صحابہ میں فرداً فرداً افضلیت بیان کرنا

صحابہ میں فرداً فرداً افضلیت بیان کرنا درست عمل نہیں ہے، مثلاً یہ بحث بہت نامناسب ہے کہ ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ افضل ہیں یا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم۔ لیکن یہ ایک مسلمہ اور اہم حقیقت ہے کہ صحابہ کی جماعتوں میں میں قرآن و حدیث کی رو سے درجے ہیں۔ درست دینی فہم کے لیے اس درجہ بندی کا ادراک لازم ہے۔ جو صحابہ فتحِ مکہ سے قبل ایمان لائے وہ فتح مکہ کے موقع پر یا اسکے بعد ایمان لانے والوں سے بالعموم افضل ہیں۔ ان کی افضلیت کا انکار ظلم ہے۔ جو … Continue reading صحابہ میں فرداً فرداً افضلیت بیان کرنا

نماز میں ہاتھ چھوڑنے کا مسئلہ اجتہادی ہے

نماز میں ہاتھ چھوڑنے کا مسئلہ اجتہادی ہے، اگر کوئی شخص ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز بھی درست ہے۔ مالکیہ کا مشہور مذہب ہے کہ نماز میں ہاتھ کھلے رکھے جائیں گے۔ المدونة (رواية سحنون) میں یہ بات واضح ہے گرچہ مالکیہ کی ایک جماعت کے نزدیک ہاتھ باندھنا زیادہ صحیح ہے۔ اور امام مالک سے بھی ہاتھ باندھنا منقول ہے، اسے امام مالک سے ابن ماجشون اور مطرف وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ میرے نزدیک اس مسئلہ میں مالکیہ کے دلائل پر لیبیا کے مالکی عالم ، شیخ محمد عز الدين الغرياني کی کتاب … Continue reading نماز میں ہاتھ چھوڑنے کا مسئلہ اجتہادی ہے

سلطانِ ہند جلال الدین اکبر کا دفاع

ابو رجب الحنبلی اکبر بادشاہ نے ’دینِ الٰہی‘ نام سے کوئی نیا مذہب ایجاد نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے جو طریقہ اختیار کیا تھا اسے ایک روش یعنی طریقہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بدایونی کی گھڑنت ہے کہ اکبر نے “دینِ الہی” نام کا نیا دین ایجاد کیا تھا۔ بدایونی نے بہت مبالغہ کیا ہے الزامات اور جھوٹ میں۔۔ شیخ محمد اکرام کی کتاب ’رودِ کوثر‘ کے اندراجات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے ’دینِ الٰہی‘ نام سے کوئی نیا مذہب ایجاد نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے جو طریقہ اختیار کیا تھا اسے ایک روش … Continue reading سلطانِ ہند جلال الدین اکبر کا دفاع

ایران تسنن بالخصوص تصوف کا گڑھ تھا

ہمارے ہاں (بلکہ پوری دنیا میں ہی) ایک مغالطہ یہ بھی ہے کہ ایران چونکہ ایک عظیم الشان سلطنت تھی اور مسلمانوں نے اسے ختم کردیا لہٰذا ایرانیوں میں ایک رنجش اور ملال پیدا ہوگیا جس کا نتیجہ ان کی علیحدہ مسلکی شناخت اور نتیجتہً علیحدہ سیاسی گروپنگ کی صورت نکلا۔ سننے میں تو یہ تھیوری بہت تگڑی لگتی ہے اور بڑے معقول لوگ بھی اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن تاریخ پر تھوڑا غور کریں تو ہے بہت غلط۔ شروع سے شروع کریں تو سیدنا عثمان رضی اللہٰ عنہ کے خلاف جو تحریک چلی، اس کا مرکز بھی کوفہ … Continue reading ایران تسنن بالخصوص تصوف کا گڑھ تھا

خاندانِ رسول ﷺ کے بارے میں نا انصافی

کچھ حضرات کی خاندانِ رسول ﷺ کے بارے میں نا انصافی کا عالم یہ ہے کہ اصل موجود ہو جب بھی اس میں کوئی نا کوئی کمزوری نکالی جانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کی جاتی رہی ہے۔ بطورِ مثال: حافظ ذہبی نے رسالہ “طرق حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ” میں ایک سند پہ کلام کرتے ہوئے کہا: وأبو جعفر لم يلق ابن ‌عباس یعنی: امام ابو جعفر محمد باقر کی حضرت عبد اللہ بن عباس سے ملاقات نہ ہوئی۔ (رسالہ طرق حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ للذہبی ص24) حالانکہ خود حافظ ذہبی ہی نے سیر اعلام … Continue reading خاندانِ رسول ﷺ کے بارے میں نا انصافی

دارالافتاء بنوری ٹاؤن – مولیٰ علی کے لفظ مولیٰ کا معنیٰ

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن – مولیٰ علی کے لفظ مولیٰ کا معنیٰ بڑا، آقا ، سردار یہ حدیث صحیح ہے، یہ حدیث حضور ﷺ نے ”غدیر خم” کے مقام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کرنے کے لیے ارشاد فرمائی تھی، اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ : جو مجھے اپنا دوست اور محبوب سمجھتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ سے بھی محبت رکھے یا جو مجھے اپنا بڑا ، آقا اور سردار سمجھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنا بڑا، آقا … Continue reading دارالافتاء بنوری ٹاؤن – مولیٰ علی کے لفظ مولیٰ کا معنیٰ

امام طحاوی کی شرح مشکل الآثار

امام طحاوی کی شرح مشکل الآثار جب بھی کھولنے کا موقع ملتا ہے ڈھونڈھنا کچھ اور ہوتا ہے مل کچھ اور جاتا ہے۔ امام طحاوی نے اس پر باب قائم کیا ہے کہ سورہ احزاب کی آیت إنما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس أہل البیت میں کون مراد ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اس آیت کی مراد میں صرف اہلِ کساء ہی داخل ہیں، اس کے علاوہ کسی اور کے لیے اہل کا لفظ استعمال ہوا ہے تو لغوی یا کسی اور معنی میں ہے اس آیت کے مدلول کے طور پر نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ … Continue reading امام طحاوی کی شرح مشکل الآثار

اجتہادی امور میں دور خلافت راشدہ کے فیصلے

خلافت راشدہ کے دور میں مختلف اجتہادی امور میں باہمی مشاورت یا صواب دیدی اختیارات کے تحت مختلف فیصلے ہوتے تھے جنہیں بعد میں کبھی کبھی تبدیل بھی کر دیا جاتا تھا. مثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مانعین زکوۃ کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے ساتھ مرتدین کا سا برتاؤ کرنے میں تردد تھا. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قطعی رائے کی وجہ سے انہوں نے خلیفہ کا ساتھ دیا لیکن جب وہ خود خلیفہ ہوئے تو ان قبائل کی ایسی خواتین جو باندیاں تھیں لیکن کسی مالک سے صاحب اولاد نہیں ہوئی تھیں آزاد … Continue reading اجتہادی امور میں دور خلافت راشدہ کے فیصلے

صحیح بخاری پر نقد اور دفاع

صحیح بخاری پر نقد اور اس کا دفاع کرنے والے دونوں طبقات رواہ کی بحث میں الجھ کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں ۔امر واقعہ یہ ھے کہ یہ ایک ایسا منہج بحث ھے جس کے سوتے مدتوں پہلے خشک ہو گئے ۔ایسے افراد جو ہر نوع کی جرح سے ماورا ہوں شاید انگلیوں پر گنے جاسکتے ہوں ورنہ ابوحنیفہ شافعی اور بخاری تک پر جرح موجود ھے ۔جب آپ کسی راوی کو ثقہ یا مجروح قرار دیتے ہیں تو آپ صرف ان آراء کو ترجیح دیتے ہیں جو آپ کی اندر کی آواز سے ہم آھنگ ھیں ۔مثلاتمنا … Continue reading صحیح بخاری پر نقد اور دفاع

اقبال کی طبعیت میں تشیع

اقبال نے اپنی نظم “زہد اور رندی” میں مولوی صاحب کی زبان سے اپنے بارے میں کہلوایا ہے ہے اس کی طبعیت میں تشیع بھی ذرا سا تفضیلِ علی میں نے سنی اس کی زبانی اقبال کی طبعیت میں یہ جو “ذرا سا تشیع” تھا یا لوگوں کو محسوس ہوتا تھا، اس کی کئی وجوہات تھی۔ اقبال کی اپنی ذہنی وسعت، ذہانت اور روشن خیالی تو تھی ہی جو مختلف فکری دھاروں اور عقیدوں کی تطبیق کرلیتی تھی، اس کے ساتھ ساتھ آپ کے والدِ گرامی کا بھی اثر رہا ہوگا جو پرانی طرز کے صوفی انسان تھے اور صوفیاء … Continue reading اقبال کی طبعیت میں تشیع