کربلا کے بارے میں گھڑی گئی سازشی تھیوریاں اور آلِ صدیقؓ کی سیرت ۔حمزہ ابراہیم

”سازشی تھیوری“ حالات و واقعات کی ایسی تشریح کو کہا جاتا ہے جس میں اصل اسباب کو چھپانے کے لیے تاریخ کے مستند حصوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے اور مبہم حصوں اور کمزور روایات ڈھونڈ کر سارے تاریخی عمل کو متاثرین ہی کی سازش کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ عموماً یہ سازشی تھیوری صرف نظریاتی تعصب کے شکار مریدوں کی تشفی کے کام آتی ہے اور علمی اور عوامی حلقوں میں نتائج دینے سے قاصر رہتی ہے۔ کربلا کے معاملے میں ڈاکٹر اسرار احمد اور غلام احمد پرویز وغیرہ جیسے ناصبی حضرات کے بیانیے کا یہی حال ہے۔ … Continue reading کربلا کے بارے میں گھڑی گئی سازشی تھیوریاں اور آلِ صدیقؓ کی سیرت ۔حمزہ ابراہیم

پرانے لاہور میں عزاداری۔۔حمزہ ابراہیم

بیسویں صدی کے ادیب، مولوی نور احمد چشتی،   نے لاہور کی تہذیب کے بارے میں  اپنی کتاب ”یادگارِ چشتی“   (سنِ تصنیف  1859ء) میں  اس صدی  کے  لاہور میں عزاداری کا نقشہ  بھی پیش کیا ہے۔  ذیل میں اس کتاب سے متعلقہ  اقتباسات کو چن کر  مختلف عنوانات کے تحت پیش کیا گیا ہے:۔ کربلا کی یاد سے سالِ نو کا آغاز ” اہل اسلام کا سالِ نو ماہِ غم، یعنی محرم، جس کو پنجابی زبان میں ”دہے “ کہتے ہیں، سے شروع ہوتا ہے۔ یہ مہینہ  ہمارے نزدیک بہت غم و الم کا ہے کیوں کہ اس میں جناب حضرت … Continue reading پرانے لاہور میں عزاداری۔۔حمزہ ابراہیم

بنو قریظہ ۔ فسانہ اور حقیقت ۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

مدینہ کے تین بڑے یہودی قبائل میں سے بنو قینقاع اور بنو نضیر کی بدعہدی کے نتیجے میں جلاوطنی کے بعد یہی ایک قبیلہ مدینہ میں رہ گیا تھا۔ بنو نضیر مدینہ چھوڑ کر خیبر میں آباد ہوگئے، اپنی تمام منقولہ جائیداد ساتھ لے گئے تھے۔ وہاں پہنچ کر ان کے رئیس حیی بن اخطب نے مسلمانوں سے انتقام لینے کا بیڑا اٹھایا اور سارے عرب کے غیر مسلم، غیر معاہد قبائل کو مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا اور تمام جنگی اخراجات اور نقصانات کی تلافی کا معاہدہ کر کے ابوسفیان کی قیادت میں دس ہزار فوج … Continue reading بنو قریظہ ۔ فسانہ اور حقیقت ۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

آیت الله خمینی اور آیت اللہ مطہری کی زبانی حضرت عمرؓکے فضائل کا بیان۔حمزہ ابراہیم

متعدد شیعہ علماء اور سکالرز نے اپنی کتب اور تقاریر میں خلفاۓ راشدین کی مدح کی ہے، اور اگرچہ وہ خاتم الخلفاء حضرت علی کو افضل الخلفاء اور خلافت کا صحیح حقدار مانتے ہیں لیکن خلفاۓ راشدین کے طرز حکومت کوبطور کلی اسلامی سمجھتے ہیں اور ان کے معاملے کو طلقاء (فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردگان) کی حکومت سے جدا رکھتے ہیں۔ اسی طرح اصحاب رسول میں مہاجرین و انصار کو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہونے والوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ آیت الله خمینی اور آیت اللہ خوئی جیسے بڑے شیعہ محققین یہی موقف رکھتے ہیں۔ لیکن … Continue reading آیت الله خمینی اور آیت اللہ مطہری کی زبانی حضرت عمرؓکے فضائل کا بیان۔حمزہ ابراہیم

بھارت کے مسلمانوں میں اصلی سیکولر سیاست کی لہر۔۔حمزہ ابراہیم

بھارت میں شہریت کا نیا قانون منظور ہوا ہے جس کے مطابق صرف ان غیر ملکیوں کو بھارت کی شہریت دینے کا اعلان کیا گیا ہے جو مسلمان نہیں ہیں۔ اس طرح آسام اور بنگال میں بنگلہ دیش اور برما سے آنے والے مسلمانوں کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتا گیا ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک بھر کے مسلمان نوجوان طلبہ میں احتجاج کی لہر پیدا ہو گئی ہے اور جدید عقلی علوم حاصل کرنے والے طلبہ نے علماء کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں … Continue reading بھارت کے مسلمانوں میں اصلی سیکولر سیاست کی لہر۔۔حمزہ ابراہیم

جب آل سعود، شریف حسین کو نکال کر حجاز پر قابض ہو رہے تھ

ایک صدی پہلے جب آل سعود، شریف حسین کو نکال کر حجاز پر قابض ہو رہے تھے (مولانا دریابادی کی ’’محمد علی۔ ذاتی ڈائری کے چند اوراق’’ کے کچھ صفحات) عمار خان ناصر کا انتخاب Continue reading جب آل سعود، شریف حسین کو نکال کر حجاز پر قابض ہو رہے تھ

تحریک خلافت، تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت پر ایک نظر

تحریک خلافت کی کوکھ سے تحریک ترک موالات کے ساتھ تحریک ہجرت نے بھی جنم لیا۔بالعموم اس تحریک کا سرسری ذکر کر کے مورخین آگے نکل جاتے ہیں، جس سے عام قاری اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتا۔راجا رشید محمود نے تحریک ہجرت کی اہمیت پر اسی نام “تحریک ہجرت 1920” کے نام سے کتاب لکھی ہے۔جس کو دارالنعمان (اب ورلڈ ویو پبلشر) نے شائع کیا ہے۔ راجا صاحب نے تاریخی حوالے سے بتایا کہ برصغیر کے سلاطین اپنے آپ کو خلیفہ کا نمائندہ کہتے تھے گو کہ برصغیر خلافت سے آزاد تھا مگر کئی حکمرانوں نے اپنے آپ … Continue reading تحریک خلافت، تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت پر ایک نظر

مذہب کی آڑ میں فتح – علامہ اقبال کا موقف

یہ معروف مستشرق ڈاکٹر آر اے نکلسن کے نام علامہ اقبال کے چوبیس جنوری ۱۹۲۱ کو لکھے گئے خط سے اقتباس ہے جس میں وہ ’’اسلامی فتوحات’’ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کی اہمیت ایک تو اس لیے ہے کہ یہ اقبال جیسے تہذیبی خود اعتمادی رکھنے والے مفکر کے خیالات ہیں اور دوسرے اس لیے کہ اس سے دور جدیدیت میں مسلمانوں کے تاریخی شعور کی پیچیدگیوں پر روشنی پڑتی ہے۔ اس مختصر اقتباس میں اقبال نے ایک طرح سے پوری اسلامی تاریخ پر ایک تبصرہ کر دیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں، پھر اس کے … Continue reading مذہب کی آڑ میں فتح – علامہ اقبال کا موقف

شہادت کے بعد – ڈاکٹر علی شریعتی کے نایاب لکچر کا اردو ترجم

Urdu translation of Dr Ali Shariati’s lecture in Iran on 11 Muharram 1392 AH (26 Feb 1972) on the topic: “In the aftermath of Imam Hussain’s martyrdom”. It has a universal message of self-sacrifice and struggle for collective good, freedom and honor. Continue reading شہادت کے بعد – ڈاکٹر علی شریعتی کے نایاب لکچر کا اردو ترجم