نعت۔ محسن نقوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محسن نقوی الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے یہ دل کا نگرہے کہ مدینے کی فضا ہے سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں کلیوں کے کٹوروں پہ ترا نام لکھا ہے آیات کی جھرمٹ میں ترے نام کی مسند لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے اب کو ن حدِ حسن طلب سوچ سکے گا کونین کی وسعت تو تہ دستِ دعا ہے خورشید تری راہ میں بھٹکتا ہوا جگنو مہتاب ترا ریزہ نقشِ کفِ پا ہے واللیل ترے سایہ گیسو کا تراشا والعصر تری نیم نگاہی … Continue reading نعت۔ محسن نقوی

اہلبیت کی شان میں کلام ۔ صاحبزادہ نصیرالدین نصیر،

اللہ ، اہل بیت پیمبر کے ساتھ ہے اسلام کا وقار اسی گھر کے ساتھ ہے آلِ نبی کو ذات نبی سے جدا نہ مان ہر موج کا وجود سمندر کے ساتھ ہے وہ اک مکاں کہ جس کا مکیں باب علم تھا اپنا تو رابطہ ہی اسی گھر کے ساتھ ہے جو شخص نورِ دیدہ حیدر کے ساتھ ہے روزِ جزا وہ شافعِ محشر کے ساتھ ہے پیاسے نہ ہم رہیں گے قیامت میں دیکھنا اپنا بھی ربط ساقیِ کوثر کے ساتھ ہے اس ذات پاک کا ہوں دل و جاں سے میں غلام دعوی غلط نہیں ہے مگر … Continue reading اہلبیت کی شان میں کلام ۔ صاحبزادہ نصیرالدین نصیر،

محسن نقوی ۔ اردو کے قادرالکلام شاعر

‎محسن نقوی کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا اور وہ 5 مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بہاﺅ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے اردو میں ایم اے کیا اور کم و بیش اسی زمانے میں ان کی شاعری کا آغاز ہوا۔ ‎1969ء میں ڈیرہ غازی خاں کے ہفت روزہ “ہلال” میں باقاعدہ ہفتہ وار قطعہ اور کالم لکھنا شروع کیا۔ اسی سال ملتان کے روزنامہ ’’امروز‘‘ میں ہفتے وار کالم لکھے۔ ‎محسن نقوی کا شمار اردو کے خوش گو شعرا میں ہوتا ہے ان کے شعری مجموعوں میں بندقبا، ردائے … Continue reading محسن نقوی ۔ اردو کے قادرالکلام شاعر

مرثیہ امام حسین علیہ السلام – فیض احمد فیض

مرثیہ امام حسین علیہ السلام ‎بزبان فیض احمد فیض۔ ‎رات آئی ہے شبّیر پہ یلغارِ بلا ہے ‎ساتھی نہ کوئی یار نہ غمخوار رہا ہے ‎مونِس ہے تو اِک درد کی گھنگھور گھٹا ہے ‎مُشفِق ہے تو اک دل کے دھڑکنے کی صدا ہے ‎تنہائی کی، غربت کی، پریشانی کی شب ہے ‎یہ خانۂ شبّیر کی ویرانی کی شب ہے ‎دشمن کی سپہ خواب میں‌ مدہوش پڑی تھی ‎پل بھر کو کسی کی نہ اِدھر آنکھ لگی تھی ‎ہر ایک گھڑی آج قیامت کی گھڑی تھی ‎یہ رات بہت آلِ محمّد پہ کڑی تھی ‎رہ رہ کے بُکا اہلِ‌حرم کرتے … Continue reading مرثیہ امام حسین علیہ السلام – فیض احمد فیض

‎جے کر دین علم وِچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو

‎جے کر دین علم وِچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو ‎اٹھارہ ہزار جو عالم آہا اَگے حسین دے مردے ھُو ‎جے کجھ ملاحظہ نبی سرور دا کردے تاں تمبو خیمے کیوں سڑدے ھُو ‎جے کر مندے بیعت رسولی پانی کیوں بند کردے ھُو ‎پر صادق دین تنہا دا باھُو جو سر قربانی کردے ھُو ‎عاشق سوئ حقیقی جیہڑا قتل معشوق دے منے ھُو ‎عشق نہ چھوڑے منہ نہ موڑے تورے سے تلواراں کھنّے ھُو ‎جت ول ویکھے راز ماہی دے لگے اسے بنّے ھُو ‎سچا عشق حسین ابن علی دا باھُو سر دتا راز نہ بھنّے ھُو ‎~حضرت … Continue reading ‎جے کر دین علم وِچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو

‎ہتھیار اُدھر لگا چکے آقائے خاص و عام

‎ہتھیار اُدھر لگا چکے آقائے خاص و عام ‎تیار اِدھر ہوا علمِ سیدِ انامؑ ‎کھولے سروں کو گِرد تھی سیدانیاں تمام ‎روتی تھی تھامے چوبِ علم خواہرِ امامؑ ‎تیغیں کمر میں دوش پہ شملے پڑے ہوئے ‎زینبؑ کے لعل زیرِ علم آ کھڑے ہوئے ‎گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار ‎مرفق تک آستینوں کو اُلٹے بصد و قار ‎جعفرؑ کا رعب دبدبۂِ شیرِ کردگار ‎بوٹے سے ان کے قد پہ نمودار و نامدار ‎آنکھیں ملیں علم کے پھریرے کو چوم کے ‎اور اس کے گرد پھرنے لگے جھوم جھوم کے ‎گہ ماں کو دیکھتے تھے کبھی جانبِ علم … Continue reading ‎ہتھیار اُدھر لگا چکے آقائے خاص و عام

‎بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسین نے

‎نوحے، قصیدے، منقبتیں، مرثیے، سلام ‎بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسین نے ‎واقعہ کربلا اور امام عالی مقام کی لازوال قربانی نے اردو ادب پر بھی گہرے اثرات ثبت کیئے ہیں ۔ میدان کربلا میں حضرت امام حسین نے تاریخِ انسانی کی ایسی قربانی پیش کی کہ آج لگ بھگ چودہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی ان کی یاد اور غم کی چادر چہار سو پھیلی دیکھی جا سکتی ہے۔۔اسے کئی حوالوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک تو وثائی ادب ہے جس میں مرثیہ، نوحہ ، سلام، سوز اورمنقبت وغیرہ شامل ہیں جن میں خالصتاً کربلا اورامام حسینؑ … Continue reading ‎بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسین نے

خطبۂ زینب، یزید کے دربار میں ۔فہمیدہ ریاض

حضرتِ زینب کھڑی تھیں اپنے خیمے کی قریب اُن کی آنکھیں دیکھتی تھیں آخری منظر مہیب چار سُو بوچھاڑ خوں کی، ہر طرف شورِ وِغا روزِ محشر ہی تو اُس دن کربلا میں تھا بپا دور تک آنکھوں کے تارے خاک پر بکھرے ہوئے حضرتِ زینب کے پیارے خون میں لتھڑے ہوئے دو جواں بیٹوں کی لاشیں سامنے رکھی ہوئیں جاں سے پیارے سربریدہ بھائی کی میّت قریں دوڑتے گھوڑے جو نعشیں روندتے تھے سر بسر پڑ رہے ہوں گے وہ سُم زینب کی چشم و قلب پر ایسی لاوارث کہ جن پر رحم کھاتے ہیں سماج سارے اہلِ بیت … Continue reading خطبۂ زینب، یزید کے دربار میں ۔فہمیدہ ریاض

مرتضی’ کو خانہ زاد ِ رب ِ اکبر دیکھ کر

مرتضی’ کو خانہ زاد ِ رب ِ اکبر دیکھ کر بیاہ دی بیٹی پیمّبرنے بڑا گھر دیکھ کر جب بھی اٹھے گا نبی ۖ کی جانشینی کا سوال فیصلہ ہوگا شب ِ ہجرت کا بستر دیکھ کر وہ تو یوں کہیے کہ آپہنچے مدینے سے علی ورنہ لوٹ آۓ بہت سے باب ِ خیبر دیکھ کر ہوتے ہوں گے ُکنج ِ مرقد میں فرشتوں کے سوال ہم سے تو کچھ بھی نہ پوچھا شکل ِ حیدر دیکھ کر زوج ِ زہرا کا پتا معلوم تھا ورنہ قمرؔ عرش سے آتا ستارہ سینکڑوں گھر دیکھ کر استاد قمر جلالوی Continue reading مرتضی’ کو خانہ زاد ِ رب ِ اکبر دیکھ کر

موت۔ خلیل جبران

ما زِلْتُ أُؤمِنُ أنَّ الإنْسانَ لا يَمُوتُ دُفْعَةً واحِدَةً وَإنَّما يَمُوتُ بِطَريقَةِ الأجْزاء كُلَّما رَحَلَ صَدِيقٌ ماتَ جُزْءٌ وكُلَّما غادَرَنا حبيبٌ ماتَ جُزْءٌ وكُلَّما قُتِلَ حُلْمٌ مِنْ أحْلامِنا ماتَ جُزْءٌ فَيَأتِي المَوْتُ الأکْبَرُ لِيَجِدَ کُلَّ الأجْزاءِ مَيِّتَةً فَيَحْمِلُهَا وَيَرْحَلُ خلیل جبران ترجمہ مجھے یقین ہے کہ انسان ایک دم نہیں مرتا بلکہ وہ ٹکڑوں میں مرتا ہے جب بھی کوئی دوست رخصت ہوتا ہے، ایک حصہ مر جاتا ہے اور جب بھی کوئی محبوب ہم سے جدا ہوتا ہے، ایک ٹکڑا ختم ہو جاتا ہے اور جب بھی ہمارے خوابوں میں سے کوئی ایک خواب مر جاتا ہے، ایک حصہ … Continue reading موت۔ خلیل جبران