تاریخ کے بارے میں غیر علمی روئیے — طفیل ہاشمی


مسلمانوں میں علم حدیث میں جرح و تعدیل نے تاریخ نویسی، طبقات نگاری اور وقائع قلم بند کرنے کے رجحان کو اوج ثریا پر پہنچا دیا تھا . تاریخ نگاروں کا استقصا کرنا اور انہیں کنٹرول کرنا کسی ریاست کے بس میں نہیں تھا نیز علم جرح و تعدیل نے مسلم وقائع نگاروں میں راست گوئی کو اس حد تک مستحکم کر دیا تھا کہ کسی بھی واقعہ کے حوالے سے چند ایک تاریخی مراجع کا موازنہ کر کے امر واقعہ کا کھوج لگانے میں کوئی دقت نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہوتی . تاریخ کی برہنہ گوئی بالعموم ظالم اور جرائم پیشہ طبقات نیز اشرافیہ اور حکمرانوں کو زہرلگتی ہے، اس لئے قدیم دور سے حکمران تاریخ کی مذمت یا مرضی کی تاریخ نگاری کا رویہ اختیار کئے رہے. حافظ ابن حجر کے شاگرد سخاوی نے تاریخ کی مذمت کرنے والوں کی مذمت اور تاریخ کی افادیت پر ایک معرکہ الآراء کتاب الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاريخ کے نام سے تالیف کی تھی، جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر محمد یوسف نے کراچی سے طبع کروایا تھا. چونکہ تاریخ میں مذکور واقعات، اسباب اور نتائج کا دفاع کرنا کسی بھی فرقے کے چورن فروشوں کے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے انہوں نے یہ کوشش جاری رکھی ہوئی ہے کہ لوگوں کو باور کرائیں کہ تاریخ رطب و یابس کا مجموعہ ہے. جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ فورا اس کا موازنہ ادبیات حدیث سے کرنےلگتے ہیں
واقعہ یہ ہے کہ ادبیات حدیث میں بھی دوطرح کا مواد ہے، ایک وہ جو قرآن کی تبیین اور سنت رسول ہے اس کا استناد بلاشبہ قرآن کی طرح ہے بلکہ بعض مواقع پر قرآن سے بھی بڑھ کر
لیکن اسی ادبیات کا ایک بڑا حصہ تاریخ سے متعلق ہے اور رسول اللہ سے منسوب ہونے کے باعث اسے حدیث کہا جاتا ہے ورنہ اس کی بھی اصل حیثیت تاریخ کی ہے. مثلاً فلاں غزوہ کب ہوا، کتنے لوگ شریک تھے، کون سا دن تھا، سفر کی تفصیلات، اس نوع کے ہزار ہا واقعات ہیں جو اصلا تاریخ ہیں
اور تاریخ کوئی بے وقعت شعبہ علم نہیں. اگر ہم قرآن کا مطالعہ کریں تو لگ بھگ دو تہائی یا اس سے بھی زائد تاریخ بیان ہوئی ہے. قرآن سے تاریخ کو الگ کر دیں تو پیچھے چند عقائد، چند عبادات، چند فقہی مسائل اور چند اخلاقی اقدار ہی باقی بچتے ہیں جو تھیوریز سے تعلق رکھتے ہیں. قرآن کی عملی تعبیر، تفسیر، اور تنفیذ و نتائج تمام تر تاریخی واقعات کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں.
قرآن حکیم نے قصہ آدم سے لے کر وصال نبوی سے چند روز پہلےتک کی تاریخ کو موضوعاتی اسلوب میں بیان کر کے ہمیں قرآن کے ذریعے یہ ہدایت دی کہ تم اس کے بعد بھی مسلسل تاریخ پر نظر رکھنا
یہ ایک ایسا ذریعہ علم و ہدایت ہے جس کے سوتے کبھی خشک نہیں ہوں گے.
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کلام اللہ کے ذریعے الوہی ہدایت کی تکمیل ہو گئی لیکن مظاہر فطرت اور تاریخی عمل کے ذریعے ہردور میں الوہی ہدایت کا تسلسل موجود ہے اور اس کی طرف قرآن حکیم کے ایک ایک صفحے میں رہنمائی کی گئی ہے.
تاریخ کو بے اعتبار سمجھنا یا اس کی تحقیر کرنا الوہی وسائل ہدایت کی تحقیر ہے.

————-

طوالت پر معذرت، بغور بنظرِ انصاف مطالعہ فرمائیے – مفتی محمد زاہد

بعض جزوی بحثوں میں لوگ لگے ہوتے ہیں مگر میرے نزدیک اس میں منہج اہم ہوتا ہے. مثلاً قدروی کنز میں امام ابو حنیفہ اور صاحبین کا مذہب بلاسند لکھا ہوا ہے، تھذیب الکمال، تھذیب التھذیب، میزان الاعتدال میں احوالِ رواۃ بلا سند لکھے ہوئے ہیں، ابن المنذر کی کتابوں میں، الاستذکار میں، مغنی ابن قدامہ میں فقہا کے اقوال لکھے ہیں مگر سند نہیں ہے. اب اس بارے میں دو منہج ہو سکتے ہیں، مگر جس منہج کو اختیار کریں پھر حتی الامکان اسی پر قائم رہیں.
ایک منہج یہ ہوسکتا ہے کہ ہم بلا سند متصل اور محدثین کے اصولوں پر پرکھے بغیر کتابوں میں لکھی ہوئی کوئی بات نہیں مانیں گے، اگر یہ منہج ہے تو پھر ہر جگہ یہی منہج ہونا چاہیے. مگر اس صورت میں میں اپنے علوم وفنون کے بہت بڑے حصے سے دست بردار ہونا پڑے گا.
دوسرا منہج یہ ممکن ہے کہ جن کتابوں کو اپنے فن میں معتبر مانا گیا ہے ان میں لکھی باتوں کو اصلا تو قابلِ تسلیم سمجھا مگر دو بڑے استثناءات کے ساتھ. ایک یہ کہ حدیثِ رسول میں پھر بھی احتیاط برتی جائے (جس کے اصول اپنی جگہ مدون ہیں) دوسرے جہاں دیگر قرائن یا متعارض اقوال وغیرہ قبول کرنے میں تردد پیدا کریں وہاں مزید تحقیق کرلیں، توقف کرلیں یا اسے رد کر دیں. عام حالات میں قبول کرلیں. مفتی محمد شفیع صاحب رح نے پاکستان کی اراضی کے فقہی احکام مرتب کرنے سے فتوحات کی تفصیل لکھی ہے. مفتی اعظم پاکستان تاریخ برائے تاریخ نہیں لکھ رہے تھے بلکہ فقہی احکام کے لیے امر واقعہ کی تنقیح کر رہے تھے، مگر انھوں نے تاریخ کے بلا سند چند متون کو بنیاد بنایا اور جس بات کے رد کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آئی اسے لے لیا.
عطیہ عوفی کے حالات میں متعدد اہلِ رجال نے لکھا ہے جن حافظ عسقلانی کی تھذیب التھذیب جیسی متثبت کتاب بھی شامل ہے کہ حجاج بن یوسف کے کہنے پر محمد بن قاسم نے عطیہ عوفی کو حضرت علی کو برا نہ کہنے کی پاداش میں چار سو کوڑے لگائے اور ڈاڑھی بھی منڈوادی.
یہ ایک جزوی واقعہ ہے، اس لحاظ سے مجھے اس پر بحث کی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ اگر اس نے کیا ہے تو وہ بد بخت ترین جانور ہے. مگر منہج کے حوالے سے سوال یہ ہے کہ اگر اگر آپ کا پہلا منہج ہے تو آپ اس واقعے کو ضرور رد کر دیجیے. مگر ساتھ ہی تمام متون معتبرہ وغیرہ میں بلا سند باتوں کو رد کر دیجیے، اور حوصلہ کرکے کہہ دیجیے جنھوں نے دوسرا منہج اختیار کیا ہے ان سے منہجی غلطی ہوئی ہے، بشمول مفتی اعظم پاکستان رح.
اگر آپ دوسرا منہج لے کر چل رہے ہیں تو معتبر کتابوں میں درج اس واقعے کو رد کرنے کی کوئی وجہ مجھے سمجھ میں نہیں آتی، اس لیے کہ اس حوالے سے ان حکومتوں کا جو رویہ تواتر سے ثابت ہے یہ واقعہ اس سے بالکل مطابقت رکھتا ہے. چلو یہ واقعہ سو فی صد قبول نہیں تو اس واقعے کے صدور کے کافی حد تک امکانات تو ہیں. جو حضرات آئے روز سبِّ صحابہ کے خلاف ٹرینڈ چلاتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں صحابہ کا مخالف ہمارا کچھ نہیں لگتا وہ محمد بن قاسم کے بارے میں کیا کہیں گے.
یہاں بات صرف دو ممکنہ منہجوں کی ہے اور آخری سوال ہے. میں اپنا ذوق الگ سے لکھوں گا. راجا داہر بھی موضوعِ بحث نہیں ہے.

میں بات لمبی نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر اب ذرا وضاحت سے عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ محمد بن قاسم کے بارے میں جس صلاح اور پارسائی کی بعض افراد بات کر رہے ہیں وہ ثابت بھی ہو تب بھی سبِّ علی سے انکار پر کوڑے مارنے کے سیاسی جرم سے مانع نہیں ہے. خوارج کا اس طرح کا صلاح اور ان کی پارسائی اس سے بھی بڑی مسلمہ تاریخی حقیقت ہے اور منصوص باحادیث کثیرہ بھی ہے مگر چونکہ ان کا سیاسی فہم اور رجحان غلط تھا اس لیے اس طرح کے سیاسی سنگین جرائم ان سے سرزد ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بدترین لوگ کہا. عبد الرحمن بن ملجم اپنی عام زندگی میں بہت پارسا تھا، اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اتنے پارسا شخص کی طرف قتلِ علی کی نسبت غلط ہے. وجہ یہی ہے کہ ظاہری پارسائی کے باوجود اس کے دماغ کا سیاسی کیڑا اور خناس غلط تھا. یہی معاملہ امویوں اور شامیوں کا تھا، سیاسی رجحان ان کا بھی حضرت علی کے خلاف تھا اور یہ امر بہت مشہور ومعروف ہے. بلکہ سیاسی مخالفت کی صورت میں ان کے ہاں صحابیت کوئی معنی نہیں رکھتی تھی. ابن قاسم تو حجاج کا بھتیجا اور دستِ راست تھا، اس لیے اس کی بہادری اور ظاہری صلاح ثابت بھی ہوجائے تب بھی یہ حرکت بالکل قرینِ قیاس ہے. میں اتنا لمبا لکھتا نہیں ہوں آپ کے صاحبِ علم ہونے کی وضاحت کرنا مناسب ہوگا. پھر ہمارا دیوبندیوں کا روایتی استدلال بھی آپ کے آڑے آئے گا متقدمین کو اس روایت پر یہ اشکال کیوں نہیں ہوا

تاریخ کی معتبر کتاب؟
اللہ کے نبی نے بتادیا تھا کہ اس امت میں خیر ہمیشہ موجود رہے گی مگر کچھ عرصے کو چھوڑ کر امت میں الٹے سیدھے کام کرنے والے اور پچھلی قوموں کے راستے پر چلنے والے بھی کم نہیں ہوں گے. بالخصوص سیاسی نظام کے بری طرح ڈی ٹریک ہونے پر کئی حدیثیں بھی موجود ہیں اور بے شمار تاریخی شواہد بھی، اگرچہ درمیان درمیان میں اچھے حکمران بھی آتے رہے، برے حکمران بھی بعض اچھے کام کرلیا کرتے تھے. اس لیے مسلمانوں کی معتبر تاریخ وہی ہوگی جس میں اچھائی کے ساتھ گندگی کے ڈھیر بھی دکھائے گئے ہوں. ہمارے مولوی لوگوں میں بکثرت سوال ہوتا ہے کہ تاریخ کی معتبر کتاب بتائی جائے. “معتبر” کتاب سے مراد ہوتا ہے جس میں صرف ہریالی ہی دکھائی گئی ہو اور راوی نے چین ہی چین لکھا ہو. یاد رکھیں ایسی کتاب قصیدہ تو ہو سکتی ہے تاریخ نہیں. “معتبر تاریخ” کے تصور نے ہمارا مزاج بنا دیا ہے کہ اپنی تاریخ میں گندگی کے ڈھیر دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور تاویل بازی پر اتر آتے ہیں

….

انکار تاریخ، انکار حدیث اور رومانوی ہیروز کی تلاش — منقول

تاریخ کونرگسیت کا یہ چولا چند افراد نے پہنایا اپنے مرکزی سلوگن ” عجمی سازش ” کے عنوان تلے ۔ چالاکی یہ کی بعض حقیقی لیکن ناخوشگوار تاریخی واقعات پر جذباتی ملمع سازی اور عقائد کا چھڑکاو کر کے تاریخ کا انکار کیا اور پھر تاریخ کو ہی بنیاد بنا کر اصل نشانہ حدیث کو بنایا ۔ تاریخ کا انتخاب اس نے اس لیے کہ اس کے انکار کے زریعہ سادہ لوح مذہبی طبقے کو شیشہ میں اتارا جاسکتا ہے اور مرضی کے مطابق رومانوی ہیروتخلیق کیے جا سکتے ہیں، اور پھر انکار تاریخ پر قدم رکھ کر علم حدیث کو مشکوک کیا جاسکتا ہے ۔ چنانچہ منکرین تاریخ یا اس کو از سر نو لکھنے کے کوشاں احباب نے طبری ، واقدی ، ابن اسحاق اور مقاتل سے نہایت ہی چنندہ تنقید کا آغاز کیا اور بخاری و مسلم پر آکر بریک لگائی ۔ ان لوگوں نے تو پرکاری سے اپنے خاص مشن (انکار حدیث) اور مقصد کی برآری کے لیے تاریخ کو نشانہ بنایا، مگر مذہبی طبقے کا ایک حصہ اپنی سادگی یا رومانوی ہیروز کی تلاش میں ایک سطحی بیانیہ کے تحت انکار تاریخ کی راہ پر چل پڑا اور تاریخ پر ہاتھ صاف کرنے کی مہم چلا دی، اور بے سوچے سمجھے یہ جذباتی نعرہ زبان زد عام کرنے کی کوشش کی کہ ہم قرآن (کی اپنی مزعومہ فہم) کے مقابلے میں تاریخ کو نہیں مانتے

….

من پسند تاریخ کی تلاش … ماخوذومنقول

‎یزید کا دفاع مقصود ہو یا حجاج بن یوسف اور محمدبن قاسم کی رومانوی شجاعت بیان کرنی ہو،تو بعض احباب جو عمومی طور پر اسلامی تاریخ کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے، انہی کتب سے بے سند، متروک روایات کو قطعی حجت کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ انکار تاریخ کرنا ھے تو پوری طرح سے کریں۔

ایسے افراد تاریخ کی اولین کتب اور سنی شیعہ کے نزدیک مستند روایات اور حدیث کی اولین اورصحیح کتب کا انکار وہاں کرتے ہیں جہاں ان کے ناصبی عقائد اور ایجنڈا پر چوٹ پڑتی ہے۔ جیسا کہ احد، خیبر،جمل، صفین، کربلا اور حرہ بارے مستند احادیث اور تواریخ کو جھٹلانا ۔ اور اسی تاریخ سے ملوکیت کے زیر اثرغیر مستند اور من گھڑت روایات اور تاویلوں کا سہارا لے کریہ اس دور کے صاحبان اقتدار کا دفاع کرتے ہیں اور ملوکیت کے اقدامات کی توجیہ پیش کرتے ہیں۔

ایسے لوگ اولین اورمستند تاریخ کے منکر اور اس کی خود ساختہ تحریر نوکے قائل ہیں – غزوہ بدر اور دیگر تاریخی واقعات یوں بیان کرتے ہیں جیسے عینی شاہد ہوں جبکہ جمل، صفین، کربلا اور حرہ کا یوں انکار کرتے ہیں جیسے یہ واقعات کبھی ہوئے ہی نہیں یا بالکل غیر مستند ہیں کیونکہ ان کے رومانوی اور خود ساختہ نظریات کو زک پہنچتی ہے۔ تاریخ بارے ان کا طرز عمل میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو کے مصداق ہے اورتحقیق کے سائنسی اصولوں کے بالکل منافی ہے