، مگر نبی ﷺ کے مزار مبارک کی زیارت کا اگر کوئی قصد کرے تو اس کو ناجائز ٹھیراتے ہیں ؛ میرے نزدیک یہ چیز کسی مسلمان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ حجاز جانے کے بعد مدینے کا قصد نہ کرے اور مدینے کا قصد کرتے وقت مزار پاک کی زیارت کی تمنا اور خواہش سے اپنے … Continue reading ابن تیمیہ ؒ اور سید مودودی