تاریخ اسلام کا ایک جائزہ – علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی

عہد رسالت (ص)سے ہی ایک بدبخت گروہ چلا آتا تھا جس کی اہلبیت خاص طور پر مولا علی کرم الله وجہہ الکریم سے گہری عداوت تھی،فتنہ خوارج اور ملوکیت بنو امیہ میں اس دشمنی نے ناصبیت کا روپ دھار لیا – وجہ صاف ظاہر ہے کہ حضرت علی شیر خدا تھے اور رسول الله علیہ الصلوات والسلام اور اسلام کی مدافعت میں آپ نے بیسیوں دشمنوں کو غزوات اور دیگر جنگوں میں ہلاک کیا، ان کے ورثا میں چند منافقین بھی تھے جن کی حضرت علی سے عداوت تھی، اموی ملوکیت اور اس کے بعد نواصب و خوارج نے تاریخ اور حدیث کی کتب میں چند ایسی من گھڑت روایات داخل کر دیں جن کا مقصد اہانت اہلبیت رضی الله عنہم ہے – آج کے دور میں اسی طرز کے نواصب محمود عباسی اور اس قبیل کے دیگر بد بختوں کی شکل میں نظر آتے ہیں، اہلبیت کی طہارت کا گواہ قرآن کریم خود ہے، اہلسنت اکابرین کا یہ متواتر اور مسلم عقیدہ ہے کہ تاریخ اور حدیث میں ایسی تمام روایات جن سے اہلبیت کی تنقیص ہو یا ان کے دشمنان مثلا یزید پلید اور دیگر ملوک اور ظالموں کی حمایت کا پہلو نظر آئے، ایسی تمام جھوٹی کہانیوں کو رد کیا جائے – ناصبی بد بختوں کا اسلام سے قطعی کوئی تعلق نہیں (علامہ شاہ احمد نورانی، رحمہ الله)