تاریخ سے ایک ورق : یومِ شہادتِ علیؑ، قائد اعظم محمد علی جناح اور تکفیری علما

حمزہ ابراہیم 21 رمضان کو برصغیر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت کی مناسبت سے یومِ علیؑ کے طور پر سوگ کا دن سمجھا جاتا ہے۔ 1944 میں مہاتما گاندھی قائد اعظم سے مذاکرات کرنے بمبئی آ ئے تو قائد اعظم نے 7 ستمبر کو حضرت علیؑ کے یوم شہادت کی وجہ سے ملاقات سے معذرت کی اور مذاکرات 9 ستمبر کو شروع ہوئے۔ اس بات پر لکھنؤ میں مجلس الاحرار کے رہنما مولانا ظفر الملک بھڑک اٹھے اور قائد اعظم کو کھلا خط لکھ کر کہا: ’’مسلمانوں کا 21 رمضان سے کوئی لینا دینا نہیں، یہ خالص … Continue reading تاریخ سے ایک ورق : یومِ شہادتِ علیؑ، قائد اعظم محمد علی جناح اور تکفیری علما

‎غامدی صاحب! خالصیت اور تکفیریت سے گریز بہتر ہے

‎مسلمانوں میں سائنس کے عروج کے زمانے کو زوال میں بدلنے میں اندھی عقیدت اور علمِ کلام کا مرکزی کردار رہا ہے۔ ‎تقریباً ایک ہزار سال پہلے علمِ کلام کے نام سے عقائد کو خالص اور دوسروں کو کافر بنانے کا فن سامنے آیا۔ اس کے سرخیل امام غزالی تھے۔ انہوں نے نئے خیالات کو قرآن و حدیث پر پرکھ کر کافر یا مسلمان کہنے کا سلسلہ شروع کیا۔ ابنِ سینا اور الفارابی وغیرہ کو کافر قرار دے کر ان کی پیروی کرنے والوں کی جان اور ایمان خطرے میں ڈالے۔ تب سے اب تک علم کے خلاف “اسلام کو … Continue reading ‎غامدی صاحب! خالصیت اور تکفیریت سے گریز بہتر ہے

Javed 𝐆𝐡𝐚𝐦𝐝𝐢 must refrain from 𝐓𝐚𝐤𝐟𝐢𝐫ism and Puritanism

Almost a thousand years ago, the medium of Theology (ilm-i-kalam) came to the fore in the world of Islam to accuse believers as infidels. The pioneer of this art of takfir (excommunication; declaring people guilty of apostasy) was Imam Ghazali. He began the process of interrogating new ideas in light of the Qur’an and Hadith. By declaring Ibn Sina and Al-Farabi etc. as infidels, he endangered the lives and faith of their followers too. Since then, the slogan of “Islam is in Danger” has been echoing against knowledge, reason, and critical thinking. Theologians started to harass and intimidate men of … Continue reading Javed 𝐆𝐡𝐚𝐦𝐝𝐢 must refrain from 𝐓𝐚𝐤𝐟𝐢𝐫ism and Puritanism

ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

مولانا عمار خان ناصر جدیدیت میں جاوید غامدی کی فکر سے متاثر ہیں اور اوائل اسلام کے تاریخی واقعات بارے ان کی تعبیر میں تقی عثمانی، محمود عباسی اور جاوید غامدی کے افکار کا رنگ نظر آتا ہے ۔ ان کے مقابل مولانا مفتی محمد زاہد، ملوکیت اور ناصبیت کے خلاف متقدمین اہلسنت کے افکار کے حامل ہیں ۔ ان کا ایک حالیہ مکالمہ درج ذیل ہے —- رد ناصبیت کے جوش میں حضرت عثمان کے قصاص کے مطالبے کو “غیر شرعی” ثابت کرنے کے لیے جو ایک نئی فقہ وجود میں لائی جا رہی ہے، اس کے کچھ نمونے … Continue reading ناصبیت اور رد ناصبیت – قتل عثمان اور قصاص

جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

کراچی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی ریٹائرڈ استاد ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ، جن کا ذاتی رجحان تکفیری خارجی گروہوں کی طرف ہے، نے چند روز قبل ایک پوسٹ استفساراً لکھی کہ ” علامہ تمنا عمادی،محمد جعفر شاہ پھلواروی اور غلام احمد پرویز تینوں ہی صوفی گھرانوں میں پیدا ہوئے اور خانقاہی ماحول میں پرورش پائی لیکن اس کے بعد تینوں ہی تصوف کے خلاف ہو گئے ۔ان کی یہ قلب ماھیت کیوں ہوئی؟ اسی “کیوں ” کی تلاش میں ہوں؟” ہم جب ان تین شخصیات کی تحقیقات و نظریات پر غور کرتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ نظامِ … Continue reading جناب جاوید غامدی کے نظریاتی اساتذہ کا تصوف اور اہلبیت بارے رویہ

محرم کے مہینے میں غامدیت اور دیوبندیتِ جدیدہ کا گٹھ جوڑ

محرم کے مہینے میں ایک خاص قسم کا غامدیت اور دیوبندیتِ جدیدہ کا گٹھ جوڑ وجود میں آتا ہے. سکرین شاٹ یہ صاحب دیدہ دلیری کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کو فساد فی الارض کہہ رہے ہیں، ہر سال نا معلوم اس طرح کی کتنی باتیں نظر سے گزرتی ہیں اور ایسی شخصیات کی پوسٹوں پر بھی جو یقیناً دیوبندیوں کے مطالعے میں بھی آتی ہیں، مگر مجال ہے کہ صحابہ کے نام نہاد علم برداروں کے کانوں پر جوں تک رینگے، کوئی ٹرینڈ چلے، صحابہ کے کچھ جیالے سامنے آئیں. مفتی محمد زاہد Continue reading محرم کے مہینے میں غامدیت اور دیوبندیتِ جدیدہ کا گٹھ جوڑ

یزید کے وکیل

آج کل یزید کے وکیل سب سے بڑا جھوٹ بول رہے ہیں کہ (معاذالله) حضرت امام حسین یزید کی بیعت کرنے پر راضی تھے اور اس کو امیرالمومنین کہتے تھے ۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے یزید کے وکیل انساب الاشراف اور تاریخ طبری کی ایک روایت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ امام عالی مقام یزید کو اچھا اور صحیح سمجھتے تھے ۔ آیئے انساب الاشراف اور تاریخ طبری کی روایت کو دیکھتے ہیں کہ اس یزید کے وکیلوں نے یزید خبیث کی محبت میں اس روایت کی سند کی کیسے تصحیح … Continue reading یزید کے وکیل

قربت، حقارت کو جنم دیتی ہے

انگریزی کا مقولہ ہے (Familiarity Breeds Contempt) یعنی ۔ ۔ ۔ “قربت، حقارت کو جنم دیتی ہے”۔ ہم جس قدر کسی کے قریب ہوتے ہیں اتنا ہی اس میں غلطیاں تلاش کرنے کا رجحان اور امکان بڑھ جاتا ہے۔ کئی بار یہ گمان ہو تا ہے کہ ہمارے ہاں یہ محاورہ اس بات کی کسوٹی بن سکتا ہے کہ کون کون درحقیقت مسلمان ہے۔ آپ دیکھیے، جس شدومد سے تکفیر و تحقیر کے نعرے مسلمان گروہ ایک دوسرے کے لیے بلند کرتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ان کے خلاف نہیں کرتے جو سکہ بند غیر مسلم ہیں۔ بلکہ … Continue reading قربت، حقارت کو جنم دیتی ہے

مولانا منظور نعمانی

مولانا منظور نعمانی ہندوستان کے ایک بڑے عالم، الفرقان لکھنؤ کے مدیر اور معارف الحدیث سمیت متعدد علمی کتابوں کے مؤلف تھے. ان کے والد گرامی خوش عقیدہ بزرگ اور پیر تھے. بہت باقاعدگی سے ہندوستان میں ہونے والے عرسوں میں شریک ہوتے. بیٹے کو دینی تعلیم دلانا چاہتے تھے، اور اپنے ہم مسلک علما کا کوئی قابل ذکر ادارہ نہیں تھا. اس لیے دیوبند بھیج دیا اور یہ سوچا کہ فارغ ہو کر واپس اپنے مسلک پر آ جائے گا. مولانا منظور نعمانی لکھتے ہیں کہ ایک دن میرے والد دوران سفر مجھے ملنے کے لیے دیوبند اترے اور … Continue reading مولانا منظور نعمانی

بدترین فرقہ پرست جماعت اہل حدیث ہیں: ڈاکٹر اسرار کے فرقہ وارانہ نفرت پر مبنی رویے

اپنی تقریروں میں ڈاکٹر اسرار احمد نے مختلف مکاتیب فکر پر رکیک حملے کیے ہیں اور ان پر کفر، شرک اور بدعت کے الزامات لگائے ہیں – اب اس تقریر میں ڈاکٹر اسرار احمد اہل حدیث کو نشانہ بنا رہے ہیں – ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ: “میں یہاں عرض کروں گا کہ اہل حدیث تحریک جو ہے وہ بھی ایک زمانے میں بہت زور دار طریقے سے رد بدعات، مشرکانہ اوہام کی نفی کے لیے اٹھی تھی۔ لیکن بہت جلد یہ تحریک صرف چند شعائر تک خود کو محدود کر کے انتہائی تنگ نظر فرقے کی صورت اختیار کر … Continue reading بدترین فرقہ پرست جماعت اہل حدیث ہیں: ڈاکٹر اسرار کے فرقہ وارانہ نفرت پر مبنی رویے