آں امام عاشقاں پور بتول

آں امام عاشقاں پور بتول
سرو آزادے زبستان رسول
اللؔہ اللؔہ، باے بسم اللؔہ پدر
معنی ”ذبح عظیم“ آمد پسر
موسیٰ و فرعون، شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید
زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد
بہر حق درخاک و خوں غلطیدہ است
پس بنائے لا الہ گردیدہ است
مدعایش سلطنت بودے اگر
خود نکردے با چنیں سامان سفر
تیغ بہر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس
رمز قرآں از حسین آموختم
زآتش او شعلہ ہا اندوختم
(اقبال)

ترجمہ:
وہ عاشقوں کے امام سیدہ فاطمہ سلام الله علیھا کے فرزند جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے باغ کے سرو آزاد تھے۔ اللؔہ اللؔہ کیاکہنےکہ باپ بسم اللؔہ کی”با“ہیں توبیٹا ”ذبح العظیم“ کی مثال ہیں زندگی کے بطن سے متضاد قوتوں نے جنم لیا جیسے موسیٰ اور فرعون، جیسے شبیر (امام حسین) اور یزید ۔حق بہرحال قوت شبیری کے زور پر ہی زندہ رہتا ہے اور آخر کار داغ حسرت لے کر فنا ہو جانا، باطل کا مقدر ہے
انہوں نے قیامت تک کے لئے استبدادو آمریت کی جڑکاٹ ڈالی اور ان کی موج خون نے ایک نیا چمن پیدا کیا۔
اگر ان کا مقصود سلطنت حاصل کرنا ہوتا تو اتنے تھوڑے ساز و سامان کے ساتھ یہ سفر اختیار نہ کرتے۔
ان کی تلوار صرف عزت دین کے لئے ہے اور اس کا مقصد صرف شریعت کی حفاظت کرناہے۔
ہم نے قرآن کے رموز سیدنا حسین سے سیکھے ہیں ان کی روشن کی ہوئی اگ سے ہم نے آزادی کے شعلے اکٹھے کئے ہیں

علامہ محمد اقبال