محسن انسانیت کے محسن کو ہمارا سلام

جمہور اہلسنت اور اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم محسن انسانیت ہیں اور ان کو باپ جیسا پیار اور سہارا دینے والی شخصیت کا اسم گرامی حضرت ابو طالب رضی الله عنہ ہے جنہوں نے اپنے والد حضرت عبد المطلب رضی الله عنہ کی وفات کے بعد آقا کریم صلی الله علیہ والہ وسلم کی چالیس برس تک پرورش، حفا ظت اور اعانت کی اور ابو جہل اور ابو سفیان جیسے دشمنوں کے مقابلے میں اپنی زوجہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی الله عنہا ، بیٹے علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ اور ام المومنین حضرت خدیجہ رضی الله عنہا کے ہمراہ دشمنان اسلام اور مشرکین مکہ کا سامنا کیا ، شعب ابی طا لب میں ابو سفیان اور ابو جہل کے ظالمانہ محاصرے کے نتیجے میں حضرت خدیجہ اور حضرت ابو طالب رضی الله عنہم انتقال کر گئے اور رسول الله نے اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا – حضرت ابو طالب رضی الله عنہ کا شمار حضرت خدیجہ، حضرت علی، حضرت ابو بکر، حضرت فاطمہ بنت اسد رضی الله عنہم کے ہمراہ اولین مسلموں میں سے ہیں، آپ نے ہی حضور اکرم کا نکاح حضرت خدیجہ سے پڑھا یا تھا –
حضرت ابو طالب رضی الله عنہ نے ہی وہ تاریخی فقرہ ادا فرمایا کہ اے بھتیجے (صلی اللہ علیہ وسلم)، میں اسلام اور آپکے دفا ع میں تما م مشکلات کے مقابل آپ کی امداد کروں گا – حضرت ابو طالب (رضی الله عنہ) آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مضبوط ترین سہارا تھے یہی وجہ ہے کہ آپ کے انتقا ل کے بعد ابو جهل اور ابو سفیان جیسے مشرکین نے رسول الله کو شہید کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا اور آقا کریم کو ہجرت کا قدم اٹھانا پڑا جس میں آقا کریم کے یار غار حضرت ابو بکر رضی الله عنہ آپ کے ہمراہ تھے جبکہ حضرت علی کرم الله وجہ بستر رسول پر استراحت فرما ہوۓ اور قران کریم کی آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی – و من الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله والله رؤف بالعباد – اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے

فتنہ خوارج اور ملوکیت بنو امیہ میں جب اہلبیت النبی اور آل محمد سے دشمنی عروج پر پہنچ گئ تھی،اس وقت چند بد بخت نواصب (دشمنان اہلبیت) نے یزید پلید اور ملوک بنی امیہ کے دفاع اور اہلبیت کی تنقیص میں جعلی روایا ت تاریخ اور حدیث کی کتب میں داخل کر دیں، چند بد بختوں نے یزید پلید کی حمایت کی اور چند نے، نعوذ باللہ، حضرت ابو طالب کو کافر قرار دے ڈالا – یہی وہ بدبخت نواصب اور خوارج ہیں جنہوں نے کتب تاریخ اور حدیث میں نقب زنی کی اور حضرت ابوطالب رضی الله عنہ کے علاوہ آقا کریم کے والدین ماجدین رضی الله عنہم کو بھی مشرک اور جہنمی قرار دے دیا، استغفراللہ ، اہلسنت ایسی تمام من گھڑت روایات کو مستر د کرتے ہیں اور تمام نواصب و خوارج ، جھوٹے راویوں اور ان کے تائد کنندگان یزیدیوں کی مذمت کرتے ہیں – محسن انسانیت صلی الله علیہ والہ وسلم کے محسن حضرت ابو طالب رضی الله عنہ کی حرمت پر ہماری لاکھ جانیں قربان