رقص سماع اور دھمال صوفیاء میں ہزار سال سے زا‏ئد عرصے سے رائج رسم ہے

حال ہی میں کچھ خالصیت پسند ملاؤں نے مزارات مقدس اور عام شہریوں کے خلاف تکفیری دہشت گردوں کی کاروائیوں کے خلاف عوام کے غصّے کا رخ پھیرنے کے لئے رقص سمااوردھمال کے غیر شرعی ہونے بارے باتیں کرنا شروع کردی ہیں۔اور تاریخ کو مسخ کرنے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ایسے مولوی تصوف کے دشمنوں اور اسلام کے تکثیریت پسند چہرے کو شرک و بدعت کہنے والی قوتوں کی ایجنٹی کے سوا کچھ نہیں کررہے –
اس ویڈیو میں ترک قبرص کے مفتی شیخ عادل ناظم حقانی نقشبندی کے حلقہ صوفیاء کے رقص سماع کی تقریب کا منظر ہے۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دف کے ساتھ ساتھ رقص سماع دھمال بھی جاری ہے۔ہمارے ہاں دھمال بھی اسی رقص سماع کی ایک مقامی شکل ہے۔یہ رقص سماع ترک قبرص کی جامع مسجد میں ہورہا ہے اور ترکی،وسط ایشیاء ،ایران، عراق،مصر،لبنان،شام کے اندر رقص سماع اکثر صوفی حلقوں میں معروف ہے
مینوں نچ کے یار مناون دے

تو آن قاتل کہ از بہر تماشہ خون من ریزی
من آن بسمل کہ زیر خنجر خونخوار می رقصم
(عثمان مروندی، عرف لال شہباز قلندر)

تو وہ قاتل ہے جو تماشہ کرنے کیلئے میرا اخون بہاتا ہے
میں وہ بسمل ہوں جو خونخوار خنجر کے نیچے بھی رقص کرتا ہوں