قائدِ اعظم محمد علی جناح کے جنازے کی یہ تصویر کس قدر طاقتور ہے، ہماری قومی تاریخ کی اہم ترین تصویروں میں سے ایک۔ غازی عباس علمدار کا عَلم، عَلم کے سائے میں بابا جان کا پھُولوں سے لدا تابوت، تابوت کے ہمراہ پینٹ کوٹ ترکی ٹوپی والے بھی ہیں اور پگڑی و عمامہ والے بھی۔ سب سے الگ ایک منڈھیر پر وزیراعظم خان لیاقت علی خان یوں تنہاء بیٹھے ہیں جیسے باپ کے مرنے پر اپنے صدموں اور اندیشوں کو دل میں دبائے گھر کا بڑا بیٹا ایک طرف بیٹھا ہوتا ہے احمد الیاس Continue reading

کیا امام حسینؑ یزید لعين کی بیعت کرنا چاھتے تھے

کیا امام حسینؑ یزید لعين کی بیعت کرنا چاھتے تھے ؟ ممبئ کے نا ص بی کفایت اللہ سنابلی نے اپنی کتاب میں یزید کا دفاع کرتے ہوئے ایک روایت پیش کی جو اس انساب الاشرف میں اس طرح ہے : حدثنا سعدويه، حدثنا عباد بْن العوام، حَدَّثَنِي حصين، حَدَّثَنِي هلال بن إساف قال: أمر ابن زياد فأخذ مَا بين واقصة، إِلَى طريق الشَّام إِلَى طريق الْبَصْرَة، فلا يترك أحد يلج وَلا يخرج، فانطلق الْحُسَيْن: يسير نحو طريق الشَّام يريد يزيد بْن مُعَاوِيَة فتلقته الخيول فنزل كربلاء، وَكَانَ فيمن بعث إِلَيْهِ عمر ابن سعد بن أبي وقاص، وشمر ابن ذي … Continue reading کیا امام حسینؑ یزید لعين کی بیعت کرنا چاھتے تھے

خلیفہِ ثانی کے دور میں معاویہ بن ابی سفیان کی تقرری کا مسئلہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیدّنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں والی (گورنر) اور عامل (کمشنر) کی حیثئیت سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی تھی۔ وہ حکمران نہیں بلکہ سرکاری ملازم ہوتے تھے جن کا کام محصولات کی وصولی اور صوبے یا علاقے میں تعینات مسلم فوجوں کی ضروریات کا خیال رکھنا ہوتا تھا۔ اسی سبب ان کا انتخاب تقویٰ اور علم سے زیادہ ان کی انتظامی و عسکری صلاحیتوں کی بنیاد پر عمل میں آتا تھا۔ خلیفہِ دوم کے گورنرز صوبے میں مالک و مختار ہرگز نہیں ہوتے تھے بلکہ ان سے زیادہ طاقتور امین المال اور قاضی ہوا کرتے تھے۔ … Continue reading خلیفہِ ثانی کے دور میں معاویہ بن ابی سفیان کی تقرری کا مسئلہ

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں دو انتہائی مشکل ادوار

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں دو ادوار انتہائی مشکل تھے اور آج تک یہ دونوں ادوار حساس موضوعات ہیں : ۱ ۔ پہلا فتنہ جو شہادتِ عثمان رضی اللٰہ عنہ (۶۵۶ عیسوی) سے شروع ہوا اور صلحِ حسن علیہ السلام و معاویہ (۶۶۱ عیسوی) تک رہا۔ ۲۔ دوسرا فتنہ جو شہادتِ حسین علیہ السلام (۶۸۰ عیسوی) سے شروع ہوا اور شہادتِ عبداللٰہ بن زبیر رضی اللٰہ عنہ تک رہا۔ یہ دونوں کثیر الفریقی سیاسی تنازعات تھے۔ ان دونوں میں چار گروہ تھے۔ ۱۔ شیعتِ علی ۔۔۔ جو اس زمانے میں کوئی مذہبی فرقہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی جماعت تھی … Continue reading اسلام کی ابتدائی تاریخ میں دو انتہائی مشکل ادوار

یزید کی “خلافت” کے انعقاد کےلیے “ولی عہدی” سے استدلال کا بودا پن

یزید کی “خلافت” کے انعقاد کےلیے “ولی عہدی” سے استدلال کا بودا پن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یار لوگوں کو اور کچھ نہ سوجھا تو یزید کی “خلافت” کے انعقاد کےلیے یہ دلیل گھڑ لی کہ اس کی “خلافت” تو اسی وقت منعقد ہوچکی تھی جب اسے “ولی عہد” بنا دیا گیا۔ اچھا، تو اگر تنہا ولی عہدی اس کی خلافت کے انعقاد کےلیے کافی تھی، تو پھر اس کےلیے بیعت لینے کی کوشش کیوں کی گئی اور اس مقصد کےلیے گاجر اور ڈنڈے کا استعمال کیوں کیا گیا؟ پھر اگر وہ پہلے دن سے ہی خلیفہ تھا، تو اس نے اور اس … Continue reading یزید کی “خلافت” کے انعقاد کےلیے “ولی عہدی” سے استدلال کا بودا پن

ان کی شکل صورت اور قد کاٹھ رسول اللہ ص سے مشابہ تھا

چار شخصیات کے حوالے روایات ملتی ہیں کہ ان کی شکل صورت اور قد کاٹھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھا : 1. مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ 2. جعفرِ طیار بن ابوطالب رضی اللہ عنہ 3. امام حسن المجتبیٰ بن علی علیہ السلام 4. علی اکبر بن حسین علیہ السلام یہ چاروں شہزادے اپنی سیرت اور اخلاقی اوصاف کے ساتھ ساتھ مردانہ خوبصورتی اور وجاہت کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے تھے، یہاں تک کہ شاعرات ان کے حُسن و جمال پر اشعار کہا کرتی تھیں۔ ان میں سے تین شخصیات تو رسول اللہ ص … Continue reading ان کی شکل صورت اور قد کاٹھ رسول اللہ ص سے مشابہ تھا

بنی امیہ

‎جب تک بنی امیہ لات و ہبل سے وابستہ رہے ، اپنی برہنہ تلواروں سے رسول اسلام کے خلاف نبرد آزما ، قرآن مجید کو تیروں کا نشانہ بناتے رہے تو ان کی تقدیر میں بدر کی شکست اور غزوہء خندق میں بے حرمتی ان کے دامن گیر رہی ۔ جب وہ اپنی حکمت عملی بدل کر اپنے دشمنوں کے مقابل دوستی کے بھیس میں آئے تو پھر جنگ صفین میں بدر کی شکست کا انتقام لینے کے قابل ہو چکے تھے پہلے وہ قرآن پر تیر بارانی کرتے تھے اور اب اسی قرآن کو اپنے نیزوں پر بلند کرنے … Continue reading بنی امیہ

صحابہ کی حضرت معاویہ کے ساتھ صلح

‎بہترین صحابہ اور مسلمانوں کے سرخیل حضرت معاویہ کے ساتھ صلح میں یہ مانتے ہوئے داخل ہوئے تھے کہ یہ امت کی تباہ کن خانہ جنگی سے نکلنے کے لیے سمجھوتے پر مبنی حل ہے۔ اس کا محرک امت کی قیادت کے لیے معاویہ کی اخلاقی اہلیت پر ان کا اطمینان نہیں تھا۔ ‎اس پر وہ اقوال دلالت کرتے ہیں جو عبداللہ بن عمر، حسن بن علی اور حسین بن علی سے منقول ہیں۔ یہ حضرات اس وقت امت کے قائدین اور اس کے اجتماعی ارادے کی ترجمانی کرنے والوں میں سے اہم ترین لوگ ہیں۔ ‎ہم نے اس سے … Continue reading صحابہ کی حضرت معاویہ کے ساتھ صلح

‎جے کر دین علم وِچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو

‎جے کر دین علم وِچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو ‎اٹھارہ ہزار جو عالم آہا اَگے حسین دے مردے ھُو ‎جے کجھ ملاحظہ نبی سرور دا کردے تاں تمبو خیمے کیوں سڑدے ھُو ‎جے کر مندے بیعت رسولی پانی کیوں بند کردے ھُو ‎پر صادق دین تنہا دا باھُو جو سر قربانی کردے ھُو ‎عاشق سوئ حقیقی جیہڑا قتل معشوق دے منے ھُو ‎عشق نہ چھوڑے منہ نہ موڑے تورے سے تلواراں کھنّے ھُو ‎جت ول ویکھے راز ماہی دے لگے اسے بنّے ھُو ‎سچا عشق حسین ابن علی دا باھُو سر دتا راز نہ بھنّے ھُو ‎~حضرت … Continue reading ‎جے کر دین علم وِچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو

‎ہتھیار اُدھر لگا چکے آقائے خاص و عام

‎ہتھیار اُدھر لگا چکے آقائے خاص و عام ‎تیار اِدھر ہوا علمِ سیدِ انامؑ ‎کھولے سروں کو گِرد تھی سیدانیاں تمام ‎روتی تھی تھامے چوبِ علم خواہرِ امامؑ ‎تیغیں کمر میں دوش پہ شملے پڑے ہوئے ‎زینبؑ کے لعل زیرِ علم آ کھڑے ہوئے ‎گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار ‎مرفق تک آستینوں کو اُلٹے بصد و قار ‎جعفرؑ کا رعب دبدبۂِ شیرِ کردگار ‎بوٹے سے ان کے قد پہ نمودار و نامدار ‎آنکھیں ملیں علم کے پھریرے کو چوم کے ‎اور اس کے گرد پھرنے لگے جھوم جھوم کے ‎گہ ماں کو دیکھتے تھے کبھی جانبِ علم … Continue reading ‎ہتھیار اُدھر لگا چکے آقائے خاص و عام