شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی عہدِ جہانگیر میں

شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانی) عہدِ جہانگیر میں (تُزکِ جہانگیری کے تناظر میں):۔ شیخ احمد سرہندی جنھیں مجدد الف ثانی (متوفیٰ 1034ھ) بھی کہا جاتا ہے، کی نسبت عام نصابی کتب سمیت تواریخ میں درج ہے کہ انھوں نے مغل بادشاہ، اکبر کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ برصغیر کے مؤرخ شیخ محمد اکرام کے مطابق یہ نادرست ہے۔ شیخ احمد سرہندی کا اکبر کے دور میں کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے؛ البتہ اکبر کے بعد، حکمران بننے والے اس کے بیٹے جہانگیر نے اپنی “توزکِ جہانگیری” میں اِن کا مجہول اور نامناسب انداز سے ذکر کیا ہے، جس سے … Continue reading شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی عہدِ جہانگیر میں

خلافتِ علیؓ احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

تین سو صفحات پر مشتمل زیرِ طبع کتاب ’’خلافتِ علیؓ احادیثِ نبویہ کی روشنی میں‘‘ کا پیش لفظ پیش لفظ الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خير خلقه سیدنا ومولانا محمد وآله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، وبعد: یہ چند صفحات ایک ایسے موضوع پر پیش کیے جارہے ہیں جس پر کچھ کہنا یا لکھنا مزاجاً کبھی مرغوب نہیں رہا، ليكن گذشتہ کچھ بیس پچیس برسوں میں مسلسل ایسے تجربات ہوئے اور وہ کچھ پڑھنے اور سننے کو ملا جس سے اندازہ، بلکہ یقین ہوا کہ ہماری تاریخ کے اس انتہائی تاب ناک باب اور خلافتِ … Continue reading خلافتِ علیؓ احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

بنو ہاشم اور بنو امیہ کی چشمک کا آغاز

ہاشم کا نام عمرو تھا. قحط کے زمانے میں مکہ کے شہریوں کو اور حج کے دنوں میں حاجیوں کو شوربے میں روٹیاں چورہ کر کے کھلانے کی وجہ سے ہاشم مشہور ہو گئے. نہایت سخی تھے. وسیع دسترخوان تھا. مسافروں کو نہ صرف کھانا ملتا بلکہ جاتے ہوئے سواری کے لئے اونٹ بھی دیتے تھے. مکہ والوں کے لیے سال کے دو تجارتی سفر اور ان کے لئے یمن اور شام کے حکمرانوں سے معاہدے کر کے پرامن تجارت کی داغ بیل ڈالی. امیہ بن عبدشمس جو دولت و ثروت میں ہاشم سے کسی طرح کم نہ تھا، اس … Continue reading بنو ہاشم اور بنو امیہ کی چشمک کا آغاز

شہادتِ عمر و شہادتِ حسین

حضرت عمر کی شہادت کی بابت یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اس واقعہ کو کیوں اس طرح سے نہیں بیان کیا جاتا جس طرح امام حسین کی شہادت کو بیان کیا جاتا ہے. میرے نزدیک عمر فاروق اور امام حسین کی شہادت میں ایک واضح فرق موجود ہے جسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے. عمر فاروق کسی جنگ کے نتیجے میں شہید نہیں ہوئے تھے اور نہ عمر فاروق کی شہادت فی نفسہہ کوئی حق و باطل کا معرکہ تھا بلکہ عمر ابن خطاب کی شہادت ایک فرد کی شہادت تھی. برعکس اسکے امام حسین کی شہادت باقاعدہ … Continue reading شہادتِ عمر و شہادتِ حسین

صحابہ کرام کی شان میں ناصبیوں کی چند روزمرہ گستاخیاں

۱۔ “اگر امیر معاویہ نے خلیفہ راشد سے جنگ کی تو اماں عائشہ صدیقہ سلام اللٰہ علیہا نے بھی تو جنگ کی۔ تو ام المومنین پر تنقید کیوں نہیں کرتے؟” یہ ام المومنین کی شان میں گستاخی ہے۔ ان کا مقام معاویہ سے ہزاروں لاکھوں درجے بلند ہے۔ وہ مہاجر ہیں، اہلبیت کا حصہ ہیں، نبی پاک کی زوجہ اور صدیقِ اکبر کی دختر ہیں، بہت بڑی محدث اور فقیہ ہیں۔ وہ صحابہ کی اسی چوٹی کی جماعت میں تھیں جس میں مولا علی تھے اور وہ علی سمیت پوری امت کی ماں تھیں اور ہیں۔ ان کا جناب معاویہ … Continue reading صحابہ کرام کی شان میں ناصبیوں کی چند روزمرہ گستاخیاں

محبّانِ یزید نوٹ کرلیں

۔۔۔۔۔۔۔ یزید کو رحمہ اللہ کہنے کی گنجائش میں اپنی وال پر نہیں دے سکتا۔ نہ ہی یزید کی صالحیت و صلاحیت پر “دلائل” کو اپنی وال پر برداشت کرسکتا ہوں، نہ ہی کربلا کے ظلمِ عظیم کےلیے اس کی “بے گناہی” کا “ثبوت” پیش کرنے کی اجازت دے سکتا ہوں۔ ان ساری باتوں پر بارہا مختلف انداز میں گفتگو کی جاچکی ہے۔ پتہ نہیں کیوں بعض محبّانِ یزید اب بھی یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک دفعہ پھر یہ بحث چھڑ جائے؟ یہ لوگ اچھی طرح سن لیں: آپ یزید کی فاسقیت کے قائل نہیں ہیں؟ نہ ہوں۔ آپ … Continue reading محبّانِ یزید نوٹ کرلیں

کیا محرم اور میلاد النبی کے تیوہار سے وابستگی ترقی پسندی کی ضد ہے

میرا یہ مضمون اس سوال کے جواب میں ہے کہ “کیا محرم کے سوگوار ثقافتی تیوہار اور میلاد النبی کی پرمسرت تیوہار سے وابستگی ترقی پسندی کی ضد ہے؟ اور اس حوالے سے ترقی پسند تحریک کے اولین معماروں کا رویہ کیا رہا ہے؟ گزشتہ چند سالوں سے ایک لبرل سیکشن نے سوشل میڈیا پہ محرم اور میلاد کو برصغیر پاک و ہند کے باقی تیوہاروں سے الگ کرکے اسے منانے والے لبرل، ترقی پسند، سوشلسٹ اور کمیونسٹوں کو محرم میں “شیعہ” اور ربیع الاول میں “بریلوی” ہوجانے کا طعنہ دیتے ہیں – یہ لبرل سیکشن ہمیں کبھی کرسمس، ہولی، … Continue reading کیا محرم اور میلاد النبی کے تیوہار سے وابستگی ترقی پسندی کی ضد ہے

میری نانی سنی تھیں

میری نانی سنی تھیں، مگر اہل بیتؑ کے در کی فقیر تھیں، ان کا آلِ رسولؐ سے اتنا لگاو تھا کہ محلہ دار خواتین کی کوئی حاجت ہوتی تو میری نانی کے پاس آتیں اور بی بی فاطمہؑ کا معجزہ سنانے کی منت ماننے کو کہتی تھیں، میری نانی یوں کہتی” دھی رسول اللہ ص دی ، زوجہ علی المرتضیٰؑ دی، والدہ حسن تے حسین ع دی، اے مائی سین پاک میں دو پیسے دے تِل تے شکر دیساں خدا نوں میری سفارش تاں کرو چا۔ اللہ کو جنابِ سیدہؑ فاطمہؑ کا واسطہ اتنا عزیز تھا کہ وہ میری نانی … Continue reading میری نانی سنی تھیں

شرعی امور میں صحابہ کا اختلاف اور میری تربیت…

حافظ صفوان . میرے والد مرحوم پروفیسر عابد صدیق صاحب مجھے صحابہ کے آپسی اختلاف پر زبان بند رکھنے کی تلقین کے بجائے بہت خوبصورت مثالیں دے کر سماجی اور انسانی سطح پر اُن کی عظمت کا نقش قائم کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ اِس ترتیب پر تربیت کا فائدہ یہ ہوا کہ میں اصولِ دین یعنی قرآن سے روشنی لے کر انسانی معاملات کو انسانی اور سماجی سطح پر سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اِس ضمن میں تبلیغی جماعت کے دو بزرگوں مولانا محمد احمد انصاری اور مولانا سعید احمد خاں مہاجر مکی کا بہت کردار ہے۔ کل … Continue reading شرعی امور میں صحابہ کا اختلاف اور میری تربیت…

کیرئیر، فوکس، روٹین اور مولانا محمد اسحاق رح

(28 اگست2021، ابّا جی کی آٹھویں برسی) میرے نانا جی مولانا محمد اسحاق رحمہ اللّٰہ کی حیات کے یہ تین گوشے ایسے ہیں جن کا تذکرہ ضروری خیال کرتا ہوں۔ خصوصاً نوجوانوں کو یہ جاننے کی حاجت رہتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے ارتکاز کو بہتر کرکے اپنی روٹین ٹھیک کریں اور اپنے کیریئر میں ترقی کر سکیں۔ مولانا رح کی دین اسلام کیلئے خدمات اور اتحاد بین المسلمین کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے تو ایک جہان آگاہ ہے۔ لیکن انہیں اس مقام تک پہنچانے میں انکی چند عادات کا بہت اہم ہاتھ ہے۔ مولانا رح نے لڑکپن … Continue reading کیرئیر، فوکس، روٹین اور مولانا محمد اسحاق رح