عرب دنیا میں حافظ الاسد کا کردار – حمزہ ابراہیم

حال ہی میں اوریا مقبول جان صاحب نے شام کے حوالے سے ارشادات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔شام کے بحران کے حوالے سے اپنے تعصبات کے زیر اثر آ کر جو جھوٹ اور نفرت پاکستان میں پھیلائی جا رہی ہے اس کا شام کی خانہ جنگی پر تو کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑے گا لیکن یہاں کے معصوم بچوں کے ذہن ضرور گمراہ ہوں گے۔وہ اپنے ملک میں رہنے والے دوسرے مسالک کے لوگوں کے بارے میں تعصب کا شکار ہو جائیں گے۔ کراچی یونیورسٹی کے سعد عزیز اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نورین لغاری کے ذہن … Continue reading عرب دنیا میں حافظ الاسد کا کردار – حمزہ ابراہیم

داعش، اوریا مقبول جان اور نیم خواندہ نوجوان ۔حمزہ ابراہیم

اپریل 2017 میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ اور ایک اعلی تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی لاہور سے گرفتاری کی خبر نے پورے ملک کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ۔نورین نامی اس سادہ لڑکی نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر ایک دہشتگرد سے شادی کر لی اور گھر والوں کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ شام جا چکی ہے۔وہ اپنے نئے نویلے دولہا کے ساتھ بقیہ زندگی گزارنے کی بجائے لاہور میں مسیحی حضرات کی مذہبی تقریب میں دھماکہ کرنا چاہ رہی تھی کہ خفیہ اداروں کے آپریشن میں گرفتار ہو گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ … Continue reading داعش، اوریا مقبول جان اور نیم خواندہ نوجوان ۔حمزہ ابراہیم

مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله کی میراث کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔۔حمزہ ابرا ہیم

ہندوستان میں مسلمان حکمران خاندانوں کے دورِ حکومت میں علماء حکومتی اداروں کی مدد سے اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ مسلمان معاشرے میں راسخ العقیدتی کی جڑیں مضبوط رہیں تاکہ اس کی مدد سے وہ اپنے اثر و رسوخ کو باقی رکھ سکیں۔ حکومتوں نے علماء کا تعاون حاصل کرنے کی غرض سے جہاں انہیں حکومتوں کے اعلیٰ عہدوں (قاضی، حکیم وغیرہ)پرفائز کیا، وہاں اس کے ساتھ انہیں ”مدد ِمعاش“ کے نام سے جاگیریں دے کر معاشی طور پر خوش حال رکھا۔ اس لیے علماء اور حکومت کے درمیان مفاہمت اور سمجھوتے کے جذبات قائم رہے اور انہوں … Continue reading مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله کی میراث کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔۔حمزہ ابرا ہیم

سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی جہاد تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی ۔۔حمزہ ابراہیم

سید احمد شہید 1786ء میں بریلی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد 18سال کی عمر میں ملازمت کی تلاش میں نکلے اور لکھنؤ آئے مگر انہیں ناکامی ہوئی اور ملازمت نہ مل سکی ۔ اس پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے دہلی میں شاہ عبدالعزیز کے مدرسے میں تعلیم حاصل کریں گے۔ 1806ء سے 1811ء تک انہوں نے دہلی میں قیام کیا ، اس کے بعد 25سال کی عمر میں امیر خان ،جو کہ ایک فوجی مہم جُو تھے، کے ہاں ملازمت کرلی۔ اس سلسلے میں ان کے سیرت نگار یہ کہتے ہیں … Continue reading سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی جہاد تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی ۔۔حمزہ ابراہیم

پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ، وجوہات اور ان کا تدارک۔حمزہ ابراہیم

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ برصغیر میں مذہبی تشدد کے لحاظ سے بدترین ہے۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کراچی کے کلفٹن جیسے علاقوں میں کچھ لوگوں کی شراب نوشی کی تصویریں دیکھ کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ماضی میں پورا پاکستان ایسا تھا۔ اگرچہ کلاشنکوف اور بم کے عام ہو جانے سے شیعہ کشی کی وارداتیں بہت بڑھی ہیں، لیکن شیعہ اور سنی عوام میں تناؤ کے لحاظ سے عروج کا زمانہ پچھلی صدی کا پہلا نصف حصہ تھا۔ اس کے بعد سے یہ تعلقات بہتری کی طرف مائل ہیں۔تاریخی عمل سست ہوتا ہے اسلئے … Continue reading پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ، وجوہات اور ان کا تدارک۔حمزہ ابراہیم

احمد شاہ ابدالی: حملہ آور یا ہیرو ( ڈاکٹر مبارک علی ) ۔حمزہ ابراہیم

تاریخی شعور کی کمی کے باعث ہمارے ہاں اب تک حملہ آور اور ہیرو کے درمیان فرق نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاریخ کے عمل کو دلیل اور عقل کے بجائے جب جذبات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں واقعات تعصبات کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال احمد شاہ ابدالی ہے، اس کے بارے میں ہمارے ہاں دو نکتہ ہائےنظر ہیں۔ ایک میں اسے حملہ آ ور کہاں جاتا ہے کہ جس نے برصغیر ہندوستان پر حملے کر کے یہاں لوٹ مار کی ۔جبکہ افغانوں میں اسے ہیرو کا درجہ دیا … Continue reading احمد شاہ ابدالی: حملہ آور یا ہیرو ( ڈاکٹر مبارک علی ) ۔حمزہ ابراہیم

مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله : حقائق کیا ہیں؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔حمزہ ابراہیم

سنہ 1857ء کے بعد ہندوستان کے مسلمان معاشرے میں علماء کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے یہ بھی ضروری تھا کہ تاریخ میں ان کے مثبت کردار کو ابھارا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ تاریخ میں علماء نے ہمیشہ شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ اس قسم کی تاریخ لکھنے کا کام بھی علماء نے کیا اور یہ تاریخ عقیدت سے بھرپور جذبات کے ساتھ لکھی گئی کہ جس کو لکھتے وقت تاریخی واقعات کی تحقیق یا تجزیے کی ضرورت کو اہمیت نہیں دی گئی۔ بلکہ یہ کوشش کی گئی کہ علماء کی قربانیوں سے ان کے کردار … Continue reading مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله : حقائق کیا ہیں؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔حمزہ ابراہیم

آیت الله خمینی اور آیت اللہ مطہری کی زبانی حضرت عمرؓکے فضائل کا بیان۔حمزہ ابراہیم

متعدد شیعہ علماء اور سکالرز نے اپنی کتب اور تقاریر میں خلفاۓ راشدین کی مدح کی ہے، اور اگرچہ وہ خاتم الخلفاء حضرت علی کو افضل الخلفاء اور خلافت کا صحیح حقدار مانتے ہیں لیکن خلفاۓ راشدین کے طرز حکومت کوبطور کلی اسلامی سمجھتے ہیں اور ان کے معاملے کو طلقاء (فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردگان) کی حکومت سے جدا رکھتے ہیں۔ اسی طرح اصحاب رسول میں مہاجرین و انصار کو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہونے والوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ آیت الله خمینی اور آیت اللہ خوئی جیسے بڑے شیعہ محققین یہی موقف رکھتے ہیں۔ لیکن … Continue reading آیت الله خمینی اور آیت اللہ مطہری کی زبانی حضرت عمرؓکے فضائل کا بیان۔حمزہ ابراہیم

Syria’s Grand Mufti discusses Peaceful coexistence, non-sectarian and Inclusive Syria with Eva Bartlett

DAMASCUS, SYRIA — On October 2, 2018, I met with the Grand Mufti of Syria, Dr. Ahmad Badr Al-Din Hassoun, a scholar and the highest official of Islamic law in Syria, who assumed the position of grand mufti in 2005. Dr. Hassoun’s (archived) website notes that in addition to his title of grand mufti, his other positions include, “Chairman of the Media Committee of the Higher Consultative Council for the Rapprochement between the Islamic Schools of Thought, Islamic Educational, Scientific and Cultural Organization.” Essentially meaning that the mufti focuses on interfaith, and inter-sect, dialogue. His speeches routinely focus on the theme of rapprochement … Continue reading Syria’s Grand Mufti discusses Peaceful coexistence, non-sectarian and Inclusive Syria with Eva Bartlett

وحدت کا رستہ اور تنقید کے تیر – مفتی گلزار نعیمی

ہم کدھر جائیںجب سے محرم شروع ہوا ہے۔ہر روز فیس بک پر میسنجر پر سیل نمبر پر بیسیوں لوگ سوالات کرتے ہیں کہ جو امھات المومنین اور خلفاء اور صحابہ کو سب و شتم کرے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خدائی مقام تک لے جائے ایسے لوگوں کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگ یہ سوال نہیں کرتے کہ دین اس بارے میں کیا کہتا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ آپ کیا کہتے ہیں ۔۔یا للعجب۔۔!!!اس حوالے سے میرا وہی موقف ہے جو ہمارے اکابر علمائے اہل سنت کا ہے۔میں نے اس … Continue reading وحدت کا رستہ اور تنقید کے تیر – مفتی گلزار نعیمی